جنتر منتر پر کریک ڈاؤن: NEET احتجاج میں شدت کے دوران سونم وانگچک ہسپتال منتقل
نئی دہلی کے احتجاجی مرکز سے انتہائی کمزور سونم وانگچک کی زبردستی منتقلی ریاست کی ایک ایسی مایوس کن کوشش ہے جس کا مقصد پارلیمنٹ تک پہنچنے سے پہلے ہی طلباء کی اس ابھرتی ہوئی تحریک کو ختم کرنا ہے۔
While the core facts regarding the removal are corroborated, the narrative employs highly emotive language and presents disputed claims from activist sources alongside official police statements to highlight the conflict.

"اگر پیاز کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر حکومتیں گر سکتی ہیں، تو طلباء کے لیے جوابدہی کا مطالبہ بھی سیاسی تبدیلی لا سکتا ہے۔"
تفصیلی جائزہ
پولیس مداخلت کا وقت—مون سون سیشن کے آغاز پر پارلیمنٹ کی طرف طے شدہ مارچ سے صرف 48 گھنٹے پہلے—حکومت کے لیے ایک بڑی سیاسی سبکی سے بچنے کی حکمت عملی معلوم ہوتی ہے۔ حکام سیاسی کریک ڈاؤن کے تاثر سے بچنے اور احتجاج کے مرکز کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ریاست یہ شرط لگا رہی ہے کہ مرکزی شخصیت کو ہٹانے سے CJP کی قیادت میں چلنے والی اس تحریک کی رفتار کم ہو جائے گی۔
بیانات میں تضاد سرکاری رپورٹس اور کارکنوں کے دعووں کے درمیان کشیدگی کو ظاہر کرتا ہے؛ جہاں دہلی پولیس ہائی کورٹ کے احکامات کے مطابق 'ضروری طبی دیکھ بھال' کا دعویٰ کر رہی ہے، وہیں CJP کے بانی ابھیجیت ڈپکے کا کہنا ہے کہ انہیں 'تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور زبردستی حراست میں لیا گیا'۔
پس منظر اور تاریخ
جنتر منتر طویل عرصے سے ہندوستان میں سیاسی احتجاج کا مرکز رہا ہے، جہاں بھوک ہڑتال کو ریاست کے خلاف ایک طاقتور اخلاقی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ وانگچک نے خود 1980 اور 1998 کے 'پیاز کی قیمتوں' کے احتجاج کا حوالہ دیا ہے کہ کس طرح اہم عوامی مسائل حکومتیں گرانے کی طاقت رکھتے ہیں۔
موجودہ بے چینی NEET سسٹم کے خلاف برسوں سے بڑھتی ہوئی مایوسی کا نتیجہ ہے، جو پیپر لیک اور نظامی خرابیوں کے الزامات کی زد میں رہا ہے۔ National Testing Agency (NTA) پر عوامی اعتماد ختم ہو چکا ہے، جس نے ملک کے نوجوانوں کو بیوروکریٹک بدعنوانی کے خلاف متحد کر دیا ہے۔
عوامی ردعمل
عوامی موڈ وانگچک کی بگڑتی ہوئی جسمانی حالت کے لیے ہمدردی اور حکومت کے 'سنگدلانہ' رویے کے خلاف بڑھتے ہوئے غصے کا مجموعہ ہے۔ اداریے اور کارکنوں کے بیانات اسے انسانی ہمدردی کے بجائے ایک تزویراتی کریک ڈاؤن کے طور پر دیکھ رہے ہیں جس کا مقصد لاکھوں طلباء کی آواز کو دبانا ہے۔
اہم حقائق
- •سونم وانگچک اپنی 21 روزہ بھوک ہڑتال کے دوران تقریباً 20 فیصد وزن اور 9 کلوگرام سے زائد وزن کھو چکے ہیں۔
- •دہلی پولیس نے ہائی کورٹ کے حکم اور بگڑتی ہوئی صحت کا حوالہ دیتے ہوئے 18 جولائی 2026 کو وانگچک کو جنتر منتر سے ہٹا کر ہسپتال منتقل کر دیا۔
- •احتجاج کی جگہ خالی کرانے کے آپریشن کے دوران Cockroach Janta Party (CJP) کے بانی ابھیجیت ڈپکے کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔