ح
واپس خبروں پر جائیں
🔥 Trending
✨ AI BRIEF
Business & Economy16 جون، 2026Fact Confidence: 95%

State Bank of Pakistan نے جنگ کی وجہ سے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیشِ نظر شرح سود 11.5 فیصد پر برقرار رکھی

امپورٹڈ عدم استحکام کے خلاف ایک بڑا جوا کھیلتے ہوئے، پاکستان کے مرکزی بینک نے اپنے قدم جما لیے ہیں اور شرح سود میں کوئی تبدیلی نہیں کی، کیونکہ US-Iran conflict کے اثرات ملک کی نازک معاشی بحالی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

AI Editor's Analysis
Fact-BasedSensationalized

The report provides an accurate synthesis of official economic data from the State Bank of Pakistan, but employs sensationalized language ('high-stakes gamble') to frame the central bank's adherence to its policy targets amidst regional geopolitical tension.

State Bank of Pakistan نے جنگ کی وجہ سے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیشِ نظر شرح سود 11.5 فیصد پر برقرار رکھی
""MPC نے اندازہ لگایا ہے کہ موجودہ مانیٹری پالیسی کا موقف مہنگائی کو درمیانی مدت میں 5 سے 7 فیصد کے ہدف تک لانے کے لیے بالکل موزوں ہے۔""
Monetary Policy Committee (MPC) (The State Bank of Pakistan's official justification for maintaining the status quo despite surging prices.)

تفصیلی جائزہ

ڈبل ڈیجٹ مہنگائی کے باوجود ریٹس برقرار رکھنے کا فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ مرکزی بینک اس وقت سخت مشکل صورتحال میں پھنسا ہوا ہے۔ جہاں روایتی مانیٹری تھیوری 11.7 فیصد مہنگائی کو کم کرنے کے لیے شرح سود میں اضافے کا مشورہ دیتی ہے، وہیں State Bank of Pakistan 3.7 فیصد کی گروتھ کو بچانے کو ترجیح دے رہا ہے جو پہلے ہی بجٹ کی سختیوں اور جنگ کی وجہ سے سپلائی میں خلل کا شکار ہے۔ status quo برقرار رکھ کر State Bank of Pakistan یہ شرط لگا رہا ہے کہ موجودہ ریٹس مہنگائی کو واپس ہدف پر لانے کے لیے کافی ہیں، لیکن تیل اور گندم کی وجہ سے آنے والی یہ 'امپورٹڈ' مہنگائی اس فیصلے کو ایک بڑا خطرہ بنا دیتی ہے اگر US-Iran کشیدگی مزید بڑھی۔

مارکیٹ پر اس کے اثرات فوری ہیں؛ توانائی کی قیمتوں اور مالیاتی مسائل کی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں سست ہو رہی ہیں۔ اگرچہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں اپنی بلند ترین سطح سے تھوڑا نیچے آئی ہیں لیکن یہ اب بھی پاکستانی مینوفیکچرنگ سیکٹر کے لیے ایک مستقل بوجھ ہیں۔ اسٹیٹ بینک کی 'طویل مدتی ڈبل ڈیجٹ قیمتوں میں اضافے' کی وارننگ بتاتی ہے کہ قرض لینے کی لاگت آنے والے وقت میں بھی زیادہ رہے گی، جس سے صنعتی شعبے پر دباؤ بڑھے گا جو سال کے شروع میں 6.5 فیصد گروتھ کے بعد اب مندی کا شکار ہے۔

پس منظر اور تاریخ

پاکستان کی مانیٹری ہسٹری بیرونی جھٹکوں، خاص طور پر عالمی توانائی کی مارکیٹوں اور IMF کی شرائط کے ردِعمل میں کی جانے والی تبدیلیوں کا ایک چکر ہے۔ پچھلی دہائی سے State Bank of Pakistan مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے، لیکن اکثر قیمتوں کا استحکام کرنسی کی قدر میں کمی یا مشرق وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی خلفشار کی وجہ سے ختم ہو جاتا ہے۔

موجودہ صورتحال پچھلے چکروں کی عکاسی کرتی ہے جہاں معاشی ترقی کا سفر عالمی اجناس کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے رک گیا تھا۔ 2024-2025 کی استحکام کی کوششوں کے بعد، مالی سال 26 پاکستان کے صنعتی شعبے کے لیے ایک بہترین سال ہونا تھا۔ تاہم، US-Iran جنگ کے اچانک آغاز نے پاکستانی معیشت میں ایک نیا 'رسک پریمیم' شامل کر دیا ہے، جس نے بینک کو دوبارہ اسی طرح کے دفاعی موقف پر مجبور کر دیا ہے جیسا 2020 کے اوائل میں دیکھا گیا تھا۔

عوامی ردعمل

ایڈیٹوریل جذبات مرکزی بینک کے 'دیکھو اور انتظار کرو' کے رویے کی محتاط قبولیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ یہ واضح تشویش موجود ہے کہ مرکزی بینک مہنگائی کے خلاف جنگ ہار رہا ہے، جو تین ماہ میں تقریباً دگنی ہو گئی ہے، لیکن پھر بھی شرح سود بڑھانے کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ اس سے معیشت مزید مندی کا شکار ہو سکتی ہے۔ کاروباری طبقے میں خوف کی فضا ہے، کیونکہ 'ڈبل ڈیجٹ' کی وارننگ معیشت کے لیے ایک طویل اور مہنگے دور کا اشارہ دے رہی ہے۔

اہم حقائق

  • State Bank of Pakistan نے جون 2026 کی MPC میٹنگ کے دوران بینچ مارک پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھا۔
  • مئی 2026 میں ہیڈ لائن انفلیشن (مہنگائی) 11.7 فیصد تک پہنچ گئی، جو مارچ میں 7.3 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔
  • علاقائی عدم استحکام کے باوجود مالی سال 26 میں پاکستان کی معیشت نے 3.7 فیصد کی شرح سے ترقی کی، جو پچھلے سال کی 3.2 فیصد کی شرح سے زیادہ ہے۔

📍 مقامات

© OpenStreetMap
📍 Karachi📍 Tehran

ذرائع

یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔