وزیر اعظم شہباز شریف کا گلگت بلتستان میں بجلی کی کمی دور کرنے کے لیے 100 میگاواٹ کے سولر منصوبے میں تیزی لانے کا حکم
وزیر اعظم شہباز شریف گلگت بلتستان میں سولر انرجی کی طرف منتقلی کے عمل کو تیز کر رہے ہیں۔ وفاقی حکومت اس علاقے کے بجلی کے بنیادی ڈھانچے کے اخراجات خود برداشت کرے گی تاکہ بجلی کی شدید قلت کو ختم کیا جا سکے اور انتظامی کنٹرول کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
The source material originates from official government press releases, inherently presenting a state-centric perspective on regional development. The brief includes analytical framing to provide context on the historically complex administrative relationship between the federal government and Gilgit-Baltistan.

"وفاقی حکومت گلگت بلتستان کے لیے 100 میگاواٹ کے سولر پاور پراجیکٹ کے تمام اخراجات خود اٹھائے گی۔"
تفصیلی جائزہ
یہ اقدام شمالی علاقہ جات میں بجلی کی کمی کو دور کرنے کے لیے مرکز کی ایک تزویراتی مداخلت ہے۔ وفاقی حکومت تمام اخراجات خود اٹھا کر گلگت بلتستان انتظامیہ کی مالی مشکلات کو نظر انداز کرنا چاہتی ہے تاکہ 18 میگاواٹ سرکاری دفاتر اور 82 میگاواٹ رہائشی استعمال کا انفراسٹرکچر وفاق کی براہ راست فنڈنگ میں رہے۔ آزادانہ تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کا حکم علاقائی سطح پر کام کی تکمیل پر عدم اعتماد اور کرپشن یا بدانتظامی کو روکنے کی خواہش کو ظاہر کرتا ہے۔
جہاں ایک طرف وزیر اعظم نے کام میں تیزی لانے کی ہدایت دی ہے، وہیں دوسری طرف اس منصوبے کی تفصیلات سے اس کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ وزیر اعظم آفس کی جانب سے دکھائی گئی عجلت اس سیاسی دباؤ کو ظاہر کرتی ہے جو حساس سرحدی علاقوں میں بجلی کی عدم دستیابی کے باعث پیدا ہونے والے عوامی احتجاج کی وجہ سے ہے۔ سولر کو ترجیح دے کر ریاست پہاڑی علاقوں میں ایندھن پہنچانے کے مشکل عمل سے بھی بچنا چاہتی ہے۔
پس منظر اور تاریخ
گلگت بلتستان تاریخی طور پر بجلی کی شدید قلت کا شکار رہا ہے، خاص طور پر سردیوں میں جب ہائیڈرو پاور کی پیداوار کم ہو جاتی ہے۔ دہائیوں سے یہاں کے مشکل جغرافیہ اور نیم خودمختار حیثیت نے بڑے منصوبوں کو پیچیدہ بنا رکھا ہے۔ وفاقی حکومت اور گلگت بلتستان کے تعلقات اکثر مالی خودمختاری اور نمائندگی کے مسائل کی وجہ سے تناؤ کا شکار رہتے ہیں۔
سولر انرجی کی طرف منتقلی موسمی ہائیڈرو پاور اور مہنگے ڈیزل جنریٹر پر انحصار ختم کرنے کی ایک کوشش ہے۔ ماضی میں فنڈز کی کمی کی وجہ سے کئی منصوبے ادھورے رہ گئے تھے۔ یہ 100 میگاواٹ کا منصوبہ شہباز شریف انتظامیہ کی ملک گیر 'سولرائزیشن' پالیسی کا حصہ ہے تاکہ درآمدی ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے۔
عوامی ردعمل
ادارتی لہجہ محتاط بیوروکریٹک امید کا حامل ہے، جس میں شفافیت اور رفتار پر زور دیا گیا ہے۔ تاہم، تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کی ہدایت اداروں کی کارکردگی پر شکوک و شبہات کو ظاہر کرتی ہے۔ عوامی سطح پر ان اقدامات کو ضروری مگر تاخیر سے کی جانے والی مداخلت سمجھا جاتا ہے۔
اہم حقائق
- •وفاقی حکومت پاکستان گلگت بلتستان کے 100 میگاواٹ سولر پاور پراجیکٹ کے تمام اخراجات خود برداشت کرے گی۔
- •اس منصوبے میں 18 میگاواٹ سرکاری عمارتوں کے لیے اور 82 میگاواٹ گلگت، سکردو، چلاس اور کھپلو کے گھروں کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔
- •بلتستان ڈویژن میں سرکاری عمارتوں کو سولر پر منتقل کرنے کا ہدف اکتوبر 2026 رکھا گیا ہے، جبکہ گلگت اور دیامر ڈویژنز کے لیے دسمبر 2026 کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔