سپریم کورٹ نے دیر سے پہنچنے والے میل ان بیلٹس کے خلاف ٹرمپ کی درخواست مسترد کر دی
عدالتی قانونی تشریح اور صدارتی دباؤ کے ایک اہم ٹکراؤ میں، سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کی میل ان ووٹنگ کو محدود کرنے کی کوششوں کو ایک بڑا جھٹکا دیتے ہوئے ایک درجن سے زائد ریاستوں میں بیلٹ وصول کرنے کی اضافی مدت کو برقرار رکھا ہے۔
This brief synthesizes information from a reputable international source while identifying the inclusion of sensationalist political rhetoric and unverified claims of voter fraud as part of the broader contextual narrative.

""الیکشن ڈے کے قوانین میں بیلٹ کی وصولی کے بارے میں کچھ نہیں لکھا، اور ہم کانگریس کے منتخب کردہ الفاظ میں اپنی طرف سے کچھ نہیں جوڑ سکتے۔""
تفصیلی جائزہ
یہ فیصلہ عدالت کے قدامت پسند ونگ کے اندر ایک واضح اختلاف کو ظاہر کرتا ہے، جہاں جسٹس Amy Coney Barrett کی قانونی متن پر سختی سے عمل کرنے کی پالیسی (Textualism) ٹرمپ انتظامیہ کی سیاسی ضروریات پر غالب آگئی۔ وفاقی قانون میں 'وصولی کی ڈیڈ لائن' خود سے شامل نہ کر کے، اکثریتی ججز نے ریاستی سطح پر ملنے والی رعایت کو وفاقی مداخلت سے محفوظ کر دیا ہے۔
Donald Trump کا دعویٰ ہے کہ میل ان بیلٹس میں 'دھاندلی کا خطرہ' ہے اور یہ فیصلہ ایک 'بڑی شکست' ہے، جبکہ جسٹس Alito نے اپنے اختلافی نوٹ میں کہا کہ دیر سے پہنچنے والے بیلٹس کی اجازت دینا وفاقی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے الیکشن کو 'موخر' کرنے کے مترادف ہے۔
پس منظر اور تاریخ
میل ان ووٹنگ کا تنازعہ 2020 کے الیکشن کے دوران عروج پر پہنچا جب COVID-19 کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ریموٹ بیلٹنگ کا رجحان بڑھا۔ اس تبدیلی کی وجہ سے ریپبلکن نیشنل کمیٹی اور ٹرمپ مہم کی جانب سے مقدمات کی لہر آئی۔
تاریخی طور پر، امریکی آئین کا آرٹیکل 1 ریاستی اسمبلیوں کو الیکشن کے وقت، جگہ اور طریقہ کار کو ریگولیٹ کرنے کا بنیادی اختیار دیتا ہے۔ سپریم کورٹ نے دہائیوں تک ریاست کی خودمختاری اور وفاقی نگرانی کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔
عوامی ردعمل
اس فیصلے پر عوامی ردعمل شدید تقسیم کا شکار ہے۔ Donald Trump اور ان کے اتحادیوں نے اسے 'دھاندلی' کی دعوت قرار دیا ہے، جبکہ قانونی ماہرین اسے جسٹس Amy Coney Barrett کی جانب سے خود مختاری کا اظہار سمجھ رہے ہیں۔ ووٹنگ کے حقوق کے علمبرداروں نے سکون کا سانس لیا ہے۔
اہم حقائق
- •سپریم کورٹ نے 4 کے مقابلے میں 5 ووٹوں سے مسیسیپی کے اس قانون کو برقرار رکھا جس کے تحت الیکشن ڈے تک پوسٹ مارک ہونے والے بیلٹس اگر پانچ دن کے اندر پہنچ جائیں تو انہیں شمار کیا جا سکتا ہے۔
- •جسٹس Amy Coney Barrett نے اکثریتی فیصلہ تحریر کیا، جس میں چیف جسٹس John Roberts اور عدالت کے تین لبرل ججز بھی شامل تھے۔
- •اس فیصلے کا براہ راست اثر 12 سے زائد ریاستوں کے ووٹنگ طریقہ کار پر پڑے گا جو کہ آنے والے مڈ ٹرم الیکشنز میں کانگریس کے کنٹرول کا فیصلہ کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔