آپریشن ٹائیگر: ٹھاکرے کے چھ ایم پیز کی وفاداری تبدیل، شندے کی گرفت مزید مضبوط
ٹھاکرے خاندان کی پارلیمانی گرفت آج مکمل طور پر ختم ہوتی نظر آئی جب لوک سبھا کے چھ ارکانِ پارلیمنٹ نے بڑی مہارت کے ساتھ شندے کیمپ میں شمولیت اختیار کر لی، جس کے بعد سابق وزیر اعلیٰ کی دہلی میں سیاسی موجودگی محض نام کی رہ گئی ہے۔
The brief utilizes dramatic, high-impact terminology common in regional political reporting. The narrative heavily mirrors the Shinde administration's own framing of the event as a strategic 'operation,' while emphasizing the legal consolidation of the ruling faction.
"چار سال پہلے - 22 جون 2022 کو - ہم نے Shiv Sena کے اندر بغاوت کی تھی۔ اس وقت ہمارے ساتھ 40 MLAs تھے۔ اور اب ہم نے چوکا نہیں بلکہ چھکا مارا ہے۔ یہ ہمارا سکسر ہے۔"
تفصیلی جائزہ
شندے کیمپ کی جانب سے 'آپریشن ٹائیگر' کا نام دیا گیا یہ قدم Uddhav Thackeray کی بچی کھچی سیاسی ساکھ کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ پارلیمانی ونگ کے دو تہائی حصے کو اپنے ساتھ ملا کر شندے نے نہ صرف اپنی پارٹی کی لوک سبھا میں تعداد 13 کر لی ہے بلکہ ان قانونی چیلنجز کو بھی ختم کر دیا ہے جو عموماً ایسی وفاداریاں تبدیل کرنے پر سامنے آتے ہیں۔
یہ لڑائی اب صرف نمبروں کی نہیں بلکہ 'اصل' Shiv Sena کی پہچان کی ہے۔ شندے اپنے اقدامات کو Balasaheb Thackeray کے ہندوتوا اصولوں کی طرف واپسی قرار دے رہے ہیں، جبکہ سنجے دینا پاٹل اور اوم راجے نمبالکر جیسے ارکان کا جانا Uddhav Thackeray کی ترقیاتی فنڈز حاصل کرنے کی صلاحیت پر عدم اعتماد کا اظہار ہے۔
پس منظر اور تاریخ
موجودہ بحران اس تقسیم کا دوسرا مرحلہ ہے جو جون 2022 میں شروع ہوا تھا، جب Eknath Shinde نے 40 MLAs کے ساتھ بغاوت کر کے Maha Vikas Aghadi حکومت گرا دی تھی۔ اس کی بنیادی وجہ ٹھاکرے کا کانگریس اور NCP جیسے نظریاتی مخالفین کے ساتھ اتحاد تھا، جسے پارٹی کے نظریے سے غداری سمجھا گیا۔ فروری 2023 میں الیکشن کمیشن نے شندے کے گروپ کو ہی اصل Shiv Sena تسلیم کیا تھا۔
گزشتہ کئی دہائیوں میں Shiv Sena سے کئی بڑے لیڈر الگ ہوئے، لیکن کوئی بھی شندے کی طرح قانونی طور پر اتنا کامیاب نہیں رہا۔ روایتی طور پر یہ پارٹی ٹھاکرے خاندان کے گرد گھومتی تھی، لیکن 'اسپلٹ 2.0' نے ثابت کر دیا ہے کہ اب پارلیمانی اکثریت اور انتظامی کارکردگی خاندانی وفاداری پر بھاری پڑ رہی ہے۔
عوامی ردعمل
شندے حکومت میں فتح کا جوش و خروش پایا جاتا ہے جبکہ ٹھاکرے کیمپ میں اپنی بقا کی فکر نظر آتی ہے۔ میڈیا رپورٹس اسے ایک بڑے سیاسی ڈرامے کے طور پر پیش کر رہی ہیں، جہاں شندے اپنے حریفوں کا مذاق اڑا رہے ہیں اور خود کو پارٹی کا اصل وارث قرار دے رہے ہیں۔
اہم حقائق
- •Uddhav Thackeray کی قیادت والی Shiv Sena (UBT) کے نو میں سے چھ لوک سبھا ارکان نے ممبئی میں باضابطہ طور پر Eknath Shinde کی Shiv Sena میں شمولیت اختیار کر لی۔
- •وفاداری تبدیل کرنے والے ارکان کی تعداد ٹھاکرے گروپ کی پارلیمانی قوت کا دو تہائی ہے، جو بھارت کے اینٹی ڈیفیکشن قانون کے تحت نااہلی سے بچنے کے لیے قانونی ضرورت پوری کرتی ہے۔
- •باغی گروپ میں مہاراشٹر کے مختلف علاقوں کے ارکان شامل ہیں، جن میں ممبئی، ایوت محل، پربھنی، دھاراشیو، ہنگولی اور شرڈی کے حلقے شامل ہیں۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔