Supreme Court نے ڈونلڈ ٹرمپ کے پیدائشی شہریت کے چیلنج کو مسترد کر دیا، 150 سالہ قانونی ستون برقرار
ملک کی سب سے بڑی عدالت نے امریکی شناخت کو دوبارہ متعین کرنے کی ایک انتہا پسندانہ صدارتی کوشش کے دروازے بند کر دیے ہیں، لیکن 6-3 کی تقسیم ظاہر کرتی ہے کہ عدلیہ ایسی نظریات پر غور کرنے کے خطرناک حد تک قریب ہے جو لاکھوں لوگوں کو ان کے حقوق سے محروم کر سکتے ہیں۔
This brief synthesizes factual reporting on a Supreme Court ruling with analytical framing from The Guardian, which uses subjective language like 'radical' and 'fringe theories' to describe the legal challenge and dissent.

"شہریت، پہلے بھی اور اب بھی، حقوق حاصل کرنے کا حق تھا - تاکہ ہماری سیاسی برادری میں آزادانہ طور پر حصہ لیا جا سکے۔"
تفصیلی جائزہ
یہ فیصلہ نیشنلسٹ امیگریشن ایجنڈے کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، تاہم 6-3 کی تقسیم عدالت کے اندر گہری نظریاتی خلیج کو واضح کرتی ہے۔ جہاں اکثریت نے 14 ویں ترمیم کی 150 سالہ مثال کی توثیق کی، وہیں تین اختلافی ووٹ یہ بتاتے ہیں کہ پیدائشی شہریت کو چیلنج کرنے والے غیر معروف قانونی نظریات نے عدلیہ کے اعلیٰ ترین درجے میں جگہ بنا لی ہے۔ BBC کے مطابق یہ فیصلہ Donald Trump کے ایجنڈے کے لیے ایک 'بڑی ناکامی' ہے، جبکہ The Guardian کا کہنا ہے کہ غیر متفقہ فیصلے کی وجہ سے اس سے صرف 'جزوی ریلیف' ملا ہے۔
اب طاقت کی جنگ انتظامیہ سے نکل کر Congress کے ایوانوں میں منتقل ہو گئی ہے۔ فیصلے کے بعد Donald Trump نے قانون سازی کی حکمت عملی کا اشارہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں ہے اور اس عمل کو ختم کرنے کے لیے فوری پارلیمانی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اس سے ایک بڑے مقابلے کی بنیاد پڑ گئی ہے جہاں 'دائرہ اختیار' کی تعریف کو بنیادی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائے گا، کیونکہ فیصلے کے مخالفین Chief Justice Roberts کی آئینی تشریح کو بائی پاس کرنے کے لیے وفاقی قانون کا سہارا لینا چاہتے ہیں۔
پس منظر اور تاریخ
پیدائشی شہریت امریکی آئین کی 14 ویں ترمیم میں شامل ہے، جس کی توثیق 1868 میں خانہ جنگی کے بعد Reconstruction کے دور میں ہوئی تھی۔ اس کا بنیادی مقصد سابقہ غلاموں کو شہریت کی ضمانت دینا تھا، جس نے 1857 کے بدنام زمانہ Dred Scott فیصلے کو ختم کر دیا جس میں کہا گیا تھا کہ سیاہ فام لوگ US کے شہری نہیں ہو سکتے۔ پچھلی ڈیڑھ صدی کے دوران، 'jus soli' (زمین کا حق) کے اس اصول کو United States v. Wong Kim Ark (1898) جیسے اہم مقدمات سے تقویت ملی، جس نے اس بات کی تصدیق کی کہ امریکی سرزمین پر پیدا ہونے والے غیر ملکیوں کے بچے بھی شہری ہیں۔
لفظ 'subject to the jurisdiction thereof' کی تشریح دہائیوں سے بحث کا مرکز رہی ہے۔ پابندیوں کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب سیاسی وفاداری ہے جو غیر قانونی تارکین وطن فراہم نہیں کر سکتے، جبکہ عام قانونی ماہرین اور اب Roberts کورٹ کا موقف ہے کہ اس کا مطلب صرف امریکی سرزمین پر موجود رہتے ہوئے وہاں کے قوانین کے تابع ہونا ہے۔
عوامی ردعمل
ردعمل شہری حقوق کے علمبرداروں کے گہرے سکون اور سیاسی دائیں بازو کے سخت عزم کے درمیان منقسم ہے۔ تارکین وطن کے حقوق کے گروپوں نے اس فیصلے کو کثیر النسلی جمہوریت کے امریکی تصور کی فتح قرار دیا، اگرچہ انہوں نے تین قدامت پسند ججوں کے اختلاف پر تشویش کا اظہار کیا۔ دوسری طرف، Donald Trump اور ان کے حامیوں نے اس فیصلے کو 'بہت برا' اور 'ناانصافی' قرار دیتے ہوئے اس عدالتی شکست کو فوری طور پر ایک نئی قانون سازی اور انتخابی مہم کے آغاز کے طور پر پیش کیا۔
اہم حقائق
- •امریکی Supreme Court نے 6-3 کے فیصلے سے قرار دیا کہ United States میں پیدا ہونے والے بچے 14 ویں ترمیم کے تحت پیدائشی شہری ہیں، چاہے ان کے والدین کی قانونی حیثیت کچھ بھی ہو۔
- •یہ فیصلہ Donald Trump کے اس صدارتی حکم نامے کو کالعدم قرار دیتا ہے جس میں یہ دلیل دی گئی تھی کہ غیر قانونی تارکین وطن کے بچے US کی 'دائرہ اختیار' (jurisdiction) میں نہیں آتے۔
- •اگر یہ چیلنج کامیاب ہو جاتا تو ہر سال United States میں پیدا ہونے والے تقریباً 250,000 بچوں کی شہریت چھن جانے یا ان کے بے وطن ہونے کا خطرہ تھا۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔