بھارت کا UAPA مخمصہ: پانچ سال کی قید کے بعد عدالت نے ضمانت منظور کر لی
قومی سلامتی اور بنیادی آزادیوں کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی عدالتی جدوجہد ایک اہم موڑ پر پہنچ گئی ہے، کیونکہ ایک خصوصی NIA عدالت نے دہشت گردی کے ایک مشتبہ شخص کو، جسے پانچ سال سے کسی فیصلے کے بغیر حراست میں رکھا گیا تھا، رہا کر دیا ہے۔
The brief accurately synthesizes a specific judicial ruling reported by NDTV, emphasizing the constitutional tension between the state's use of anti-terror legislation and the defendant's right to a timely trial.
""مقدمے کے مستقبل قریب میں ختم ہونے کا امکان نہیں ہے، کیونکہ پراسیکیوشن نے اب تک صرف 61 گواہوں کا بیان ریکارڈ کیا ہے، جبکہ تقریباً 90 گواہوں کے بیانات ابھی باقی ہیں، جس میں کافی وقت لگے گا۔""
تفصیلی جائزہ
مدھیش شنکر کی ضمانت Unlawful Activities (Prevention) Act (UAPA) کے تحت طویل ٹرائلز پر عدالتی بے صبری کو ظاہر کرتی ہے۔ اگرچہ NIA کا دعویٰ ہے کہ ملزم سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کو ISIS کے لیے تیار کر رہا تھا، لیکن عدالت کے فیصلے نے واضح کیا کہ 'تیز رفتار ٹرائل' ایک آئینی حق ہے جسے الزامات کی سنگینی کی وجہ سے غیر معینہ مدت کے لیے معطل نہیں کیا جا سکتا۔ یہ کیس اس بات کا اشارہ ہے کہ مقدمے سے پہلے کی قید سزا کا نعم البدل نہیں بن سکتی۔
دفاعی وکیل نے کامیابی سے دوسرے ملزمان کے ساتھ برابری کی بنیاد پر بحث کی اور UAPA کے سیکشن 43D(5) کے اطلاق کو چیلنج کیا، جو عام طور پر دہشت گردی کے مقدمات میں ضمانت ناممکن بنا دیتا ہے۔ جج نے اس بات پر زور دیا کہ ٹرائل جلد ختم ہونے کا امکان نہیں ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عدلیہ اب ریاستی اداروں کی بروقت ثبوت فراہم کرنے کی اہلیت کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے۔
پس منظر اور تاریخ
1967 میں بنائے گئے Unlawful Activities (Prevention) Act (UAPA) میں 2008 اور 2019 میں اہم ترامیم کی گئیں، جس سے ریاست کو کسی بھی فرد کو دہشت گرد قرار دینے کے وسیع اختیارات مل گئے اور حراست کی مدت بڑھا دی گئی۔ ان تبدیلیوں سے بھارتی عدلیہ میں ایک ایسا تعطل پیدا ہوا ہے جہاں ضمانت حاصل کرنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔
تاریخی طور پر، UAPA کا سیکشن 43D(5) ملزمان کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ رہا ہے، کیونکہ اگر الزامات بظاہر درست لگیں تو عدالت ضمانت مسترد کرنے کی پابند ہوتی ہے۔ تاہم، حالیہ برسوں میں Supreme Court اور High Courts کے فیصلوں نے یہ طے کرنا شروع کر دیا ہے کہ آرٹیکل 21 کے تحت تیز رفتار ٹرائل کا حق UAPA کی سخت پابندیوں پر حاوی ہو سکتا ہے۔
عوامی ردعمل
یہ فیصلہ ایگزیکٹو کے حد سے زیادہ اثر و رسوخ اور خصوصی ایجنسیوں کی ناقص پراسیکیوشن کے خلاف ایک عدالتی اصلاح کی عکاسی کرتا ہے۔ اگرچہ سکیورٹی ادارے اسے قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھ سکتے ہیں، لیکن عدالت کا ملزم کے طریقہ کار کے حقوق پر اصرار یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ غیر معینہ قید کے خلاف سخت موقف اپنا رہی ہے۔
اہم حقائق
- •مدھیش شنکر عرف عبداللہ کو اگست 2021 میں گرفتاری کے بعد 4 سال اور 9 ماہ جوڈیشل ریمانڈ میں گزارنے پر خصوصی NIA عدالت نے ضمانت دے دی۔
- •پراسیکیوشن نے ISIS سے وابستہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے الزامات والے اس کیس میں تقریباً 151 گواہوں میں سے صرف 61 کا معائنہ کیا ہے۔
- •عدالت نے ایک لاکھ روپے کا ضمانتی مچلکہ، دو ضامن، پاسپورٹ کی حوالگی اور مشتبہ دہشت گرد ساتھیوں سے رابطے پر سخت پابندی عائد کی ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔