برطانیہ میں Elbit Systems پر چھاپے کے بعد Palestine Action کے کارکنوں کو دہشت گردی کے قوانین کے تحت سزائیں سنا دی گئیں
برطانوی عدلیہ نے ڈائریکٹ ایکشن ایکٹوزم کے خلاف 'زیرو ٹالرینس' کی پالیسی اپناتے ہوئے، اسرائیلی دفاعی تنصیبات کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کا استعمال شروع کر دیا ہے، جس کے تحت کارکنوں کو کئی سال قید کی سزائیں دی گئی ہیں۔
The report correctly identifies the legal facts of the sentencing while highlighting the contentious debate between state security definitions of 'terrorism' and activist claims of 'moral necessity' in the context of the Israeli-Palestinian conflict.

"ملزمان نے یہ کارروائی برطانوی حکومت پر اثر انداز ہونے اور Elbit Systems کو ڈرانے دھمکانے کے لیے کی تھی... اس کارروائی کا دہشت گردی سے تعلق پایا گیا ہے۔"
تفصیلی جائزہ
عدالت کی جانب سے املاک کو پہنچنے والے نقصان کو 'دہشت گردانہ کارروائی' قرار دینا، صرف اس لیے کہ اس کا مقصد حکومتی پالیسی پر اثر انداز ہونا تھا، برطانیہ میں سیاسی احتجاج کے خلاف ریاست کے سخت رویے کو ظاہر کرتا ہے۔ جہاں کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان کا عمل غزہ میں جانیں بچانے کا ایک 'فرض' تھا، وہیں ریاست دفاعی سپلائی چین کے تحفظ اور قانون کی حکمرانی کو ترجیح دے رہی ہے۔
نیوز چینل Al Jazeera نے دفاعی کمیٹی کے حوالے سے اس فیصلے کو 'انصاف کا قتل' قرار دیا ہے، جبکہ ریاست کے حامی حلقے پولیس افسر پر کیے جانے والے 'شدید تشدد' کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ صورتحال کارکنوں کے 'ضرورت' والے دفاع اور ریاست کی جانب سے پرتشدد خلل کو روکنے کے عزم کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو ظاہر کرتی ہے۔
پس منظر اور تاریخ
Palestine Action کی بنیاد 2020 میں رکھی گئی تھی جس کا مقصد اسرائیل کے سب سے بڑے نجی دفاعی ٹھیکیدار Elbit Systems کو برطانیہ سے باہر نکالنا تھا۔ برسوں تک یہ گروپ معمولی توڑ پھوڑ میں ملوث رہا، لیکن غزہ تنازع میں شدت آنے کے بعد ان کے طریقے جارحانہ ہو گئے اور انہوں نے ڈرون پرزوں کو تباہ کرنے کے لیے ہتھوڑوں کا استعمال شروع کر دیا۔
2025 میں برطانوی حکومت کی جانب سے Terrorism Act 2000 کے تحت اس گروپ پر پابندی لگانے سے قانونی منظرنامہ مکمل طور پر بدل گیا۔ یہ سزائیں کارکنوں کے خلاف 'دہشت گردی کے تعلق' کے قانون کے پہلے بڑے استعمال کی نمائندگی کرتی ہیں، جو مستقبل میں سیاسی سبوتاژ کے کیسز کے لیے ایک مثال بن سکتی ہیں۔
عوامی ردعمل
عوامی ردعمل شدید منقسم ہے، Woolwich Crown Court کے باہر احتجاج شروع ہو گیا ہے۔ حامی کارکنوں کو 'سیاسی قیدی' اور 'جان بچانے والے' قرار دے رہے ہیں، جبکہ ریاست دفاعی ڈھانچے پر حملوں کو دہشت گردی سے جوڑ رہی ہے۔ صرف بینرز اٹھانے پر 70 سے زائد افراد کی گرفتاری برطانوی ماحول میں احتجاج کی گھٹتی ہوئی آزادی کو ظاہر کرتی ہے۔
اہم حقائق
- •برطانوی عدالت نے Palestine Action کے چار ارکان کو چار سال آٹھ ماہ سے لے کر سات سال آٹھ ماہ تک کی قید کی سزائیں سنائی ہیں۔
- •یہ الزامات اگست 2024 میں Filton، Bristol میں Elbit Systems کی تنصیبات پر ہونے والے چھاپے سے متعلق ہیں، جہاں کارکنوں نے فوجی ساز و سامان تباہ کیا اور ایک پولیس افسر کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔
- •جولائی 2025 میں برطانیہ کے Terrorism Act کے تحت Palestine Action کو باقاعدہ طور پر ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا گیا تھا۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔