بیک چینل خدشات: PTI کی وزیر داخلہ Mohsin Naqvi کے ساتھ خفیہ سکیورٹی ملاقات نے پارٹی میں بغاوت چھیڑ دی
پاکستان کی اعلیٰ اپوزیشن قیادت اور بااثر وزیر داخلہ کے درمیان ایک خفیہ ملاقات نے پارٹی اتحاد کے تاثر کو چکنا چور کر دیا ہے، جس سے اڈیالہ جیل میں قید Imran Khan کے قریبی ساتھیوں اور پس پردہ مذاکرات کرنے والے عملی پسندوں کے درمیان ایک خطرناک خلیج واضح ہو گئی ہے۔
While the core event and internal friction are corroborated by multiple high-trust sources, the brief utilizes highly dramatic language ('clandestine,' 'dangerous disconnect') to frame the incident. The 'Disputed Claims' tag reflects the ongoing tension between the PTI's institutional leadership and the founder's family regarding the authorization of state engagements.

"بیرسٹر گوہر اور سہیل آفریدی نے Mohsin Naqvi سے ملاقات کی۔ ہمارے خاندان کو اس ملاقات کا کوئی علم نہیں تھا اور نہ ہی خاندان کا کوئی فرد وہاں موجود تھا۔"
تفصیلی جائزہ
یہ ملاقات PTI کے اندر طاقت کے نازک توازن کی نشاندہی کرتی ہے۔ اگرچہ پارٹی قیادت کا موقف ہے کہ یہ بات چیت صرف بنوں کے سکیورٹی بحران تک محدود تھی، لیکن اس کے وقت اور ابتدائی رازداری سے لگتا ہے کہ پارٹی اور ریاست کے درمیان پل بنانے کی شدید ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ ایک ایسے سیاسی ماحول میں جہاں PTI اور عسکری حمایت یافتہ اسٹیبلشمنٹ آمنے سامنے ہیں، کسی بھی غیر مجاز رابطے کو کارکنوں کی جانب سے Imran Khan کے 'سمجھوتہ نہ کرنے' والے بیانیے سے غداری کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
بیانیے میں تضادات اندرونی رابطوں کے فقدان اور پارٹی کے سیاسی ونگ اور خان فیملی کے درمیان ممکنہ دراڑ کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ایک ذریعے کا دعویٰ ہے کہ علیمہ خان کے عوامی انکار تک اس ملاقات کو چھپایا گیا، جبکہ پارٹی ترجمان کا کہنا ہے کہ خاندان کو جان بوجھ کر دور رکھا گیا کیونکہ یہ خالصتاً حکومتی معاملہ تھا۔ یہ کشمکش ظاہر کرتی ہے کہ PTI کا 'فیملی' دھڑا اور 'سیاسی' ونگ Imran Khan کی رہائی کے لیے مختلف حکمت عملیوں پر عمل پیرا ہو سکتے ہیں۔
پس منظر اور تاریخ
PTI اور ریاست کے درمیان کشیدگی 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد عروج پر پہنچ گئی تھی، جس کے نتیجے میں پارٹی کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن ہوا اور بانی PTI Imran Khan کو جیل بھیج دیا گیا۔ تب سے PTI ایک مشکل راستے پر ہے، جہاں اسے ایک طرف اپنے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے کو برقرار رکھنا ہے تو دوسری طرف خیبر پختونخوا میں حکومت چلانے کی عملی ضروریات کو بھی پورا کرنا ہے۔
تاریخی طور پر، پاکستان میں 'بیک چینل' مذاکرات اکثر عسکری اور انٹیلی جنس اداروں کی ثالثی میں ہونے والے سیاسی سمجھوتوں کا پیش خیمہ رہے ہیں۔ Mohsin Naqvi، جنہیں عسکری قیادت کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا ہے، ایک اہم گیٹ کیپر کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس ملاقات کے گرد گھومنے والے شکوک و شبہات ان دہائیوں پرانے سیاسی چکروں کی عکاسی کرتے ہیں جہاں پارٹیوں کے موقف میں اچانک تبدیلی سے پہلے ایسی ہی خاموش ملاقاتیں ہوا کرتی تھیں۔
عوامی ردعمل
عوامی اور ادارتی ردعمل گہرے شک اور اندرونی الجھن پر مبنی ہے۔ PTI کے سخت گیر حامیوں میں دھوکے کا احساس پایا جاتا ہے، جو Mohsin Naqvi کے ساتھ کسی بھی رابطے کو مزاحمت کی کمزوری سمجھتے ہیں۔ دوسری جانب، عملی پسند مبصرین اسے صوبے میں امن و امان کے لیے ایک ناگزیر قدم قرار دے رہے ہیں۔
اہم حقائق
- •PTI چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے 14 مئی 2026 کو وزیر داخلہ Mohsin Naqvi سے ملاقات کی۔
- •ملاقات کا محور بنوں میں سکیورٹی کی صورتحال تھی، جہاں ایک دہشت گرد حملے میں دو پولیس اہلکار اور دو عام شہری جاں بحق ہوئے تھے۔
- •Imran Khan کی ہمشیرہ علیمہ خان نے سوشل میڈیا پر اس ملاقات سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے تصدیق کی کہ خاندان کو اس بارے میں مطلع نہیں کیا گیا تھا۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔