ٹرمپ انتظامیہ نے غیر ملکی طلباء اور صحافیوں کے ویزوں پر سخت وقت کی پابندیاں عائد کر دیں
ٹرمپ انتظامیہ نے دہائیوں سے جاری امیگریشن کی روایت کو ختم کرتے ہوئے، ایک نئے وفاقی حکم نامے کے ذریعے لاکھوں غیر ملکی اسکالرز اور صحافیوں کے امریکی خواب کی میعاد مقرر کر دی ہے۔
The draft accurately synthesizes a strong consensus among international sources regarding the specific regulatory changes, while the tone reflects the predominantly critical response from the academic and legal experts cited in the source material.

""یہ قانون... ایک ایسے نظام میں غیر یقینی صورتحال، بیوروکریسی اور خوف پیدا کرتا ہے جو طویل عرصے سے مؤثر طریقے سے کام کر رہا ہے۔ یہ ایک ایسے مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوشش ہے جو حقیقت میں ہے ہی نہیں۔""
تفصیلی جائزہ
ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی کا دعویٰ ہے کہ یہ تبدیلی ویزا کے غلط استعمال کو روکنے اور سیکیورٹی کو بہتر بنانے کے لیے ہے، لیکن Cato Institute اور NAFSA کا کہنا ہے کہ اس کا کوئی قانونی جواز نہیں اور یہ صرف بلاوجہ کی بیوروکریسی ہے۔ ویزا کی توسیع کا اختیار یونیورسٹیوں سے لے کر وفاقی حکومت کو دینے سے، پی ایچ ڈی اور میڈیکل کے طلباء کے لیے بڑی رکاوٹیں پیدا ہو جائیں گی جن کے پروگرام چار سال سے زیادہ ہوتے ہیں۔
یہ پالیسی اہم ہے کیونکہ یہ طاقت تعلیمی اداروں سے لے کر وفاقی افسر شاہی کو منتقل کر دیتی ہے، جس سے امریکہ عالمی ٹیلنٹ کے لیے ایک غیر یقینی جگہ بن جائے گا۔ اگرچہ انتظامیہ اسے سیکیورٹی کی ضرورت قرار دے رہی ہے، لیکن معاشی خطرات بہت زیادہ ہیں: بین الاقوامی طلباء امریکی معیشت میں اربوں ڈالر کا حصہ ڈالتے ہیں، اور یہ پابندیاں ماہر محققین کو دوسرے ممالک کا رخ کرنے پر مجبور کر سکتی ہیں۔
پس منظر اور تاریخ
20 ویں صدی کے وسط سے، 'ڈیوریشن آف سٹیٹس' کی پالیسی امریکی 'سافٹ پاور' کا سنگ بنیاد رہی ہے، جس کے تحت بین الاقوامی طلباء جب تک اپنی ڈگری مکمل کر رہے ہوں، امریکہ میں رہ سکتے تھے۔ اس لچک کی وجہ سے امریکہ نے طویل ڈاکٹریٹ اور پوسٹ ڈاکٹریٹ پروگراموں کے ذریعے محققین کو اپنے پاس رکھ کر عالمی سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں غلبہ حاصل کیا۔
2026 کا یہ قانون دراصل اس پالیسی کا احیاء ہے جو پہلی بار صدر Donald Trump کے پہلے دور میں 2020 میں پیش کی گئی تھی، جسے اس وقت ٹیک کمپنیوں اور Ivy League یونیورسٹیوں کی جانب سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اب اس کا حتمی نفاذ قانونی امیگریشن میں بڑی تبدیلی لانے کے قوم پرست ایجنڈے کی تکمیل ہے، جو لچکدار تعلیمی رہائش کے دور کے خاتمے کی نشاندہی کرتا ہے۔
عوامی ردعمل
تعلیمی اور میڈیا کے شعبوں میں اس پر شدید تشویش اور مذمت پائی جاتی ہے، جو اس پالیسی کو بین الاقوامی تعاون اور صحافتی آزادی پر حملہ تصور کرتے ہیں۔ دوسری جانب، انتظامیہ کا لہجہ سخت ہے اور ان کی توجہ ملکی خودمختاری اور امیگریشن سسٹم کی خامیوں کو ختم کرنے پر مرکوز ہے۔
اہم حقائق
- •ڈیپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکیورٹی نے 'ڈیوریشن آف سٹیٹس' کے بجائے ایف اور جے ویزا ہولڈرز کے لیے چار سال کی مستقل حد مقرر کر دی ہے۔
- •گریجویشن کے بعد امریکہ سے روانگی یا اسٹیٹس تبدیل کرنے کی مہلت 60 دن سے کم کر کے 30 دن کر دی جائے گی۔
- •جرنلسٹ (I) ویزا اب 240 دن تک محدود کر دیا گیا ہے، جبکہ چینی شہریوں کے لیے یہ حد مزید سخت یعنی صرف 90 دن ہوگی۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔