افغانستان میں 6.2 شدت کا زلزلہ، پورے جنوبی ایشیا میں خوف و ہراس کی لہر
کوہِ ہندوکش میں آنے والے ایک گہرے زلزلے نے ایک بار پھر خطے کی کمزور جغرافیائی اور انفراسٹرکچر کی صورتحال کو بے نقاب کر دیا ہے، جس کے بعد کابل سے لے کر نئی دہلی تک لاکھوں لوگ گھروں سے باہر نکل آئے۔
This brief is primarily fact-based, drawing on data from international and national seismic monitoring agencies. The 'Disputed Claims' tag is applied specifically to address the minor discrepancies in magnitude reporting (6.2 vs 5.9) between Indian and Pakistani sources.
"دارالحکومت کے کئی علاقوں میں زلزلے کے جھٹکوں کی وجہ سے افراتفری پھیل گئی اور شہری اپنے گھروں اور دفاتر سے باہر کی طرف بھاگے۔"
تفصیلی جائزہ
اس زلزلے کی 215 کلومیٹر کی زیادہ گہرائی نے ممکنہ طور پر سطح زمین پر بڑی تباہی کو روک لیا، لیکن اس کے وسیع جغرافیائی پھیلاؤ نے کوہِ ہندوکش کے زلزلے والے زون کی مسلسل خطرے کی صورتحال کو واضح کر دیا ہے۔ کابل میں طالبان انتظامیہ اور اسلام آباد کی حکومت کے لیے، ایسے واقعات ان کی آفات سے نمٹنے کی صلاحیتوں کا امتحان لیتے ہیں جو پہلے ہی سیاسی تنہائی اور معاشی عدم استحکام کا شکار ہیں۔ سرحد پار امداد کے حوالے سے تعاون کی کمی اب بھی ایک بڑا پالیسی گیپ ہے، ایسے خطے میں جہاں زمین کی ٹیکٹونک پلیٹیں قومی حدود کو نہیں مانتیں۔
واقعے کے فوراً بعد اعداد و شمار میں فرق سامنے آیا؛ جہاں ہندوستانی اداروں اور USGS نے 6.2 شدت بتائی، وہیں کچھ پاکستانی ذرائع نے ابتدا میں اسے 5.9 قرار دیا۔ یہ فرق جنوبی ایشیا میں ریئل ٹائم سائنسی ہم آہنگی کے چیلنج کو ظاہر کرتا ہے، جہاں اکثر جغرافیائی سیاسی تناؤ تکنیکی ڈیٹا کی فراہمی میں رکاوٹ بنتا ہے۔ ایک متحد علاقائی ارلی وارننگ سسٹم کی ضرورت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ دہلی اور اسلام آباد جیسے شہروں میں زلزلے سے بچاؤ کے قوانین پر عمل درآمد کے بغیر اونچی عمارتوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
پس منظر اور تاریخ
کوہِ ہندوکش کا خطہ انڈین اور یوریشین ٹیکٹونک پلیٹوں کے خطرناک سنگم پر واقع ہے، جو اسے دنیا کے فعال ترین زلزلے والے علاقوں میں سے ایک بناتا ہے۔ اس مخصوص کوریڈور کی تاریخ کافی خوفناک رہی ہے، جس میں سب سے نمایاں 2005 کا کشمیر زلزلہ ہے جس میں 80,000 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، اور حال ہی میں 2023 کے جھٹکے جنہوں نے پاک افغان سرحد پر بڑا جانی نقصان پہنچایا۔ ماضی میں ایسے واقعات کے نتیجے میں تھوڑی دیر کے لیے 'ارتھ کوئیک ڈپلومیسی' دیکھنے کو ملتی ہے جہاں حریف ممالک امداد کی اجازت دیتے ہیں، حالانکہ یہ مواقع شاذ و نادر ہی طویل مدتی پالیسی کی تبدیلیوں کا باعث بنتے ہیں۔
اس خطے کا انفراسٹرکچر اب بھی بڑی حد تک جدید زلزلہ کوڈز کے مطابق نہیں ہے، جس کی وجہ سے معمولی زمینی تبدیلیاں بھی انسانی المیوں میں بدل جاتی ہیں۔ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران کابل اور راولپنڈی جیسے شہروں میں غیر منظم اربنائزیشن نے زلزلے کے خطرے کو مزید بڑھا دیا ہے۔ عالمی ماہرینِ ارضیات کی بار بار تنبیہ کے باوجود، علاقائی حکومتوں نے پرانی عمارتوں کی مرمت کے بجائے قلیل مدتی معاشی پھیلاؤ کو ترجیح دی ہے۔
عوامی ردعمل
اس وقت مجموعی طور پر شدید بے چینی اور خوف کی فضا پائی جاتی ہے، خاص طور پر گنجان آباد شہروں میں جہاں شہریوں نے بڑی تعداد میں عمارتوں کو خالی کر دیا۔ عوام میں ایک تھکن کا احساس بھی واضح ہے، کیونکہ یہ واقعہ دیگر عالمی قدرتی آفات کے فوراً بعد آیا ہے، جس سے جنوبی ایشیا کے بڑے شہروں میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ گیا ہے جو بڑے زلزلوں کے لیے تیار نہیں ہیں۔
اہم حقائق
- •27 جون 2026 کو افغانستان کے شمال مشرقی علاقے جرم کے قریب 6.2 شدت کا زلزلہ آیا جس کی گہرائی 215 کلومیٹر تھی۔
- •زلزلے کے جھٹکے سرحد کے دونوں اطراف کابل، اسلام آباد، پشاور، راولپنڈی اور نئی دہلی سمیت وسیع علاقے میں محسوس کیے گئے۔
- •نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی نے تصدیق کی ہے کہ یہ زلزلہ ہندوستانی وقت کے مطابق شام 19:04 بجے 36.442 N اور 70.672 E کے کوآرڈینیٹس پر آیا۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔