ح
واپس خبروں پر جائیں
🔥 Trending
✨ AI BRIEF
Europe & UK26 جون، 2026Fact Confidence: 100%

CAA کی جانب سے لیتھیم بیٹری میں آگ لگنے کے خطرات پر ہوائی سفر کے لیے ہنگامی الرٹ جاری

برطانیہ (UK) میں گرمیوں کی چھٹیوں کے سیزن کے آغاز کے ساتھ ہی ہوائی سفر کے دوران ایک نیا تکنیکی بحران سر اٹھا رہا ہے۔ لیتھیم بیٹریوں سے چلنے والی اشیاء اب جہازوں کی حفاظت کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکی ہیں، جس نے مسافروں کے رویے اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیتوں کے درمیان ایک بڑا فرق واضح کر دیا ہے۔

AI Editor's Analysis
Fact-BasedSensationalized

This report is based on official data from the UK Civil Aviation Authority; however, the synthesis employs urgent, high-stakes language like 'catastrophic scenario' and 'burgeoning technical crisis' to emphasize the safety risks.

CAA کی جانب سے لیتھیم بیٹری میں آگ لگنے کے خطرات پر ہوائی سفر کے لیے ہنگامی الرٹ جاری
""لیتھیم بیٹری کے واقعات ایک 'بڑھتا ہوا چیلنج' ہیں کیونکہ لوگوں کے الیکٹرانک آلات کے استعمال میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔""
Tim Alderslade, Chief Executive of Airlines UK (Discussing the escalating danger of electronic devices on flights as holiday travel begins.)

تفصیلی جائزہ

لیتھیم سے متعلقہ بڑھتے ہوئے واقعات، جو اب اوسطاً ہر ہفتے دو بار پیش آ رہے ہیں، مسافروں کی آگاہی میں کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔ جہاں کیبن عملہ لیتھیم بیٹری کی تپش پر قابو پانے کی تربیت رکھتا ہے، وہیں جہاز کے کارگو (Cargo Hold) حصے میں آگ لگنا ایک تباہ کن صورتحال پیدا کر سکتا ہے جہاں خطرے کا پتہ تب ہی چلتا ہے جب صورتحال قابو سے باہر ہو جائے۔

ایزی جیٹ (EasyJet) کی روم میں ہنگامی لینڈنگ جیسے واقعات ایئر لائنز کے لیے بھاری مالی اور آپریشنل نقصان کا باعث بن رہے ہیں۔ سی اے اے (CAA) کے ڈیٹا کے مطابق سخت وارننگز کے باوجود بیٹریاں کارگو میں رکھی جا رہی ہیں، جس کی وجہ سے ریگولیٹرز اب مزید سخت اسکریننگ کے آپشنز پر غور کر رہے ہیں چاہے اس سے فلائٹ میں تاخیر ہی کیوں نہ ہو۔

پس منظر اور تاریخ

لیتھیم بیٹریوں کا موبائل ٹیکنالوجی کے لیے واحد ذریعہ بننا ایک ایسی تبدیلی ہے جس کے ساتھ قدم ملانے میں ایوی ایشن ریگولیٹرز کو ایک دہائی لگی ہے۔ 2013 میں بوئنگ 787 ڈریم لائنر (Boeing 787 Dreamliner) کے بیڑے کو بیٹریوں میں آگ لگنے کی وجہ سے گراؤنڈ کرنا پڑا تھا، جس نے لیتھیم کی حساسیت کو دنیا کے سامنے واضح کیا تھا۔

گزشتہ پانچ سالوں میں 'اپنا آلہ خود لائیں' (Bring Your Own Device) کے کلچر نے مسافروں کے پاس بیٹریوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے، جہاں اب اوسطاً ہر مسافر چار لیتھیم آلات ساتھ رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ غیر رجسٹرڈ ویپس (Vapes) اور پاور بینکس کے استعمال نے اس تکنیکی خطرے کو ایک سنگین سیکیورٹی مسئلہ بنا دیا ہے۔

عوامی ردعمل

ایوی ایشن حکام کی جانب سے اس معاملے پر شدید تشویش اور الرٹ کی کیفیت ظاہر کی جا رہی ہے، جب کہ دوسری طرف مسافروں میں اس سنگین خطرے کے حوالے سے لاپرواہی یا آگاہی کی کمی نظر آتی ہے۔

اہم حقائق

  • برطانیہ (UK) میں چیکڈ سامان میں لیتھیم بیٹریاں پکڑے جانے کے واقعات 2024 میں 316 تھے جو 2025 میں دو گنا سے بھی زیادہ ہو کر 643 تک پہنچ گئے ہیں۔
  • یو کے سول ایوی ایشن اتھارٹی (CAA) نے باضابطہ طور پر لیتھیم بیٹریوں کو اس وقت طیاروں کی حفاظت کے لیے نمبر ون خطرہ قرار دیا ہے۔
  • موجودہ حفاظتی قوانین کے تحت مسافر صرف دو پاور بینک ساتھ رکھ سکتے ہیں، جنہیں کیبن بیگیج (Cabin Luggage) میں رکھنا لازمی ہے اور فلائٹ کے دوران انہیں چارج کرنے کی سخت ممانعت ہے۔

📍 مقامات

© OpenStreetMap
📍 London📍 Scotland📍 Rome

ذرائع

یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔

CAA Issues Urgent Aviation Safety Alert Over Lithium Battery Fire Risks - Haroof News | حروف