ح
واپس خبروں پر جائیں
🔥 Trending
✨ AI BRIEF
India16 جون، 2026Fact Confidence: 85%

مہاراشٹر میں اقتدار کی جنگ: Shiv Sena (UBT) ایک بار پھر ٹوٹ پھوٹ کے دہانے پر

ٹھاکرے خاندان کی اپنے وفاداروں پر گرفت کمزور پڑنے کے ساتھ ہی، جوڑ توڑ کی سیاست ممبئی کی گلیوں سے نکل کر دہلی کے ایوانوں تک پہنچ گئی ہے، جس سے Shiv Sena (UBT) کے مکمل خاتمے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

AI Editor's Analysis
SensationalizedDisputed ClaimsRegional Narrative

This brief synthesizes high-stakes political allegations of bribery and defection that originate from partisan leaders. While the movement of personnel is documented by multiple outlets, the specific claims of monetary inducement remain unverified and represent the competing narratives common in Maharashtra's factional politics.

""اپنا سپنا منی منی! یہ انتہائی افسوسناک اور شرمناک ہے کہ مبینہ طور پر مہاراشٹر کے ممبران پارلیمنٹ (MPs) کو وفاداری بدلنے کے لیے آج رات 15، 15 کروڑ روپے کی پیشکش کی جا رہی ہے۔""
Sanjay Raut (Reacting to reports of an imminent split within the party's parliamentary wing on social media.)

تفصیلی جائزہ

یہ بحران ٹھاکرے گروپ کے لیے ٹوٹ پھوٹ کی دوسری اور ممکنہ طور پر آخری لہر ثابت ہو سکتا ہے۔ پارلیمانی دھڑے کو نشانہ بنا کر، Eknath Shinde کی قیادت میں شیو سینا وفاقی حکام اور ووٹرز کی نظروں میں خود کو 'اصل' پارٹی ثابت کرنا چاہتی ہے۔ میدانِ جنگ کا نئی دہلی منتقل ہونا اس بات کا اشارہ ہے کہ مرکزی حکومت کے اثر و رسوخ کو ٹھاکرے خاندان کی براہِ راست گرفت سے نکلنے کے لیے ایک اسٹریٹجک ڈھال کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

اقتدار کی اس رسہ کشی میں 'بقا بمقابلہ لالچ' کا بیانیہ حاوی ہے۔ Sanjay Raut کا دعویٰ ہے کہ یہ خالصتاً مالی مفادات کا کھیل ہے، جبکہ Shinde گروپ اسے نظریاتی وفاداری اور بانی Bal Thackeray کے اصولوں کی طرف واپسی قرار دے رہا ہے۔ اگر باقی ماندہ دو تہائی ممبران نے وفاداری بدل لی تو Uddhav Thackeray اپنی پارٹی کی قانونی پہچان بچانے کی پوزیشن کھو دیں گے۔

پس منظر اور تاریخ

شیو سینا کی بنیاد Bal Thackeray نے 1966 میں رکھی تھی، جو تاریخی طور پر مراٹھی قوم پرستی کا ایک مضبوط قلعہ رہی ہے۔ تاہم، جون 2022 میں Eknath Shinde کی قیادت میں 40 ممبران اسمبلی کی بغاوت نے پارٹی کے اتحاد کو پارہ پارہ کر دیا، جس کے بعد Election Commission نے 'Shiv Sena' کا نام اور 'تیر کمان' کا نشان Shinde گروپ کو دے دیا۔

موجودہ سیاسی عدم استحکام Uddhav Thackeray کے 2019 کے اس فیصلے کا براہِ راست نتیجہ ہے جس میں انہوں نے BJP سے برسوں پرانا اتحاد توڑ کر نظریاتی حریفوں کے ساتھ حکومت بنائی تھی۔ اس فیصلے نے کارکنوں میں گہری بے چینی پیدا کی، جس کا فائدہ اب مخالف دھڑے ٹھاکرے خاندان کی دہائیوں پرانی بالادستی ختم کرنے کے لیے اٹھا رہے ہیں۔

عوامی ردعمل

میڈیا میں اس صورتحال کو انتہائی غیر یقینی اور شک و شبہات کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ ٹھاکرے کیمپ کا اپنے نمائندوں سے رابطہ نہ ہونا 2022 کے بڑے سیاسی زلزلے کی یاد دلاتا ہے۔ جہاں Shinde گروپ پر اعتماد نظر آ رہا ہے، وہیں عوامی حلقوں میں 15 کروڑ روپے کے الزامات کو سیاست کے گرتے ہوئے معیار کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

اہم حقائق

  • شیو سینا (UBT) کے سینیئر رہنما Sanjay Raut نے الزام لگایا ہے کہ پارٹی کے ممبران پارلیمنٹ کو حریف Eknath Shinde گروپ میں شامل ہونے کے لیے 15، 15 کروڑ روپے کی پیشکش کی گئی ہے۔
  • اتوار کو ممبئی میں Uddhav Thackeray کی زیرِ صدارت ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں نو میں سے صرف چار Lok Sabha ممبران نے شرکت کی۔
  • اطلاعات کے مطابق Shiv Sena (UBT) کے کئی ممبران پارلیمنٹ نے اپنے موبائل فون بند کر دیے ہیں اور وہ Shrikant Shinde کی رہائش گاہ پر ہونے والے اجلاس کے لیے نئی دہلی پہنچ گئے ہیں۔

📍 مقامات

© OpenStreetMap
📍 Delhi📍 Mumbai

ذرائع

یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔

Maharashtra Power Struggle: Shiv Sena (UBT) Teeters on Brink of New Rebellion - Haroof News | حروف