ح
واپس خبروں پر جائیں
🔥 Trending
✨ AI BRIEF
Climate & Environment18 جون، 2026Fact Confidence: 85%

SUPARCO نے 130 گلیشیئر جھیلوں کو GLOF کے شدید خطرے کے لیے ہائی الرٹ قرار دے دیا

جب دنیا کی چھت کہلانے والے پہاڑ بڑھتی ہوئی گرمی کی وجہ سے پگھل رہے ہیں، پاکستان کی خلائی ایجنسی پہاڑی علاقوں کو تباہ کن سیلاب سے بچانے کے لیے ہائی ٹیک نگرانی کے ایک مشکل مشن میں مصروف ہے۔

AI Editor's Analysis
Fact-BasedSensationalizedPro-State Leaning

The report correctly synthesizes scientific data from Pakistan's national space agency, though it adopts a heightened, sensationalized tone regarding the climate threat and relies on state-provided surveillance data as its primary source.

تفصیلی جائزہ

ان 130 جھیلوں کی نگرانی پاکستان کے لیے پالیسی کی سطح پر بہت اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ پاکستان عالمی سطح پر صرف 1 فیصد سے بھی کم کاربن کے اخراج کے باوجود موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملکوں میں شامل ہے۔ SUPARCO کے سیٹلائٹ ڈیٹا پر انحصار اس بات کا ثبوت ہے کہ اب ٹیکنالوجی کے ذریعے آفات سے نمٹنا ناگزیر ہو چکا ہے، کیونکہ پاکستان کے دشوار گزار شمالی علاقوں میں زمینی سطح پر نگرانی ممکن نہیں ہے۔ یہ ڈیٹا ان 'خاموش قاتلوں' کے خلاف دفاع کی پہلی لکیر ہے جو منٹوں میں لاکھوں کیوبک میٹر پانی بہا کر لا سکتے ہیں۔

ڈیٹا جمع کرنے اور اسے آخری حد تک پہنچانے کے درمیان اب بھی ایک بڑا خلا موجود ہے۔ اگرچہ SUPARCO نے ان جھیلوں کو 'ڈینجر واچ' پر رکھا ہے، لیکن ماضی میں مقامی اداروں کی کارکردگی بتاتی ہے کہ سیٹلائٹ الرٹس کو دور دراز کے دیہاتوں میں انخلاء کی کارروائیوں میں بدلنے میں وقت لگ جاتا ہے۔ یہاں تمام طاقت وفاق کے پاس ہے کیونکہ ٹیکنیکل ڈیٹا اسلام آباد کے پاس ہے، لیکن پہاڑی آبادیوں کی بقا کا دارومدار مکمل طور پر صوبائی حکام کی بروقت کارروائی پر ہے۔

پس منظر اور تاریخ

پاکستان میں 7,000 سے زیادہ گلیشیئرز ہیں، جو قطبین کے باہر برف کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں ہمالیہ کے پگھلنے کی رفتار تیز ہونے سے نئی جھیلیں بن رہی ہیں جو اکثر کمزور چٹانوں اور برف کے سہارے رکی ہوتی ہیں۔ 2022 میں ششپر گلیشیئر کے پھٹنے سے شاہراہِ قراقرم پر حسن آباد پل کی تباہی نے اس نگرانی کے عمل کو تیز کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

ماضی میں GLOF کے واقعات دہائیوں میں ایک بار ہوتے تھے، لیکن بڑھتے ہوئے عالمی درجہ حرارت کی وجہ سے اب یہ کثرت سے ہونے لگے ہیں۔ SUPARCO کا یہ ٹیکنالوجیکل رخ برسوں کے عالمی دباؤ اور ملکی ضرورت کا نتیجہ ہے تاکہ ریسکیو آپریشنز کے بجائے ایک سائنسی ارلی وارننگ سسٹم کے ذریعے ملک کے نازک شمالی انفراسٹرکچر کی حفاظت کی جا سکے۔

عوامی ردعمل

ایڈیٹوریل کا مجموعی تاثر سائنسی ضرورت اور انتظامی تشویش پر مبنی ہے۔ توجہ شمالی علاقوں کی خوبصورتی پر نہیں بلکہ ان سے وابستہ وجودی خطرات پر ہے، اور SUPARCO کی نگرانی کو کلائمیٹ کرائسز سے نمٹنے کے لیے ایک کڑوی مگر ناگزیر ضرورت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

اہم حقائق

  • SUPARCO (پاکستان سپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن) نے 130 گلیشیئر جھیلوں کی نشاندہی کی ہے جہاں GLOF (گلیشیئر جھیل پھٹنے سے آنے والے سیلاب) کا شدید خطرہ ہے۔
  • ان جھیلوں کی نگرانی سیٹلائٹ پر مبنی ریموٹ سینسنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے کی جا رہی ہے تاکہ قراقرم، ہندوکش اور ہمالیہ کے پہاڑی سلسلوں میں جھیلوں کے حجم اور گلیشیئرز کے پگھلنے کی رفتار پر نظر رکھی جا سکے۔
  • ان جھیلوں کی نشاندہی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے اداروں کے لیے ایک ارلی وارننگ سسٹم کا کام دے گی تاکہ نشیبی علاقوں میں رہنے والی آبادیوں کو بروقت تیار کیا جا سکے۔

📍 مقامات

© OpenStreetMap
📍 Gilgit-Baltistan📍 Islamabad

ذرائع

یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔

SUPARCO Flags 130 Glacial Lakes for Imminent GLOF Risk - Haroof News | حروف