سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ: Bayer کو Roundup کیس میں اربوں ڈالرز کے جرمانے سے بڑی راحت مل گئی
امریکی سپریم کورٹ نے کینسر کے ہزاروں متاثرین کے لیے عدالت کے دروازے عملی طور پر بند کر دیے ہیں، جس سے Bayer کو ایک ایسی حتمی جیت ملی ہے جس نے ریاستی سطح پر صارفین کے تحفظ کے حقوق کے مقابلے میں وفاقی ریگولیٹری بالادستی کو دوبارہ ثابت کر دیا ہے۔
The brief accurately reports the Supreme Court's 7-2 ruling and subsequent market movements as documented by AP and Reuters, but it utilizes sensationalized language in the lede to frame the legal outcome as a definitive closure for plaintiffs.

""یہ فیصلہ حیران کن اور افسوسناک ہے، کیونکہ یہ بلاجواز ان متاثرین کے لیے عدالت کے دروازے بند کر دیتا ہے جو ایک ایسی پروڈکٹ سے متاثر ہوئے ہیں جسے خود وفاقی قانون نے بھی مکمل طور پر محفوظ قرار نہیں دیا ہے۔""
تفصیلی جائزہ
یہ فیصلہ Bayer کے لیے ایک بڑی مالیاتی بچت ہے، جو 2018 میں Monsanto کو خریدنے کے بعد سے قانونی لڑائیوں میں پھنسا ہوا تھا۔ یہ طے کر کے کہ EPA (ادارہ برائے تحفظِ ماحول) کی طرف سے کینسر وارننگ کی ضرورت نہ ہونا ریاست کے مینڈیٹ پر فوقیت رکھتا ہے، کورٹ نے ایک ایسی قانونی ڈھال بنا دی ہے جو Roundup کے زیرِ التوا ہزاروں کیسز کو ختم کر دے گی۔ اس سے طاقت کا توازن جیوری کے بجائے وفاقی ایجنسیوں کی طرف منتقل ہو جائے گا جہاں کارپوریٹ لابنگ کا اثر زیادہ ہوتا ہے۔
اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اس کیس میں Bayer کی حمایت کی تھی، لیکن یہ فیصلہ ان کے 'Make America Healthy Again' (MAHA) کے اتحادیوں کے درمیان تناؤ پیدا کرے گا جو پیسٹیسائڈز پر سخت نگرانی چاہتے ہیں۔ جسٹس ایلون مسک کے بجائے جسٹس برٹ کیوانا (Justice Kavanaugh) نے اس بات پر زور دیا کہ EPA کے مطابق glyphosate کینسر کا سبب نہیں بنتی، جبکہ اختلافی نوٹ میں کہا گیا کہ یہ فیصلہ شہریوں کو مقامی عدالتوں میں انصاف حاصل کرنے سے روکتا ہے۔
پس منظر اور تاریخ
Roundup کا قانونی تنازعہ تب شدت اختیار کر گیا جب IARC نے 2015 میں glyphosate کو 'ممکنہ طور پر انسانوں کے لیے کینسر کا سبب' قرار دیا۔ 2018 میں Bayer کا 63 ارب ڈالرز میں Monsanto کو خریدنا کارپوریٹ تاریخ کے پیچیدہ ترین فیصلوں میں سے ایک مانا جاتا ہے، کیونکہ کمپنی فوری طور پر اربوں ڈالرز کے جرمانوں کی لپیٹ میں آگئی تھی۔
پچھلی دہائی کے دوران Bayer نے تقریباً 1 لاکھ انفرادی کیسز کو نمٹانے کے لیے اربوں ڈالرز خرچ کیے ہیں۔ کمپنی کا موقف ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ چونکہ وفاقی ادارہ EPA اسے محفوظ قرار دیتا ہے، اس لیے اسے قانونی طور پر ایسی وارننگ دینے کی ضرورت نہیں ہے جو خود حکومت نے لازمی قرار نہیں دی۔
عوامی ردعمل
اس فیصلے پر کارپوریٹ سیکٹر میں خوشی کی لہر ہے جبکہ عوامی حقوق کے علمبرداروں میں شدید غصہ پایا جاتا ہے۔ مالیاتی مارکیٹس نے اسے ایک بڑی جیت قرار دیا ہے، لیکن پبلک ہیلتھ کے ماہرین اسے ریاستوں کے اختیارات کی تذلیل اور انفرادی صحت پر کارپوریٹ استحکام کو ترجیح دینے کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔
اہم حقائق
- •امریکی سپریم کورٹ نے 7-2 کے تناسب سے فیصلہ دیا کہ وفاقی پیسٹیسائڈ قوانین Roundup (گھاس مار زہر) کے بارے میں ریاست کے 'انتباہ کی کمی' والے کلیمز پر حاوی ہوں گے۔
- •فیصلے کے اعلان کے فوراً بعد اسٹاک مارکیٹ میں Bayer کی مالیاتی قدر میں تقریباً 18 فیصد اضافہ ہوا۔
- •اس فیصلے نے میزوری جیوری کے 1.25 ملین ڈالرز کے اس انعام کو کالعدم قرار دے دیا جو ایک ایسے شہری کو دیا گیا تھا جس کا دعویٰ تھا کہ اسے سالہا سال glyphosate کے استعمال سے کینسر ہوا ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔