مشرق میں اندرونی پھوٹ: Abhishek Banerjee کے خلاف پرانے رہنماؤں کی بغاوت، TMC بکھرنے لگی
مغربی بنگال کی Trinamool Congress (TMC) پر مضبوط گرفت کمزور پڑنے لگی ہے۔ پارٹی کے پرانے اور سینئر رہنماؤں نے مبینہ طور پر 'ولی عہد' کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے خلاف کھلی بغاوت کر دی ہے۔
The brief accurately synthesizes the core facts regarding the legislative split and resignations within the TMC, though it mirrors the sensationalist framing found in the source material concerning internal power struggles. The narrative focuses on a regional political crisis and correctly attributes claims regarding the 'defunct' status of the corporation to party spokespeople.

""Firhad Hakim نے ہماری سپریمو Mamata Banerjee سے درخواست کی کہ وہ استعفیٰ دینا چاہتے ہیں۔ وہ ایک باعزت رخصتی چاہتے ہیں کیونکہ ریاستی حکومت کارپوریشن کو غیر فعال بنا رہی ہے۔""
تفصیلی جائزہ
موجودہ بغاوت اقتدار کی ایک پیچیدہ جنگ ہے جہاں باغی 'سپریمو' اور 'جانشین' کے درمیان واضح فرق کر رہے ہیں۔ Mamata Banerjee سے وفاداری کا اظہار کرتے ہوئے Abhishek Banerjee کی اتھارٹی کو نشانہ بنا کر، باغی دھڑا پارٹی سے نئے 'کارپوریٹ اسٹائل' کے لیڈروں کو نکالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کا مقصد پارٹی کے فیصلے کرنے والے نظام پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنا ہے، جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ اسے جعلی دستاویزات اور یکطرفہ فیصلوں کے ذریعے ہائی جیک کر لیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ بغاوت Abhishek Banerjee کی بڑھتی ہوئی طاقت اور پارٹی میں جمہوریت کی کمی کا نتیجہ ہے، جبکہ کچھ کا کہنا ہے کہ Firhad Hakim جیسے بڑے لیڈروں کا جانا BJP حکومت کی طرف سے مقامی اداروں کو بے اختیار کرنے کا ردعمل ہے۔ وجہ جو بھی ہو، پرانے رہنماؤں کا یوں پارٹی چھوڑنا ظاہر کرتا ہے کہ الیکشن میں شکست نے TMC کے نظم و ضبط کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
پس منظر اور تاریخ
Trinamool Congress (TMC) کی بنیاد 1998 میں Mamata Banerjee کے Indian National Congress سے الگ ہونے کے بعد پڑی تھی، جس نے بالآخر 2011 میں مغربی بنگال میں 34 سالہ Left Front کی حکومت کا خاتمہ کیا۔ ایک دہائی سے زیادہ عرصے تک، پارٹی Mamata کی کرشماتی شخصیت اور عوامی سیاست کا نام رہی۔ تاہم، ان کے بھتیجے Abhishek Banerjee کو نیشنل جنرل سیکرٹری بنائے جانے سے پارٹی میں ایک مرکزی اور کارپوریٹ طرزِ انتظام شروع ہوا، جسے پرانے رہنماؤں نے خود سے دور پایا۔
2026 میں BJP کے ہاتھوں انتخابی شکست نے اس نسلی تبدیلی کے لیے ایک کڑا امتحان ثابت کیا۔ تاریخی طور پر TMC اندرونی دھڑے بندیوں کا شکار رہی ہے، لیکن موجودہ بغاوت کی شدت—جس میں تقریباً تین چوتھائی ارکان شامل ہیں—بے مثال ہے۔ پارٹی کے قیام کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ مرکزی قیادت کے انتظامی فیصلوں کی قانونی حیثیت کو اسمبلی میں اتنی کھلم کھلا چیلنج کیا گیا ہے۔
عوامی ردعمل
مجموعی طور پر صورتحال کسی ادارے کے ٹوٹنے اور ایک 'عہد کے خاتمے' کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ Mamata Banerjee اب بھی پارٹی کے ماضی کی عظمت کی علامت ہیں، لیکن اپنے بھتیجے اور پرانے وفاداروں کے درمیان صلح کروانے میں ان کی ناکامی کو قیادت کی ناکامی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ عوامی سطح پر اب تاثر یہ ہے کہ TMC اب ایک طاقتور اپوزیشن نہیں رہی بلکہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔
اہم حقائق
- •TMC کے 80 میں سے 59 اراکینِ اسمبلی (MLAs) پر مشتمل ایک باغی دھڑے نے لیڈر آف اپوزیشن کی سرکاری تقرری کو چیلنج کر دیا ہے۔
- •Mamata Banerjee کے قریبی ساتھی اور چار بار کے MLA، Firhad Hakim نے 3 جون 2026 کو میئر آف کولکتہ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
- •BJP نے مغربی بنگال کی 294 رکنی اسمبلی میں 207 نشستیں حاصل کیں، جس سے TMC کا 15 سالہ دورِ اقتدار ختم ہو گیا۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔