بیروت پر حملے کی دھمکیوں پر Donald Trump کا Benjamin Netanyahu پر شدید غصہ، علاقائی کشیدگی میں اضافہ
Washington اور مغربی یروشلم کے درمیان روایتی طور پر مضبوط تعلقات میں اب ایک بڑی اور نازیبا الفاظ سے بھری دراڑ نظر آ رہی ہے۔ صدر Donald Trump نے لبنان میں بڑے پیمانے پر جنگ چھڑنے سے روکنے کے لیے وزیر اعظم Benjamin Netanyahu کو سخت ترین لہجے میں خبردار کیا ہے۔
This brief is based on reporting from a single outlet, Al Jazeera, regarding a private diplomatic call; the use of inflammatory language is categorized as sensationalized as the exchange has not yet been corroborated by neutral international third-party agencies.

""تم پاگل ہو گئے ہو!""
تفصیلی جائزہ
یہ واقعہ Donald Trump اور Benjamin Netanyahu کے ذاتی اور سیاسی تعلقات میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ White House بیروت میں اسرائیل کی ممکنہ کشیدگی کو امریکی مفادات کے لیے براہِ راست خطرہ سمجھتا ہے۔ اگرچہ Donald Trump تاریخی طور پر اسرائیل کے حامی رہے ہیں، لیکن اس گفتگو سے Netanyahu کی ان یکطرفہ فوجی کارروائیوں پر گہری مایوسی ظاہر ہوتی ہے جو امریکہ کو مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں دھکیل سکتی ہیں۔
Al Jazeera کی رپورٹس کے مطابق، Donald Trump نے بیروت حملے کے منصوبے پر Netanyahu کی عقل کو چیلنج کرتے ہوئے انہیں "پاگل" قرار دیا۔ اگر یہ سچ ہے، تو یہ ظاہر کرتا ہے کہ Biden دور کا سفارتی دباؤ اب Donald Trump کے دور میں ایک سخت اور ذاتی نوعیت کے دباؤ میں بدل چکا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا بیروت پر حملہ واقعی دفاعی ضرورت ہے یا ایک ایسا خطرہ جس کی حمایت امریکہ مزید نہیں کرے گا۔
پس منظر اور تاریخ
Donald Trump اور Benjamin Netanyahu کے تعلقات ہمیشہ سے اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ پہلے دورِ صدارت میں دونوں Jerusalem میں امریکی سفارت خانے کی منتقلی اور Abraham Accords پر متحد تھے۔ تاہم، 2020 کے انتخابات کے بعد جب Netanyahu نے Joe Biden کو مبارکباد دی، تو Donald Trump نے اسے ایک ذاتی دھوکہ تصور کیا اور تعلقات میں تلخی آ گئی۔
دہائیوں سے بیروت کے جنوبی مضافات، خاص طور پر Dahiyeh، اسرائیل اور Hezbollah کے درمیان تنازع کا مرکز رہے ہیں۔ 2006 کی جنگ کے بعد سے، اسرائیل اکثر 'Dahiyeh Doctrine' یعنی شہری ڈھانچے کے خلاف غیر متناسب طاقت کے استعمال کی دھمکی دیتا آیا ہے۔ موجودہ صورتحال اسی پرانے تنازع کی ایک نئی کڑی ہے، جسے اب ایک ایسی امریکی انتظامیہ کا سامنا ہے جو بین الاقوامی جنگوں میں الجھنے سے گریز کر رہی ہے۔
عوامی ردعمل
اس واقعے پر عوامی ردعمل حیرت اور تزویراتی حساب کتاب کا مجموعہ ہے۔ سفارت کاری کے حامی اسے اسرائیلی جارحیت پر ایک ضروری روک قرار دے رہے ہیں، جبکہ ناقدین اسے پاک امریکہ-اسرائیل شراکت داری میں کمزوری کی علامت سمجھ رہے ہیں۔ اسرائیل میں اس کال کے لیک ہونے کو Netanyahu کے اس امیج کے لیے دھچکا سمجھا جا رہا ہے کہ وہ واشنگٹن کو بہترین طریقے سے مینیج کر سکتے ہیں۔
اہم حقائق
- •امریکی صدر Donald Trump نے یکم جون 2026 کو ایک فون کال کے دوران اسرائیلی وزیر اعظم Benjamin Netanyahu پر شدید تنقید کی اور نازیبا الفاظ استعمال کیے۔
- •یہ تلخ کلامی اسرائیل کی جانب سے بیروت کے جنوبی مضافات پر فوجی حملے کرنے کے اعلان کے بعد شروع ہوئی۔
- •اس تکرار کی خبریں 2 جون 2026 کو سامنے آئیں، جب اسرائیل اور لبنان کی سرحد پر فوجی تناؤ عروج پر تھا۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔