Donald Trump کی مشرق وسطیٰ میں مشکل صورتحال: تہران کی مزاحمت اور Netanyahu کی خفیہ جنگ
جہاں ایک طرف Donald Trump مشرق وسطیٰ کی دلدل سے اسٹریٹجک طریقے سے نکلنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہیں وہ تہران کی ضد اور Netanyahu حکومت کے درمیان پھنس گئے ہیں، جو علاقائی دباؤ کو ہی اپنی بقا کا بنیادی راستہ سمجھتی ہے۔
This report synthesizes professional geopolitical analysis from the BBC's International Editor, focusing on diplomatic mediation by third parties such as Pakistan and Qatar to prevent further regional escalation.

"ایران نے امریکہ کو یاد دلایا ہے کہ مزاحمت کا عزم کم نہیں ہوا اور ضرورت پڑنے پر وہ خلیج میں امریکی اڈوں سمیت وسیع پیمانے پر انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔"
تفصیلی جائزہ
ٹرمپ کی صدارت کا دارومدار ایک ایسے 'بڑے معاہدے' (grand bargain) پر ہے جو ایرانی خطرے کو ختم کر دے تاکہ امریکی افواج کہیں اور توجہ دے سکیں۔ تاہم، تہران اپنے 'مزاحمتی' بیانیے کا استعمال کرتے ہوئے یہ اشارہ دے رہا ہے کہ کسی بھی معاہدے کے لیے پابندیوں کے خاتمے اور خلیج سے امریکی اثاثوں کی واپسی جیسی بڑی رعایتیں دینی ہوں گی۔ ذرائع کے مطابق ایران ٹرمپ کی ضرورت کے باوجود پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہے اور وہ خلیجی انفراسٹرکچر اور امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
Netanyahu فیکٹر اس نازک سفارت کاری کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے۔ اگرچہ ٹرمپ نے حال ہی میں اسرائیلی وزیر اعظم سے بیروت پر حملے روکنے کی یقین دہانی لی ہے، لیکن جنوبی لبنان میں اسرائیل کی مسلسل فوجی کارروائیاں ظاہر کرتی ہیں کہ دونوں کے اسٹریٹجک مقاصد الگ ہو سکتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ اپنے اتحادی کو روک سکے گا یا اسرائیل کے سیکیورٹی اقدامات اسی علاقائی جنگ کو جنم دیں گے جس سے ٹرمپ بچنا چاہتے ہیں۔
پس منظر اور تاریخ
حالیہ تعطل ٹرمپ کے پہلے دور کی 'میکسمم پریشر' (Maximum Pressure) پالیسیوں کا نتیجہ ہے، جس کے تحت 2018 میں امریکہ JCPOA سے پیچھے ہٹ گیا تھا۔ معاہدوں کی اس خلاف ورزی نے تہران میں شدید بے اعتمادی پیدا کی ہے، جس کی وجہ سے ایران اب 'اسٹریٹجک صبر' اور دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی اپنا رہا ہے۔
مزید یہ کہ خطے کی صورتحال کو 'Axis of Resistance' نے بدل دیا ہے، جو ایران کے حمایت یافتہ گروہوں کا ایک نیٹ ورک ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست معاہدہ ہو بھی جائے، تب بھی حزب اللہ یا حوثی جیسے مقامی گروہ کسی بھی وقت بین الاقوامی سفارت کاری کو پٹری سے اتار سکتے ہیں۔
عوامی ردعمل
تجزیہ کاروں میں مجموعی طور پر 'محتاط مایوسی' پائی جاتی ہے۔ اگرچہ پاکستان اور قطر کے ذریعے سفارتی راستہ کھلا ہے، لیکن یہ خوف غالب ہے کہ ایرانی قیادت اور Netanyahu کے لیے سیاسی داؤ اتنے زیادہ ہیں کہ وہ کسی صاف حل کی اجازت نہیں دیں گے۔ اسے ایک خطرناک کھیل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جہاں لیڈروں کی اپنی سیاسی بقا امن کے فائدے پر بھاری پڑ سکتی ہے۔
اہم حقائق
- •8 اپریل 2026 کو ہونے والی جنگ بندی، اکا دکا فوجی جھڑپوں اور مسلسل تناؤ کے باوجود، تکنیکی طور پر ابھی بھی برقرار ہے۔
- •پاکستان اور قطر کے ثالثوں کے ذریعے United States اور ایران کے درمیان سفارتی مذاکرات جاری ہیں۔
- •مذاکرات کے دوران دباؤ برقرار رکھنے کے لیے United States نے ایرانی سرحد کے قریب اپنی بحری اور فضائی فوج کی بڑی تعداد تعینات رکھی ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔