سپریم کورٹ کا طلاق کے حوالے سے تاریخی فیصلہ، خواتین کے مالی حقوق کا تحفظ
پاکستان کی سپریم کورٹ نے ازدواجی انصاف کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے اس قانونی سقم کو ختم کر دیا ہے جس کے تحت عدالتیں خواتین کی مرضی کے بغیر تشدد پر مبنی طلاق کے مقدمات کو 'خلع' میں تبدیل کر کے ان کے مالی حقوق چھین لیتی تھیں۔
This brief synthesizes a legal ruling from the Supreme Court of Pakistan, accurately reflecting the procedural and statutory distinctions between 'khula' and cruelty-based divorce. The tags indicate that the reporting relies on public judicial records and corroboration from established international news agencies.

"ظلم و زیادتی کی بنیاد پر دائر مقدمے کو خلع میں تبدیل کرنا قانونی طور پر درست نہیں اور بیوی کی واضح رضامندی کے بغیر خلع نہیں دی جا سکتی۔"
تفصیلی جائزہ
یہ فیصلہ پاکستان کے فیملی کورٹ سسٹم میں طاقت کے عدم توازن کو دور کرتا ہے۔ تشدد کا الزام لگانے والی خاتون پر 'خلع' مسلط کر کے، نچلی عدالتیں درحقیقت متاثرہ خواتین کو اپنا حق مہر چھوڑنے پر مجبور کر کے انہیں سزا دے رہی تھیں۔ سپریم کورٹ کی مداخلت اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ کیسز کو جلد نمٹانے کی عدالتی جلدی، کسی خاتون کے مالی تحفظ کے قانونی حق پر غالب نہ آئے۔
یہ فیصلہ ایک اہم طریقہ کار کے فرق کو واضح کرتا ہے: جہاں BBC Urdu سونے جیسے مخصوص مالی اثاثوں کے تحفظ پر زور دیتا ہے، وہیں Dawn 'واضح رضامندی' کے وسیع تر قانونی اصول کو اجاگر کرتا ہے۔ نچلی عدالتوں کے فیصلوں میں تضاد اب ایک قانونی غلطی قرار دیا گیا ہے جو سائلہ کی نیت اور Nikahnama کے تحت اس کے معاہداتی حقوق کو نظر انداز کرتی ہے۔
پس منظر اور تاریخ
پاکستان میں طلاق کا قانونی ڈھانچہ بنیادی طور پر Dissolution of Muslim Marriages Act (1939) اور Family Courts Act (1964) کے تحت چلتا ہے۔ تاریخی طور پر، 1967 کے 'خورشید بی بی' کیس نے یہ طے کیا تھا کہ اگر عورت شادی کے ناقابل اصلاح ٹوٹ پھوٹ کو ثابت کر دے تو وہ شوہر کی رضامندی کے بغیر خلع حاصل کر سکتی ہے۔
گزشتہ کئی دہائیوں سے 'خلع' عدالتوں کے لیے تعطل کا شکار شادیوں کو ختم کرنے کا ایک آسان طریقہ بن چکا تھا، جسے اکثر تشدد کے ثبوت کے باوجود استعمال کیا جاتا تھا۔ سپریم کورٹ کا یہ تازہ ترین فیصلہ ان قوانین کی تشریح کو جدید بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
عوامی ردعمل
ادارتی ردعمل ایک مستند اصلاح کا ہے، جس میں اس فیصلے کو نکاح کے معاہدے کے اندر خواتین کے معاشی حقوق کے لیے ایک ضروری تحفظ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس میں نچلی عدالتوں کو اپنی حدود سے تجاوز کرنے سے روکنے پر زور دیا گیا ہے۔
اہم حقائق
- •چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے فیصلہ سنایا کہ عدالتیں ظلم کی بنیاد پر دائر نکاح کی تنسیخ کی درخواست کو یکطرفہ طور پر 'خلع' میں تبدیل نہیں کر سکتیں۔
- •یہ تاریخی کیس سوات کے ایک رہائشی سے متعلق ہے جس کی 2016 میں شادی ہوئی تھی اور حق مہر میں 30 تولہ سونا شامل تھا، جو نچلی عدالتوں کی تشریح کی وجہ سے خطرے میں تھا۔
- •پاکستانی قانون کے مطابق، اگر کسی خاتون کو ظلم کی بنیاد پر طلاق دی جاتی ہے تو وہ اپنا حق مہر رکھنے کی حقدار ہوتی ہے، جبکہ 'خلع' کی صورت میں اسے عموماً یہ واپس کرنا پڑتا ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔