ڈیجیٹل دوری: انگلینڈ کے اسکولوں میں اسمارٹ فون پر پابندی نسلوں کے درمیان کھینچا تانی کا باعث کیوں بن رہی ہے؟
جیسے جیسے انگلینڈ بھر کے اسکولوں میں جیبی سائز کے سپر کمپیوٹرز کے دور کا خاتمہ ہو رہا ہے، ہم یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ کیا ہم واقعی خلفشار کو ختم کر رہے ہیں یا محض ان ڈیجیٹل سہولتوں کو کاٹ رہے ہیں جنہیں نئی نسل جدید زندگی کی پیچیدگیوں سے نمٹنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔
This report synthesizes primary research from University College London with statutory policy updates, highlighting a documented generational divide in the perception of digital regulation.

""بڑے سمجھتے ہیں کہ ان پابندیوں سے تعلیمی عمل میں خلل کم ہوگا اور کلاس روم کا انتظام آسان ہو جائے گا، جبکہ طلبہ کے نزدیک اسمارٹ فون باہمی رابطے، تحفظ، جذباتی استحکام اور روزمرہ کی ترتیب کے لیے ایک مددگار ذریعہ ہے۔""
تفصیلی جائزہ
یہ پالیسی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مختلف نسلیں ٹیکنالوجی کو کس نظر سے دیکھتی ہیں؛ جہاں بڑے اسمارٹ فون کو بنیادی طور پر خلفشار اور سماجی نقصان کا ذریعہ سمجھتے ہیں، وہیں طلبہ اسے تحفظ، جذباتی توازن اور روزمرہ کے کاموں کے لیے ایک ضروری آلہ قرار دیتے ہیں۔ اس پابندی کا مقصد کلاس رومز کو پڑھائی کے لیے وقف کرنا ہے، لیکن محققین خبردار کرتے ہیں کہ ان آلات کو اساتذہ کی نظروں سے دور کرنے سے سائبر بلنگ جیسے مسائل پوشیدہ ڈیجیٹل جگہوں پر منتقل ہو سکتے ہیں جہاں بڑوں کی نگرانی اور بھی کم ہوگی۔
اصل تنازع ضروری آلات کی تعریف پر ہے، جہاں طلبہ کا موقف ہے کہ اپنی خود مختاری کے لیے بس کے ٹائم ٹیبل اور ہوم ورک ایپس تک رسائی ضروری ہے۔ UCL کی رپورٹ کے مطابق یہ پابندی ضرورت سے زیادہ سادہ ہے، اور خدشہ ہے کہ ٹیکنالوجی کو سختی سے نکالنے کا نتیجہ الٹا نکل سکتا ہے، جس سے ایک ایسا سزا والا ماحول پیدا ہوگا جو طلبہ کو اسکول کی انتظامیہ سے دور کر دے گا بجائے اس کے کہ ان کا ڈیجیٹل استعمال بہتر ہو۔
پس منظر اور تاریخ
گزشتہ ایک دہائی کے دوران، برطانوی اسکولوں میں موبائل فونز پر بحث انفرادی اسکولوں کے قوانین سے نکل کر اب قومی سطح کے قانونی معاملے تک پہنچ گئی ہے۔ یہ پیشرفت سوشل میڈیا کے نوجوانوں کی ذہنی صحت پر اثرات اور 'توجہ کی معیشت' (attention economy) کی روایتی تدریس کے ساتھ مقابلے کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات کا نتیجہ ہے۔
تاریخی طور پر تعلیمی اداروں نے ہمیشہ نئی ٹیکنالوجیز کی مزاحمت کی ہے—چاہے وہ کیلکولیٹر ہوں یا ابتدائی انٹرنیٹ—انہیں پہلے ذہنی محنت کے لیے خطرہ سمجھا گیا اور پھر آخر کار نصاب کا حصہ بنا لیا گیا۔ 2026 کی یہ پابندی اس انضمام کو روکنے اور روایتی، پرسکون تعلیمی ماحول کی واپسی کے لیے اب تک کی سب سے بڑی قانونی کوششوں میں سے ایک ہے۔
عوامی ردعمل
اس پابندی پر ردعمل عمر کے لحاظ سے واضح طور پر تقسیم ہے، جہاں اساتذہ اور والدین ڈیجیٹل شور کو کم کرنے کی کوشش پر سکون محسوس کر رہے ہیں، وہیں نوجوانوں میں بیگانگی کا احساس پایا جاتا ہے۔ ادارتی نقطہ نظر یہ بتاتا ہے کہ اگرچہ عوام بچوں کے تحفظ کے لیے پابندی کے مقصد کی بڑی حد تک حمایت کرتے ہیں، لیکن اس کے عملی ہونے اور اسکول آنے جانے والے طلبہ کے لیے رابطے کے فقدان پر شکوک و شبہات بڑھ رہے ہیں۔
اہم حقائق
- •انگلینڈ کے اسکولوں میں اسمارٹ فونز پر قانونی پابندی باضابطہ طور پر 29 جون 2026 کو نافذ ہوئی، جس کے بعد اسکول اور تعلیمی ادارے فون سے پاک ماحول برقرار رکھنے کے قانونی طور پر ذمہ دار بن گئے ہیں۔
- •University College London (UCL) کی ایک تحقیق میں پابندی کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے 11 سے 18 سال کی عمر کے 732 ثانوی اسکول کے طلبہ، 27 اساتذہ اور 41 والدین سے رائے لی گئی۔
- •تحقیقی اعداد و شمار نسلوں کے درمیان ایک واضح فرق ظاہر کرتے ہیں، جہاں 87 فیصد اساتذہ اور 88 فیصد والدین اس پابندی کی حمایت کرتے ہیں، جبکہ 75 فیصد طلبہ اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔