برطانوی ایئرپورٹس کا 'مجبور مسافروں' سے فائدہ، ڈراپ آف فیس میں 33 فیصد اضافہ
برطانوی ایئرپورٹس کلائمیٹ مینڈیٹ کے بہانے 'وداعی فیسوں' کو ہتھیار بنا رہے ہیں، جہاں محض ایک سال میں ڈراپ آف کے اخراجات میں ایک تہائی اضافہ کر کے مسافروں کو نچوڑا جا رہا ہے۔
While the report accurately conveys statistical data from the RAC, it employs sensationalized language such as 'weaponize' and 'predatory' to frame the airport revenue strategies, reflecting a consumer-centric bias common in transport reporting.

""مجبور مسافروں کی موجودگی ان 'وداعی فیسوں' کا جواز نہیں ہونی چاہیے – خاص طور پر جب یہ دنیا کے دیگر بڑے ایئرپورٹس کے طریقہ کار کے بالکل برعکس ہے۔""
تفصیلی جائزہ
بڑھتی ہوئی 'وداعی فیسیں' ایئرپورٹ ریونیو ماڈل میں ایک اسٹریٹجک تبدیلی کی عکاسی کرتی ہیں، جس کا مالی بوجھ مجبور گاڑی سواروں پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ جہاں Airports UK اسے ماحولیاتی مقاصد اور ٹریفک کنٹرول کے لیے ضروری قرار دے رہا ہے، وہیں RAC کا کہنا ہے کہ یہ عالمی معیار کے مقابلے میں ایک غیر معمولی اقدام ہے۔ اصل بحث یہ ہے کہ کیا یہ فیسیں واقعی پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال کو فروغ دے رہی ہیں یا صرف پرائیویٹ شیئر ہولڈرز کے لیے منافع کمانے کا ذریعہ ہیں۔
یہ پالیسی مستقبل کی انفراسٹرکچر توسیع سے جڑی ہوئی ہے۔ مثال کے طور پر، Gatwick کے دوسرے رن وے کی منظوری اس شرط پر ہے کہ 54 فیصد مسافر پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے آئیں۔ RAC ان فیسوں کو استحصال قرار دیتی ہے، جبکہ Aviation Environment Federation کا ماننا ہے کہ فضائی آلودگی اور بچوں میں دمہ جیسی بیماریوں کو کم کرنے کے لیے یہ چارجز ضروری ہیں۔ یہ فیسیں دراصل ایک معاشی ہتھیار کے طور پر استعمال ہو رہی ہیں تاکہ ماحولیاتی اہداف پورے کیے جا سکیں۔
پس منظر اور تاریخ
گزشتہ دہائی کے دوران برطانوی ایئرپورٹس کے ڈراپ آف زونز کھلے مقامات سے باقاعدہ پیڈ چیک پوائنٹس میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ ماضی میں 'kiss-and-fly' ایریاز کو ایک بنیادی سہولت سمجھا جاتا تھا، لیکن ایئرپورٹس کی نجکاری کے بعد پارکنگ اور ریٹیل جیسے ذرائع سے آمدنی بڑھانے پر توجہ دی گئی تاکہ لینڈنگ فیس ریگولیشنز اور وبا کے دوران ہونے والے نقصانات کو پورا کیا جا سکے۔
یہ رجحان برطانیہ اور یورپی ٹرانسپورٹ پالیسی میں واضح فرق کو ظاہر کرتا ہے۔ جہاں یورپی ممالک سیاحت اور تجارت کے فروغ کے لیے ایئرپورٹ تک رسائی کو آسان رکھتے ہیں، وہیں برطانیہ نے 'استعمال کرنے والا ادائیگی کرے' (user pays) کا اصول اپنا لیا ہے۔ یہ اپروچ برطانیہ کے بڑے شہروں میں Clean Air Zones اور Ultra Low Emission Zones (ULEZ) کے نفاذ کے عین مطابق ہے۔
عوامی ردعمل
عوامی جذبات میں مسافروں سے اضافی پیسے بٹورنے پر شدید غصہ پایا جاتا ہے، اور موٹرنگ گروپس ان چارجز کو 'موقع پرستی' قرار دے رہے ہیں۔ اس کے برعکس، ماحولیاتی ماہرین اسے کاربن اخراج میں کمی اور ایئرپورٹ کے گردونواح میں آلودگی کم کرنے کے لیے ایک ناگزیر قدم سمجھتے ہیں۔
اہم حقائق
- •برطانیہ کے 20 مصروف ترین ایئرپورٹس پر اوسط ڈراپ آف فیس گزشتہ موسم گرما سے اب تک 1.70 پاؤنڈز کے اضافے کے ساتھ 7 پاؤنڈز تک پہنچ گئی ہے۔
- •لندن Gatwick اور Stansted اب گاڑی چلانے والوں کے لیے مہنگے ترین ٹرمینلز بن چکے ہیں، جہاں 10 سے 15 منٹ رکنے کے 10 پاؤنڈز چارج کیے جا رہے ہیں۔
- •یورپی یونین (EU) کے دس مصروف ترین ایئرپورٹس میں سے کوئی بھی فی الحال ٹرمینل کے قریب ڈراپ آف کے لیے گاڑیوں سے پیسے نہیں لیتا۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔