نیو دہلی میں ممبرانِ پارلیمنٹ کی وفاداریاں بدلنے کی خبریں، Shiv Sena (UBT) کا بحران شدت اختیار کر گیا
اقتدار کے ایوانوں کی گہما گہمی ممبئی سے نیو دہلی منتقل ہوتے ہی، Uddhav Thackeray کی Shiv Sena کو اپنے وجود کے خطرے کا سامنا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، پارٹی کی پارلیمانی طاقت کو ختم کرنے کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔
This brief is tagged as 'Sensationalized' due to the inclusion of inflammatory political rhetoric and bribery allegations used by partisan sources. It also carries 'Disputed Claims' as the status of the MPs and the specific details of the alleged defection remain unverified by independent parliamentary authorities and are actively contested by the involved political factions.
"اپنا سپنا منی منی! یہ دیکھ کر افسوس اور حیرت ہو رہی ہے کہ اطلاعات کے مطابق مہاراشٹر کے ممبرانِ پارلیمنٹ کو وفاداریاں بدلنے کے لیے آج رات 15 کروڑ روپے فی کس کی پیشکش کی جا رہی ہے۔"
تفصیلی جائزہ
یہ محض سیاسی وفاداری کی تبدیلی نہیں بلکہ Uddhav Thackeray کو لوک سبھا میں قانونی حیثیت سے محروم کرنے کا ایک منظم وار ہے۔ دوتہائی اکثریت حاصل کر کے یہ ممبران 'اینٹی ڈیفیکشن لاء' سے بچنا چاہتے ہیں، بالکل ویسے ہی جیسے 2022 میں مہاراشٹر کی MVA حکومت گرائی گئی تھی۔ اب جنگ صرف نشستوں کی نہیں بلکہ Shiv Sena کی اصل شناخت اور 'تیر کمان' کے انتخابی نشان پر قبضے کی ہے۔
بیانیے کی یہ جنگ واضح ہے: ایک طرف ممبران کی دہلی منتقلی اور انضمام کی تیاری ہے، تو دوسری طرف UBT دھڑا 15 کروڑ روپے رشوت کے الزامات لگا رہا ہے۔ اگرچہ Eknath Shinde کے ساتھی کسی بھی رابطے کی تردید کر رہے ہیں، لیکن Shrikant Shinde کے گھر پر ہونے والی میٹنگز سے ظاہر ہوتا ہے کہ سب کچھ پہلے سے طے شدہ ہے تاکہ Thackeray کے ایکشن لینے سے پہلے اسپیکر کو حتمی فیصلے سے آگاہ کر دیا جائے۔
پس منظر اور تاریخ
Bal Thackeray کی قائم کردہ Shiv Sena، جو 'مراٹھی مانوس' اور ہندوتوا کے اصولوں پر مبنی تھی، جون 2022 میں شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئی۔ Eknath Shinde نے Uddhav Thackeray کے خلاف بغاوت کی اور موقف اپنایا کہ کانگریس اور NCP کے ساتھ اتحاد کر کے پارٹی نے اپنے نظریات پر سمجھوتہ کیا ہے۔ طویل قانونی جنگ کے بعد Election Commission of India نے Shinde دھڑے کو ہی اصل Shiv Sena تسلیم کرتے ہوئے نام اور انتخابی نشان ان کے حوالے کر دیا۔
اس تقسیم کے بعد سے مہاراشٹر کی سیاست جوڑ توڑ اور 'ریزورٹ پالیٹکس' کا گڑھ بن چکی ہے۔ لوک سبھا کا موجودہ بحران اسی سلسلے کی دوسری کڑی ہے۔ صوبائی سطح پر حکومت اور پارٹی ڈھانچے پر قبضے کے بعد، Shinde دھڑا اب BJP کی حمایت سے قومی سطح پر بھی پارٹی پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا چاہتا ہے۔
عوامی ردعمل
ماحول میں شدید بے اعتمادی اور 'ریزورٹ پالیٹکس' کی بدگمانی پھیلی ہوئی ہے، جبکہ UBT دھڑا دفاعی پوزیشن پر نظر آتا ہے۔ عوامی ردِعمل بھی تقسیم ہے؛ کچھ لوگ اسے 'اصل' Shiv Sena کا استحکام سمجھ رہے ہیں جبکہ دوسرے اسے کھلی ہارس ٹریڈنگ قرار دے رہے ہیں۔ سیاسی حلقوں میں 2022 کے حالات کی واپسی کا احساس پایا جا رہا ہے۔
اہم حقائق
- •Shiv Sena (UBT) کے 9 میں سے 6 لوک سبھا ممبران سے رابطہ نہیں ہو پا رہا یا وہ پارٹی قیادت کو بتائے بغیر دہلی روانہ ہو چکے ہیں۔
- •مہاراشٹر کے وزیرِ اعلیٰ Eknath Shinde کے بیٹے، Shrikant Shinde کی دہلی رہائش گاہ پر ایک اہم میٹنگ متوقع ہے، جس میں مبینہ طور پر منحرف ممبران شریک ہوں گے۔
- •ناراض دھڑا لوک سبھا کے اسپیکر Om Birla سے ملاقات کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ علیحدہ گروپ بنا کر Shinde کی قیادت والی Shiv Sena میں شامل ہونے کا عمل مکمل کیا جا سکے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔