ترنمول کانگریس میں دراڑ گہری ہو گئی: باغی گروپ کا پارٹی کنٹرول کے لیے قانونی کارروائی کا آغاز
ترنمول کانگریس کے اندر ایک سوچا سمجھا بغاوتی عمل شدت اختیار کر چکا ہے، جہاں باغی قانون سازوں نے ممتا بنرجی سے پارٹی کی پہچان اور اختیار چھیننے کے لیے ایک بڑا قانونی داؤ کھیلا ہے۔
This brief synthesizes consistent reporting from multiple established news outlets regarding internal political maneuvers, while correctly attributing the 'real party' status as a legal claim rather than an established fact.

""جب آپ پارٹی کے دو تہائی ارکان کے ساتھ الگ ہوتے ہیں، تو آپ پہلے ہی دن پارٹی کے نام کا مطالبہ نہیں کر سکتے... جولائی میں، ہم مطالبہ کریں گے کہ ترنمول کا نام ہمیں دیا جائے کیونکہ ہمارے پاس دو تہائی اکثریت ہے۔""
تفصیلی جائزہ
یہ محض کوئی پارٹی چھوڑنے کا معاملہ نہیں بلکہ منظم طریقے سے قبضے کی کوشش ہے۔ عارضی طور پر ایک چھوٹی پارٹی کے ساتھ جڑ کر، باغی نااہلی سے بچنے کے لیے قانونی پناہ تلاش کر رہے ہیں تاکہ جولائی میں عدالت سے خود کو 'اصل' ترنمول کانگریس تسلیم کروانے کی درخواست کر سکیں۔ یہ حکمت عملی مہاراشٹرا میں Shiv Sena اور NCP کے بٹوارے جیسی ہے، جہاں پارٹی کے نشان اور نام کو سیاسی جنگ میں سب سے بڑا انعام بنا دیا گیا تھا۔
یہ تنازع پارٹی ڈسپلن کی مکمل ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ جہاں TMC کے وفادار مدن مترا اسے ووٹرز کے ساتھ 'غداری' اور 'دھوکہ دہی' قرار دے رہے ہیں، وہیں باغی رہنما سدیپ بندوپادھیائے کا کہنا ہے کہ پارٹی اپنے آئین کے مطابق کام کرنا چھوڑ چکی ہے۔ اب یہ بقا کی جنگ بن چکی ہے: اگر باغی کامیاب ہو گئے تو مغربی بنگال کا سیاسی منظر نامہ بدل جائے گا اور وزیر اعلیٰ اپنی ہی پارٹی برانڈ سے محروم ہو سکتی ہیں۔
پس منظر اور تاریخ
ترنمول کانگریس کی بنیاد ایک پھوٹ سے ہی پڑی تھی، جب ممتا بنرجی نے 1998 میں انڈین نیشنل کانگریس سے الگ ہو کر مغربی بنگال میں لیفٹ فرنٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنی پارٹی بنائی۔ دو دہائیوں سے زیادہ عرصے تک پارٹی ممتا بنرجی کی قیادت اور عوامی نظریے کے گرد گھومتی رہی، جس نے 2011 میں 34 سالہ کمیونسٹ دور کا خاتمہ کیا تھا۔
ریاست میں بی جے پی (BJP) کے ابھار اور ابھیشیک بنرجی کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے بعد پارٹی کے اندرونی حالات تبدیل ہونا شروع ہوئے۔ موجودہ بحران قیادت پر قانونی دباؤ اور انتخابی ناکامیوں کا نتیجہ ہے، جس نے باغیوں — جن میں سے اکثر وزیر اعلیٰ کے قریبی ساتھی رہے ہیں — کو پہلی بار ان کی گرفت کو چیلنج کرنے کا حوصلہ دیا ہے۔
عوامی ردعمل
فضا شدید غداری اور سوچی سمجھی جارحیت سے بھرپور ہے۔ ٹی ایم سی کے وفادار اس اقدام کو جمہوری مینڈیٹ کی خلاف ورزی اور ان لوگوں کی 'دھوکہ دہی' قرار دے رہے ہیں جنہوں نے ممتا بنرجی کے نام پر جیت حاصل کی اور پھر انہی کو چھوڑ دیا۔ دوسری طرف، باغی کیمپ قانونی اعتماد کا اظہار کر رہا ہے اور اپنے اقدامات کو پارٹی کی اصلاح کے لیے ضروری قرار دے رہا ہے۔
اہم حقائق
- •ترنمول کانگریس (TMC) کے ناراض ایم پیز کے ایک گروپ نے عبوری قانونی حکمت عملی کے طور پر Nationalist Citizens Party کے ساتھ انضمام کا اعلان کیا ہے۔
- •باغی دھڑے کا دعویٰ ہے کہ انہیں 28 میں سے 22 لوک سبھا ایم پیز کی حمایت حاصل ہے، جو بھارت کے انحراف مخالف قانون (Anti-defection law) سے بچنے کے لیے ضروری دو تہائی اکثریت سے زیادہ ہے۔
- •باغی رہنما 15 جون 2026 کو نئی دہلی میں لوک سبھا کے سپیکر Om Birla سے ملاقات کریں گے تاکہ ایک الگ پارلیمانی بلاک کے طور پر باضابطہ شناخت حاصل کی جا سکے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔