RSS چیف نے 100 سالہ جشن پر رجسٹریشن کے مطالبات کو 'سیاسی شعبدہ بازی' قرار دے کر مسترد کر دیا
جیسے ہی Rashtriya Swayamsevak Sangh (RSS) اپنے قیام کے 100 سال مکمل کرنے کے قریب ہے، تنظیم کی جانب سے باقاعدہ رجسٹریشن اور مالیاتی جانچ پڑتال سے انکار پر ایک بڑا نظریاتی تنازع کھڑا ہو گیا ہے۔
This brief synthesizes a political confrontation between state officials and the RSS leadership; the bias tags reflect the heavily ideologically-driven arguments and rhetorical analogies used by the primary subjects to frame constitutional and religious identity.
""ہندو مذہب رجسٹرڈ نہیں ہے، بہت سی چیزیں رجسٹرڈ نہیں ہوتیں... رجسٹریشن کی ضرورت صرف انہیں ہوتی ہے جو حکومت سے فنڈز لینا چاہتے ہیں۔""
تفصیلی جائزہ
یہ تنازع بھارت میں طاقت کے توازن کے درمیان ایک بنیادی کشیدگی کو ظاہر کرتا ہے: RSS حکمران جماعت BJP کی نظریاتی بنیاد ہے، پھر بھی یہ ایک 'ثقافتی' تنظیم کے طور پر ایک منفرد قانونی گرے زون میں رہتی ہے۔ وزیر Kharge اس مطالبے کو ایک ایسی تنظیم کے لیے 'آئینی جوابدہی' قرار دیتے ہیں جس کا معاشرے پر گہرا اثر ہے، جبکہ Mohan Bhagwat اس اقدام کو 'سیاست' اور 'شعبدہ بازی' قرار دیتے ہیں جس کا مقصد تنظیم کے سو سالہ کام سے توجہ ہٹانا ہے۔ RSS کو 'ہندو مذہب' سے تشبیہ دے کر، Bhagwat اس گروپ کو ایک ایسی فطری ثقافتی اکائی کے طور پر پیش کر رہے ہیں جو ریاستی انتظامی بیوروکریسی کی پہنچ سے باہر ہے۔
اس تنازع کا وقت بہت اہم ہے کیونکہ RSS اپنی 100 ویں سالگرہ کی تیاریاں کر رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ باقاعدہ رجسٹریشن کی کمی کی وجہ سے تنظیم ان شفافیت کے قوانین سے بچ جاتی ہے جو دیگر NGOs اور سیاسی جماعتوں پر لاگو ہوتے ہیں، جس سے درحقیقت ایک خفیہ پاور اسٹرکچر بن جاتا ہے۔ دوسری طرف، RSS قیادت کا کہنا ہے کہ متعدد تاریخی پابندیوں کے باوجود ان کی بقا یہ ثابت کرتی ہے کہ ریاست نے ان کی حیثیت کو تسلیم کیا ہوا ہے۔ یہ تعطل صرف کاغذی کارروائی کے بارے میں نہیں ہے بلکہ جدید بھارت میں اثر و رسوخ کی قانونی تعریف کی ایک جنگ ہے۔
پس منظر اور تاریخ
1925 میں K.B. Hedgewar کی طرف سے قائم کردہ Rashtriya Swayamsevak Sangh (RSS) کا مقصد 'ہندوتوا' اور قومی کردار کو فروغ دینا تھا۔ اپنی تاریخ کے دوران، اسے بھارتی حکومت کی جانب سے تین بڑی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا: پہلی 1948 میں مہاتما گاندھی کے قتل کے بعد، دوسری 1975 میں ایمرجنسی کے دوران، اور تیسری 1992 میں بابری مسجد کے انہدام کے بعد۔ 1948 کی پابندی صرف اس وقت ختم کی گئی تھی جب RSS نے تحریری آئین اپنانے پر اتفاق کیا تھا، جس دستاویز کا حوالہ آج Bhagwat ریاستی تقاضوں کی تعمیل کے طور پر دیتے ہیں۔
رجسٹریشن کا مطالبہ ایک ایسا سیاسی حربہ ہے جو اپوزیشن جماعتیں اکثر RSS کے اثر و رسوخ کو چیلنج کرنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ 1950 کی دہائی سے، تنظیم نے مسلسل خود کو سیاسی جماعت یا روایتی NGO کے طور پر رجسٹر کروانے کی مزاحمت کی ہے، اور ان کا موقف ہے کہ یہ ایک رضاکارانہ مشن پر مبنی ادارہ ہے۔ رجسٹریشن کی یہ کمی بھارتی سول سوسائٹی کے قانون کے سب سے زیادہ زیر بحث پہلوؤں میں سے ایک ہے، کیونکہ یہ تنظیم ملک کے سیاسی منظر نامے پر اہم طاقت رکھتی ہے جبکہ مالیاتی انکشافات سے مستثنیٰ ہے۔
عوامی ردعمل
ادارتی جذبہ انتہائی منقسم ہے، جو گہری سیاسی تقسیم کی عکاسی کرتا ہے۔ حکومت نواز مبصرین Bhagwat کے جواب کو مذہبی اور ثقافتی خودمختاری کا مضبوط دفاع سمجھتے ہیں۔ دوسری طرف، اپوزیشن اور قانونی ماہرین رجسٹریشن سے انکار کو شفافیت سے فرار قرار دیتے ہیں، اور 'ہندو مذہب' کی تشبیہ کو قانونی جوابدہی سے بچنے کا طریقہ سمجھتے ہیں۔
اہم حقائق
- •کرناٹک کے وزیر Priyank Kharge نے ایک کھلا خط جاری کیا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ RSS خود کو ایک باقاعدہ تنظیم کے طور پر رجسٹر کرائے اور اپنے مالیاتی اور ممبرشپ کی تفصیلات ظاہر کرے۔
- •RSS چیف Mohan Bhagwat نے سرکاری طور پر اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تنظیم اپنے آغاز سے ہی کھلے عام کام کر رہی ہے اور 1950 کی دہائی میں حکومت کو تحریری آئین جمع کرا چکی ہے۔
- •RSS اس وقت پورے بھارت میں 60,000 سے زائد شاکھائیں (شاخیں) چلا رہی ہے، جبکہ وہ ایک غیر رجسٹرڈ ادارے کے طور پر کام کرتی ہے جو سرکاری فنڈنگ قبول نہیں کرتا۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔