ح
واپس خبروں پر جائیں
🔥 Trending
✨ AI BRIEF
Business & Economy9 جولائی، 2026Fact Confidence: 95%

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا 2028 تک چھوٹے کاروباروں کے لیے 1500 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کرنے کا بڑا فیصلہ

غیر دستاویزی معیشت کو قانونی دائرے میں لانے کی ایک بڑی کوشش کے طور پر، اسٹیٹ بینک آف پاکستان 1500 ارب روپے کا داؤ لگا رہا ہے کہ چھوٹے کاروبار ملک کی ترقی کا نیا انجن بن سکتے ہیں—بشرطیکہ انہیں ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔

AI Editor's Analysis
Fact-BasedPro-State Leaning

This report accurately synthesizes official targets from the State Bank of Pakistan and industry commentary from the Pakistan Banking Summit; the 'Pro-State Leaning' tag is applied as the core narrative relies on government economic roadmaps, though the brief correctly attributes industry skepticism regarding documentation.

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا 2028 تک چھوٹے کاروباروں کے لیے 1500 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کرنے کا بڑا فیصلہ
""پرائیویٹ سیکٹر میں چھوٹے کاروباروں (SME) کو قرضہ دینے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ یہ کاروبار رجسٹرڈ نہیں ہیں، جس کی وجہ سے بینک ان کا صحیح اندازہ نہیں لگا پاتے۔ بینکنگ فنانسنگ حاصل کرنے کے لیے انہیں خود کو رجسٹر کروانا اور ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔""
Zafar Masud (Discussing the practical barriers to small business lending during the Pakistan Banking Summit 2026.)

تفصیلی جائزہ

اسٹیٹ بینک کا براہ راست قرض دینے کے بجائے ایک معاون نظام (ecosystem) کی طرف رجوع کرنا پاکستان کی مانیٹری پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی ہے۔ رسک شیئرنگ اور ڈیجیٹل سپلائی چین فنانسنگ پر توجہ دے کر، ریگولیٹر اس شعبے کے خطرات کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے جس سے بینک ماضی میں ڈیفالٹ کے خوف اور شفافیت کی کمی کی وجہ سے کتراتے رہے ہیں۔ ماہرین اسے سرکاری سیکیورٹیز کے بجائے نجی شعبے کی پیداواری سرگرمیوں میں سرمایہ کاری کا ایک سوچا سمجھا قدم قرار دے رہے ہیں۔

تاہم، دستاویزات کی کمی اب بھی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ جہاں گورنر جمیل احمد (Jameel Ahmad) جدت کو فروغ دے رہے ہیں، وہیں Pakistan Banks' Association کے ظفر مسعود (Zafar Masud) خبردار کرتے ہیں کہ بینک ان کاروباروں کا درست اندازہ نہیں لگا سکتے جو ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔ یہ ایک ایسی پیچیدہ صورتحال پیدا کر رہا ہے جہاں سرمایہ تو دستیاب ہے، لیکن کاروباروں کی رجسٹریشن سے انکار رقم کی فراہمی میں رکاوٹ بن رہا ہے۔

پس منظر اور تاریخ

دہائیوں سے پاکستان کا بینکنگ سیکٹر 'سست بینکنگ' (lazy banking) کا شکار رہا ہے، جہاں کمرشل بینک نجی شعبے کو قرض دینے کے بجائے زیادہ منافع والے سرکاری بانڈز کو ترجیح دیتے تھے۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SME)، جی ڈی پی اور روزگار میں اہم کردار ادا کرنے کے باوجود، نجی شعبے کے مجموعی قرضوں کا 7 فیصد سے بھی کم حاصل کر پاتے ہیں۔

2021 سے 2025 کے دوران 'SME آسان فنانس' جیسی اسکیموں کے ذریعے اس سلسلے کو توڑنے کی کوشش کی گئی۔ اب 2028 کا نیا روڈ میپ ان کوششوں کا تسلسل ہے، جس کا مقصد ڈیجیٹل فنانسنگ اور Fintech پارٹنرشپ کو فروغ دے کر ان روایتی رکاوٹوں کو ختم کرنا ہے جنہوں نے تاریخی طور پر مالیاتی شمولیت کو روکا ہوا ہے۔

عوامی ردعمل

مجموعی طور پر صورتحال محتاط امید کی ہے جس میں زمینی حقائق کا ادراک بھی شامل ہے۔ اگرچہ اسٹیٹ بینک کے روڈ میپ کو اس کی ہمت اور ٹیکنالوجی کے استعمال کی وجہ سے سراہا جا رہا ہے، لیکن بینکنگ انڈسٹری اب بھی اس حوالے سے شکوک و شبہات کا شکار ہے کہ کیا چھوٹے کاروبار ان فنڈز تک رسائی کے لیے رجسٹریشن اور ٹیکسیشن کے مشکل عمل سے گزرنے کے لیے تیار ہوں گے یا نہیں۔

اہم حقائق

  • اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے جون 2028 تک SME فنانسنگ کو 1500 ارب روپے تک بڑھانے کا حتمی ہدف مقرر کیا ہے۔
  • مرکزی بینک کا مقصد SME قرض داروں کی تعداد کو بڑھا کر 7 لاکھ 50 ہزار تک پہنچانا ہے، جو کہ 2021 سے 2025 کے درمیان ہونے والی ترقی پر مبنی ہے۔
  • دسمبر 2025 کو ختم ہونے والے ساڑھے چار سالہ عرصے میں SME فنانسنگ میں دوگنا سے زیادہ اضافہ ہوا اور قرض داروں کی تعداد میں 75 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔

📍 مقامات

© OpenStreetMap
📍 Karachi📍 Islamabad

ذرائع

یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔

Pakistan's Central Bank Gambles on Rs1.5 Trillion SME Liquidity Injection by 2028 - Haroof News | حروف