ڈونلڈ ٹرمپ نے گرین لینڈ کے مطالبات اور ایران سے شکایات کے ساتھ انقرہ میں نیٹو (NATO) سربراہی اجلاس میں کھلبلی مچا دی
انقرہ میں جاری نیٹو (NATO) سربراہی اجلاس کے دوران، ڈونلڈ ٹرمپ نے الائنس کے ایجنڈے کو ایک طرح سے ہائی جیک کر لیا ہے۔ انہوں نے امریکہ کی دستبرداری اور گرین لینڈ پر علاقائی مطالبات کی دھمکی کو یورپی دفاعی اداروں کے خلاف دباؤ کے طور پر استعمال کیا ہے۔
The synthesis accurately reflects consistent reporting from the BBC and SCMP regarding the NATO summit events; however, the tags reflect the speculative nature of the Greenland territorial claims and the highly interpretive analysis of the U.S. transactional approach to diplomacy.

"میں صرف یہ آزما رہا تھا کہ آیا وہ ہمارے ساتھ کھڑے ہوں گے یا نہیں، کیونکہ میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ ہم نے ان کی مدد کی، لیکن مجھے یقین نہیں کہ وہ ہمارے لیے وہاں ہوں گے۔"
تفصیلی جائزہ
ٹرمپ کثیر الجہتی اتحاد کے بجائے دوطرفہ جارحانہ حکمت عملی اپنا کر نیٹو (NATO) کے اتحاد کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ترکی کو F-35 لڑاکا طیاروں کی فروخت کا اشارہ دے کر—جسے پہلے روسی ہتھیاروں کی خریداری کی وجہ سے روکا گیا تھا—ٹرمپ معاہدے کے بجائے 'وفاداری' کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اس سے اتحاد کے اندر ایک ایسا درجہ بندی کا نظام بن رہا ہے جہاں ادارے کے استحکام کے بجائے لیڈروں کے ذاتی تعلقات کو اہمیت دی جا رہی ہے۔
گرین لینڈ کی 'خریداری' کے مطالبے کو دوبارہ اٹھانا یورپی ممالک کو دباؤ میں رکھنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش ہے۔ ڈنمارک کے حکام اسے اتحاد کے خاتمے کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جبکہ ٹرمپ اسے اتحادیوں کی وفاداری کا امتحان قرار دے رہے ہیں۔ اصل مسئلہ اب صرف دفاعی اخراجات کا نہیں رہا، بلکہ یہ ہے کہ کیا امریکہ اپنے اتحادیوں کو آزاد شراکت دار سمجھتا ہے یا صرف اپنے ماتحت ادارے؟
پس منظر اور تاریخ
2017 سے امریکہ اور نیٹو (NATO) کے تعلقات اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں، جب 'America First' ڈاکٹرائن نے اتحاد کی ضرورت پر سوالات اٹھائے تھے۔ ٹرمپ کی شکایت اب صرف 2 فیصد GDP کے دفاعی اخراجات تک محدود نہیں رہی، بلکہ وہ اتحاد کو امریکی مفادات کے لیے غیر ضروری سمجھتے ہیں۔ یہ سربراہی اجلاس اس دہائی طویل تبدیلی کا نتیجہ ہے جہاں امریکی تحفظ اب مکمل سیاسی وفاداری سے مشروط ہو چکا ہے۔
نیٹو (NATO) میں ترکی کے کردار میں بھی بڑی تبدیلی آئی ہے۔ 2019 میں روسی S-400 سسٹم خریدنے پر F-35 پروگرام سے نکالے جانے کے بعد، Erdogan نے ترکی کی جغرافیائی اہمیت اور ٹرمپ کے ساتھ اپنے تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے انقرہ کو دوبارہ ایک مرکزی طاقت بنا دیا ہے۔ اس طرح ترکی نیٹو کے فیصلوں سے ہٹ کر اپنی خارجہ پالیسی بھی چلا رہا ہے اور جدید مغربی فوجی ٹیکنالوجی تک رسائی بھی حاصل کر رہا ہے۔
عوامی ردعمل
انقرہ میں ماحول سخت تشویشناک ہے جسے بڑی سفارتی تقاریب سے چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جہاں نیٹو (NATO) قیادت صنعتی تعاون کے ذریعے 'یورپ کی دوبارہ مسلح سازی' کا خواب دکھا رہی ہے، وہیں ٹرمپ کے بیانات نے ایک بے یقینی کی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اتحاد اپنے وجود کے بحران سے گزر رہا ہے، کیونکہ ترک میزبانوں کا 'امن کی چابی' کا نعرہ ٹرمپ کی یکطرفہ پالیسیوں اور علاقائی تنازعات کے سامنے پھیکا پڑتا دکھائی دیتا ہے۔
اہم حقائق
- •امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 2026 کے نیٹو (NATO) سربراہی اجلاس کے لیے انقرہ پہنچے، جہاں ترک صدر Recep Tayyip Erdogan نے ان کا پروقار استقبال کیا۔
- •نیٹو (NATO) نے اجلاس کے دوران بڑے دفاعی معاہدوں کا اعلان کیا، جن میں Airbus ٹرانسپورٹ طیاروں کا نیا بیڑا اور پرانے AWACS طیاروں کی جگہ سویڈش GlobalEye طیاروں کی شمولیت شامل ہے۔
- •ٹرمپ نے نیٹو (NATO) اتحادیوں کو ایران کے خلاف ان کی یکطرفہ فوجی کارروائی اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کے مشن میں تعاون نہ کرنے پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔