ح
واپس خبروں پر جائیں
🔥 Trending
✨ AI BRIEF
Middle East18 ستمبر، 20263 منٹایک ذریعہ

اقوام متحدہ میں شام، اسرائیل اور ترکی کے درمیان فوجی موجودگی پر تلخ جملوں کا تبادلہ

خلیج میں مقیم پاکستانیوں کے لیے مشرق وسطیٰ کی یہ کشیدگی سیکورٹی اور استحکام پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں سفارتی آداب اس وقت ہوا ہوئے جب شام، اسرائیل اور ترکی نے ایک دوسرے پر غیر قانونی قبضوں اور خود مختاری کی خلاف ورزی کے سنگین الزامات لگائے۔

AI Editor's Analysis
Single sourceDisputed claimsAnalytical

This report relies exclusively on a single outlet's summary of UN proceedings, and because the claims regarding troop counts and legal invitations are directly contested by the involved states, they are tagged as disputed.

اقوام متحدہ میں شام، اسرائیل اور ترکی کے درمیان فوجی موجودگی پر تلخ جملوں کا تبادلہ
"اگر اسرائیل کی چھوٹی سی حفاظتی پٹی شام کے استحکام کے لیے خطرہ ہے، تو اس غیر ملکی طاقت کے بارے میں کیا خیال ہے جو شامی سرزمین کے بہت بڑے حصے پر قابض ہے؟ میں ترکی کی بات کر رہا ہوں۔"
Danny Danon (The Israeli Ambassador to the UN responding to accusations of violating Syrian sovereignty at the UN Security Council.)

تفصیلی جائزہ

Al Jazeera کے مطابق، یہ محاذ آرائی بشار الاسد کے بعد شام میں منتقلی کے عمل کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے، جہاں بیرونی طاقتیں اپنے طویل مدتی فوجی اثر و رسوخ کے لیے مقابلہ کر رہی ہیں۔ یہ بحث ظاہر کرتی ہے کہ اگرچہ مرکزی حکومت بدل گئی ہے، لیکن شام اب بھی اسرائیل اور ترکی کے درمیان علاقائی رقابت کا مرکز ہے، جہاں دونوں ممالک اپنی موجودگی کو 'دفاعی ضرورت' قرار دے رہے ہیں۔

یہ صورتحال علاقائی طاقت کے توازن میں تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے؛ اسرائیل اب ترکی کے اثر و رسوخ کو کم کرنے کے لیے اسے 'ایرانی پراکسی' کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ دوسری طرف، ترکی خود کو نئی شامی انتظامیہ کے قانونی شراکت دار کے طور پر دکھا رہا ہے تاکہ اسرائیل کی مداخلت کے مقابلے میں اپنی پوزیشن مستحکم کر سکے۔

پس منظر اور تاریخ

شامی سرزمین پر تنازع دہائیوں پر محیط ہے، جس کا مرکز گولان ہائٹس ہے جس پر اسرائیل نے 1967 میں قبضہ کیا تھا، جسے عالمی برادری تسلیم نہیں کرتی۔ 2011 میں شروع ہونے والی شامی خانہ جنگی کے دوران، ترکی، ایران اور اسرائیل جیسے علاقائی ممالک اپنی قومی سلامتی کے نام پر اس جنگ میں شامل ہوئے۔

گزشتہ دہائی میں ترکی کی مداخلت میں اضافہ ہوا جس کا مقصد اپنی جنوبی سرحد کو کرد ملیشیا سے محفوظ بنانا اور پناہ گزینوں کے بحران کو سنبھالنا تھا۔ اسد حکومت کے خاتمے کے بعد، ان غیر ملکی افواج کی قانونی حیثیت اقوام متحدہ میں ایک بڑا تنازع بن گئی ہے۔

عوامی ردعمل

اس گفتگو کا لہجہ انتہائی مخالفانہ اور دفاعی ہے۔ شام خود کو مظلوم اور خود مختاری کا شکار پیش کر رہا ہے، جبکہ اسرائیل توجہ ہٹانے کے لیے ترکی پر تنقید کر رہا ہے۔ ترکی کا جواب اپنی موجودگی کو قانونی ثابت کرنے کی کوشش ہے جو کہ خطے میں گہری بے اعتمادی کی عکاسی کرتا ہے۔

اہم حقائق

  • شام کے مستقل نمائندے ابراہیم اولابی نے اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ مذاکرات کی کوششوں کا جواب فضائی حملوں اور شامی سرحدوں کی خلاف ورزی سے دے رہا ہے۔
  • اسرائیلی سفیر ڈینی ڈینن نے دعویٰ کیا کہ ترکی کے 20,000 فوجی اور 100 سے زائد اڈے شام میں موجود ہیں، جو ملک کے 5 فیصد حصے کو کنٹرول کر رہے ہیں۔
  • ترک سفیر احمد یلدیز نے موقف اختیار کیا کہ ترک افواج دمشق حکومت کی باضابطہ دعوت پر شام میں موجود ہیں۔

📍 مقامات

© OpenStreetMap
📍 Damascus📍 New York

ذرائع

یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔

Syria, Israel, and Turkey clash at UN over military presence - Haroof News | حروف