ح
واپس خبروں پر جائیں
🔥 Trending
✨ AI BRIEF
India17 جون، 2026Fact Confidence: 85%

شیو سینا (UBT) میں بغاوت کا بحران، چھ ارکانِ پارلیمنٹ شندے گروپ میں شامل ہونے کے لیے تیار

سیاسی غداری کا سایہ ایک بار پھر ٹھاکرے کیمپ پر منڈلا رہا ہے، کیونکہ ارکانِ پارلیمنٹ کی ممکنہ علیحدگی سے شیو سینا (UBT) کی وفاقی آواز اور طاقت چھن جانے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

AI Editor's Analysis
SensationalizedDisputed Claims

This report synthesizes conflicting narratives from rival political camps and includes unverified allegations of bribery and legal pressure. The tags reflect the reliance on partisan rhetoric and the absence of independent verification regarding the final status of the alleged defection.

شیو سینا (UBT) میں بغاوت کا بحران، چھ ارکانِ پارلیمنٹ شندے گروپ میں شامل ہونے کے لیے تیار
""اپنا سپنا منی منی! یہ دیکھ کر صدمہ اور غصہ آتا ہے کہ مہاراشٹر کے ارکانِ پارلیمنٹ کو مبینہ طور پر 15 کروڑ روپے ایڈوانس میں آفر کیے جا رہے ہیں۔""
Sanjay Raut (Reacting to reports of a 15-crore-rupee advance allegedly paid to defecting MPs)

تفصیلی جائزہ

یہ ممکنہ تقسیم ادھو ٹھاکرے کے گروپ کے لیے بقا کا ایک اہم لمحہ ہے۔ اگر چھ ارکان الگ ہو جاتے ہیں، تو شندے کی زیرِ قیادت سینا کو قومی سطح پر بڑی قانونی حیثیت مل جائے گی، جو UBT گروپ کے 'اصلی' شیو سینا ہونے کے دعوے کو ختم کر سکتی ہے۔ یہ اقدام سٹریٹجک طور پر 20 جون کو آنے والے عدالتی فیصلے کے ساتھ جوڑا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپوزیشن کو کمزور کرنے کے لیے قانونی اور مالی دباؤ کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

'آپریشن ٹائیگر' کے حوالے سے متضاد خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ دی ہندو کے مطابق سنجے دینا پاٹل اور اوم راجے نمبالکر نے بدھ کی دوپہر تک سپیکر کو بھیجے گئے خط پر دستخط نہیں کیے تھے، جبکہ ٹائمز آف انڈیا نے شندے سینا کے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ آپریشن مکمل ہو چکا ہے، اگرچہ متعلقہ ارکان اس کی تردید کر رہے ہیں۔

پس منظر اور تاریخ

شیو سینا، جس کی بنیاد 1966 میں بال ٹھاکرے نے رکھی تھی، مراٹھی فخر اور ہندوتوا کے نظریے پر قائم کی گئی تھی۔ تاہم، جون 2022 میں ایکناتھ شندے کی قیادت میں ارکانِ اسمبلی کی بڑی بغاوت کے بعد پارٹی میں سب سے بڑی دراڑ پڑی، جس کے نتیجے میں ادھو ٹھاکرے کو وزارتِ اعلیٰ سے ہاتھ دھونا پڑے اور الیکشن کمیشن نے پارٹی کا نام اور 'تیر کمان' کا نشان شندے گروپ کو دے دیا۔

لوک سبھا میں حالیہ کشیدگی اسی پرانی تقسیم کا دوسرا حصہ ہے۔ یہ ٹھاکرے کی سیاسی وراثت کو بچانے کی جنگ ہے، جہاں UBT گروپ اپنی شناخت بچانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ مخالف گروپ مرکزی حکومت کی مدد سے ٹھاکرے خاندان کے روایتی اقتدار کو ختم کرنے میں مصروف ہے۔

عوامی ردعمل

ماحول انتہائی شک و شبہات اور تلخی سے بھرپور ہے۔ UBT گروپ اس اقدام کو جمہوریت پر حملہ قرار دے رہا ہے جو مبینہ طور پر 'پیسے کی طاقت' اور دھونس سے چلایا جا رہا ہے، جبکہ شندے گروپ اسے ایک ناگزیر اتحاد کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ لہجے میں غداری کا احساس اور سنگین صورتحال نمایاں ہے۔

اہم حقائق

  • شیو سینا (UBT) نے اپنے نو لوک سبھا ممبران کو وہپ جاری کرنے کے بعد جمعرات کو نئی دہلی میں پارلیمانی بورڈ کا لازمی اجلاس طلب کر لیا ہے۔
  • راجیہ سبھا کے ممبر سنجے راؤت اور دیگر نے لوک سبھا سپیکر اوم برلا سے ملاقات کی تاکہ کسی بھی مخالف گروپ کو علیحدہ حیثیت دینے سے پہلے سماعت کی درخواست جمع کرائی جا سکے۔
  • بھارتی اینٹی ڈیفیکشن قوانین کے تحت، نااہلی سے بچنے کے لیے باغی گروپ کے پاس پارٹی کی پارلیمانی طاقت کا کم از کم دو تہائی حصہ ہونا ضروری ہے، جو اس کیس میں نو میں سے چھ ارکان بنتے ہیں۔

📍 مقامات

© OpenStreetMap
📍 Mumbai📍 New Delhi

ذرائع

یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔

Defection Crisis Grips Shiv Sena (UBT) as Six MPs Pivot Toward Shinde Faction - Haroof News | حروف