علم کی بدلتی ہوئی اہمیت: ایک پوری نسل یونیورسٹی کے خواب پر سوال کیوں اٹھا رہی ہے؟
جیسے جیسے اعلیٰ تعلیم کا روایتی راستہ غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو رہا ہے، ہم ایک ایسے موڑ پر کھڑے ہیں جہاں علم کے حصول کو اب زندگی بھر کے قرض کے ترازو میں تولا جا رہا ہے۔
This brief synthesizes data from the British Social Attitudes survey via The Guardian; while the data is statistically grounded, the reporting reflects a narrative commonly found in left-leaning media that critiques the privatization of higher education.

"سروے سے معلوم ہوا ہے کہ نئی نسل کے گریجویٹس، جنہوں نے فیس کا موجودہ سسٹم دیکھا ہے، ان لوگوں کے مقابلے میں زیادہ مایوس ہیں جنہوں نے کبھی فیس ادا نہیں کی تھی۔"
تفصیلی جائزہ
سوچ میں یہ تبدیلی ریاست اور اس کے نوجوانوں کے درمیان سماجی معاہدے پر نظرثانی کا اشارہ ہے۔ دہائیوں تک یونیورسٹی ڈگری کو سماجی ترقی اور مالی تحفظ کا راستہ بنا کر پیش کیا گیا، لیکن اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ تقریباً ایک تہائی آبادی کے لیے اب یہ سرمایہ کاری اپنی قیمت کے مطابق نہیں رہی۔ یہ صرف پیسوں کی بات نہیں ہے، بلکہ اس پر بھی سوال ہے کہ کیا تعلیم کا یہ روایتی ماڈل تیزی سے بدلتی ہوئی عالمی معیشت کے لیے اب بھی موزوں ہے یا نہیں۔
یہ رپورٹنگ جہاں فیس ادا کرنے والوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی کو ظاہر کرتی ہے، وہیں یہ نسلوں کے درمیان ایک بڑے فرق کی بھی نشاندہی کرتی ہے۔ پرانے گریجویٹس، جنہوں نے سرکاری خرچ پر تعلیم حاصل کی، وہ ڈگری کو ذہنی بالیدگی کا ذریعہ سمجھتے ہیں، جبکہ نئی نسل اسے ایک مہنگے مالی سودے کے طور پر دیکھنے پر مجبور ہے۔ اگر ڈگری کی قدر اسی طرح گرتی رہی، تو ہم اپرنٹس شپ یا متبادل تعلیمی طریقوں کی طرف رجحان دیکھ سکتے ہیں جو مستقبل کے پیشہ ورانہ ڈھانچے کو بدل کر رکھ دے گا۔
پس منظر اور تاریخ
یوکے (UK) کے اعلیٰ تعلیمی نظام میں 1998 میں ٹیوشن فیس کے آغاز کے ساتھ ایک بڑی تبدیلی آئی، جس کے بعد 2012 میں اسے بڑھا کر نو ہزار پاؤنڈ سالانہ کر دیا گیا۔ اس سے پہلے یونیورسٹی کی تعلیم زیادہ تر سرکاری فنڈز سے ہوتی تھی اور اسے ذاتی فائدے کے بجائے عوامی بھلائی سمجھا جاتا تھا۔ طالب علم سے صارف (consumer) بننے کے اس عمل نے طلباء اور اداروں کے نفسیاتی تعلق کو بدل دیا ہے۔
پچھلی دو دہائیوں میں یونیورسٹی گریجویٹس کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ ہوا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ کئی شعبوں میں تنخواہیں منجمد رہیں۔ نتیجے کے طور پر، ڈگری سے حاصل ہونے والی اضافی آمدنی (graduate premium) پر اب گہری نظر رکھی جا رہی ہے کیونکہ ہاؤسنگ کے اخراجات اور تعلیمی قرضوں پر سود کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
عوامی ردعمل
مجموعی تاثر محتاط شکوک و شبہات اور نوجوانوں میں دھوکہ دہی کے احساس کا ملا جلا امتزاج ہے۔ اب یہ اتفاقِ رائے پیدا ہو رہا ہے کہ جدید ڈگریوں کا مالی بوجھ اب برداشت سے باہر ہو رہا ہے، جس سے اعلیٰ تعلیم کے بارے میں ایک تنقیدی نظریہ جنم لے رہا ہے۔
اہم حقائق
- •British Social Attitudes سروے کے مطابق، ایسے لوگوں کی شرح جو یونیورسٹی ڈگری کو سرمایہ کاری کے لحاظ سے بیکار سمجھتے ہیں، 2005 میں 14 فیصد سے بڑھ کر 2025 تک 34 فیصد ہو گئی ہے۔
- •اعلیٰ تعلیم کے نظام سے مایوسی ان نوجوان گریجویٹس میں نمایاں طور پر زیادہ ہے جنہیں بھاری ٹیوشن فیس ادا کرنی پڑی۔
- •The Guardian نے ایک عوامی انکوائری شروع کی ہے جس میں طلباء اور گریجویٹس سے ان کی کہانیاں مانگی گئی ہیں تاکہ ڈگری حاصل کرنے کے مالی اور ذاتی اثرات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔