Shiv Sena (UBT) میں بڑے پیمانے پر ہارس ٹریڈنگ کے الزامات، پارٹی ایک بار پھر ٹوٹنے کے قریب
2022 کی بغاوت کا سایہ ایک بار پھر Uddhav Thackeray کا پیچھا کر رہا ہے، جہاں پرائیویٹ جیٹس اور کروڑوں روپے کی رشوت کے سنسنی خیز الزامات نے Shiv Sena کے بچے کھچے حصوں میں ایک اور بڑی پھوٹ کا اشارہ دے دیا ہے۔
This brief is tagged as 'Sensationalized' and 'Disputed Claims' because it relies heavily on unverified, high-value bribery allegations ('horse-trading') made by partisan actors during a political crisis, which have not been independently corroborated.
""یہ لوگ ایک رکشے کا کرایہ بھی برداشت نہیں کر سکتے تھے، لیکن Thackeray نام کی بدولت آج یہ پرائیویٹ طیاروں میں سفر کے قابل ہوئے ہیں۔""
تفصیلی جائزہ
موجودہ بحران کو بعض مبصرین 'Operation Tiger' کا نام دے رہے ہیں، جو Uddhav Balasaheb Thackeray (UBT) دھڑے کی بقا کی ایک بڑی جنگ ہے۔ جہاں Sanjay Raut کا دعویٰ ہے کہ ارکان پارلیمنٹ کو خطیر رقم اور چارٹرڈ فلائٹس کا لالچ دیا جا رہا ہے، وہیں Eknath Shinde کا گروہ ان لوگوں کو خوش آمدید کہہ رہا ہے جو Bal Thackeray کے اصل نظریے پر چلنا چاہتے ہیں۔ اگر یہ 6 ارکان الگ گروپ بنا کر Shinde گروپ میں شامل ہو جاتے ہیں، تو وفاقی دارالحکومت میں Uddhav Thackeray کا پارلیمانی اثر و رسوخ ختم ہو کر رہ جائے گا۔
یہ اقتدار کی جنگ صرف پارلیمانی نمبروں تک محدود نہیں، بلکہ یہ Thackeray خاندان کی سیاسی میراث اور پہچان کی لڑائی ہے۔ ذرائع کے مطابق منگل کی رات ارکان پارلیمنٹ میں 15 سے 50 کروڑ روپے تک کی رقم تقسیم کی گئی۔ ہارس ٹریڈنگ کے یہ الزامات Maharashtra کی سیاست میں تیزی سے بدلتی صورتحال کو ظاہر کرتے ہیں، جہاں وفاداری تبدیل کرنے کے خلاف قوانین کو اکثر بڑے انضمام کے ذریعے چیلنج کیا جاتا ہے۔
پس منظر اور تاریخ
1966 میں Bal Thackeray کی جانب سے مراٹھی قوم پرستی اور ہندوتوا کی بنیاد پر قائم کردہ Shiv Sena کی اندرونی خلفشار کی ایک طویل تاریخ ہے، جس کا آغاز 1991 میں Chhagan Bhujbal اور 2005 میں Narayan Rane کی علیحدگی سے ہوا۔ تاہم، سب سے بڑا دھچکا جون 2022 میں لگا جب Eknath Shinde نے 40 ارکان اسمبلی کے ساتھ بغاوت کی، جس کے نتیجے میں Maha Vikas Aghadi حکومت گر گئی اور قانونی جنگ کے بعد Shinde کو پارٹی کا نام اور 'تیر کمان' کا نشان مل گیا۔
2022 کی اس تقسیم کے بعد سے Uddhav Thackeray کا کیمپ Shiv Sena (UBT) کے طور پر کام کر رہا ہے۔ ارکان پارلیمنٹ کی موجودہ علیحدگی بالکل اسی حکمت عملی کی عکاسی کرتی ہے جو پہلے اسمبلی کی تقسیم کے وقت استعمال کی گئی تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ Shinde دھڑا اور ان کے اتحادی BJP مستقبل کے انتخابات سے قبل ہندوتوا ووٹ بینک کو مضبوط کرنے اور Lok Sabha میں مکمل اکثریت حاصل کرنے کے لیے منظم کوششیں کر رہے ہیں۔
عوامی ردعمل
اداریوں اور عوامی جذبات میں بے یقینی اور ڈرامائی صورتحال کا ملا جلا رجحان پایا جاتا ہے۔ Uddhav کیمپ اسے دھوکہ دہی قرار دے رہا ہے اور منحرف ارکان کو 'بزدل لومڑیاں' کہہ رہا ہے جنہوں نے مالی فائدے کے لیے وفاداری بیچ دی۔ دوسری طرف Shinde دھڑا اسے ان لیڈروں کی 'گھر واپسی' قرار دے رہا ہے جو Uddhav کی قیادت سے نالاں تھے۔ عوام میں ایک بار پھر وہی 2022 والا احساس پیدا ہو رہا ہے کیونکہ ایک ایسی پارٹی میں ایک اور بڑی پھوٹ پڑ رہی ہے جو کبھی اپنی اٹوٹ وفاداری کے لیے مشہور تھی۔
اہم حقائق
- •Sanjay Raut نے الزام لگایا ہے کہ Uddhav Thackeray دھڑے سے علیحدگی اختیار کرنے کے لیے ہر رکن پارلیمنٹ کو 15 سے 50 کروڑ روپے کی پیشکش کی جا رہی ہے۔
- •Shiv Sena (UBT) کے 6 Lok Sabha ارکان سے رابطہ نہیں ہو پا رہا اور خدشہ ہے کہ وہ Eknath Shinde کے حریف دھڑے کے ساتھ رابطے میں ہیں۔
- •Uddhav Thackeray کیمپ نے باغی ارکان کو باقاعدہ نوٹس جاری کر دیا ہے، جس میں انہیں 18 جون کو ہونے والے پارٹی اجلاس میں شرکت لازمی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔