آسام میں پاور پلے: Sushmita Dev کا TMC چھوڑنا BJP کے ساتھ نئے سیاسی جوڑ توڑ کا اشارہ
شمال مشرقی بھارت کی سیاست کے اس بڑے کھیل میں، Sushmita Dev اور Himanta Biswa Sarma کی مسکراتی ہوئی تصویر محض ایک رسمی ملاقات نہیں ہے بلکہ یہ ایک سوچی سمجھی تبدیلی کا واضح نشان ہے جو علاقائی طاقت کا توازن بدل کر رکھ دے گی۔
The report correctly synthesizes documented facts regarding the resignation and public meeting, but it includes internal claims regarding a 'scripted' exit which are attributed to anonymous political sources rather than public record.
""ایک آزاد ملک اور جمہوریت میں مجھے یہ حق حاصل ہے کہ میں فیصلہ کروں کہ میں کس پارٹی کی حمایت کروں گی، میں کس قسم کی سیاست کروں گی، اور یہ کہ میں سیاست کروں گی بھی یا نہیں۔""
تفصیلی جائزہ
یہ قدم Trinamool Congress (TMC) کے ملک گیر پھیلاؤ کے عزائم کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ شمال مشرق میں ایک بڑے چہرے کے کھونے سے، Mamata Banerjee کی پارٹی کو آسام اور تریپورہ میں اثر و رسوخ کی کمی کا سامنا ہے جہاں Dev ایک اہم حکمت عملی ساز تھیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ Dev اسے اپنا ذاتی اور جمہوری فیصلہ قرار دے رہی ہیں، لیکن Sarma کے ساتھ ان کی فوری ملاقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اپنے سیاسی مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے BJP کے زیر قیادت اتحاد میں شامل ہونے کا پہلے سے طے شدہ منصوبہ ہے۔
یہاں طاقت کا توازن Himanta Biswa Sarma کے گرد گھومتا ہے جو خطے میں BJP کے اہم "fixer" سمجھے جاتے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ Sarma نے اس علیحدگی کا پورا اسکرپٹ خود تیار کیا ہے اور ان سے ریاستی سیاست میں واپسی پر بات کی ہے، جبکہ Dev اس ملاقات کو محض ایک پرانے استاد سے مشورہ لینے کا نام دے رہی ہیں۔ یہ تضاد بھارتی سیاست میں ذاتی تعلقات اور مفادات کے نظریاتی وابستگیوں پر بھاری پڑنے کی عکاسی کرتا ہے۔
پس منظر اور تاریخ
Sushmita Dev اور Himanta Biswa Sarma کے درمیان Indian National Congress میں کام کرنے کا پرانا سیاسی تعلق ہے۔ ایک دہائی قبل، Dev اس گروپ کا حصہ تھیں جس نے مرحوم وزیر اعلیٰ Tarun Gogoi کے خلاف Sarma کی بغاوت کی حمایت کی تھی، جس کے نتیجے میں 2015 میں Sarma نے BJP میں شمولیت اختیار کی۔
Dev خاندان کا آسام کی باراک ویلی میں طویل عرصے سے اثر و رسوخ رہا ہے، Sushmita کے والد Santosh Mohan Dev کانگریس کے سینئر لیڈر تھے۔ 2021 میں ان کا کانگریس چھوڑ کر TMC میں جانا ایک بڑی تبدیلی سمجھی گئی تھی، لیکن الیکشن میں کوئی بڑی کامیابی نہ ملنے کی وجہ سے اب انہوں نے دوبارہ علاقائی طاقت کے مرکز یعنی BJP کی طرف رخ کر لیا ہے۔
عوامی ردعمل
تبصروں میں بھارتی سیاست کے اس بدلتے ہوئے رنگ کو "گھومتا ہوا دروازہ" قرار دیا جا رہا ہے جہاں لیڈران اپنی وفاداریاں بدلتے رہتے ہیں۔ BJP کے حامی اسے شمال مشرق میں پارٹی کی بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں، جبکہ مخالفین اسے سیاسی بقا کی کوشش سمجھ رہے ہیں۔ دونوں لیڈروں کی تصویر اس بات کی علامت بن گئی ہے کہ کس طرح BJP مخالف کیمپوں کے سینئر لیڈروں کو اپنی طرف کھینچ رہی ہے۔
اہم حقائق
- •Sushmita Dev نے بدھ کے روز Rajya Sabha اور Trinamool Congress (TMC) دونوں کی نشستوں سے استعفیٰ دے دیا۔
- •اپنے استعفیٰ کے فوری بعد، Dev نے گوہاٹی میں آسام کے وزیر اعلیٰ Himanta Biswa Sarma کے ساتھ ایک عوامی ملاقات کی۔
- •Dev نے عوامی طور پر Sarma کو اپنا "سیاسی رہنما" قرار دیا اور تصدیق کی کہ انہوں نے اپنے مستقبل کے سیاسی روڈ میپ کے بارے میں ان سے مشورہ لیا ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔