10 ارب پاؤنڈ کا نقصان: یوکے کووڈ انکوائری نے خریداری کے نظام میں بڑی ناکامی کو بے نقاب کر دیا
یوکے حکومت کا ہنگامی خریداری پر لگایا گیا بڑا جوا 10 ارب پاؤنڈ کے بھاری نقصان پر ختم ہوا، جس نے سپلائی چین کے ایسے کمزور ڈھانچے کو بے نقاب کر دیا جو عالمی مارکیٹ کے دباؤ کے سامنے پہلے ہی مرحلے میں ڈھیر ہو گیا۔
This report is based on a formal judicial inquiry led by Baroness Hallett, providing a high level of factual consensus. The tags reflect the inquiry's focus on documenting institutional failures and the massive scale of fiscal waste during the pandemic.

"ملک جب اس عالمی وبا میں داخل ہوا تو اس کے ماسک، گاؤنز اور دستانوں کا ذخیرہ 'خطرناک حد تک کم' تھا اور وہ سپلائی حاصل کرنے کی عالمی دوڑ میں 'مقابلہ کرنے کے لیے بالکل تیار نہیں' تھا۔"
تفصیلی جائزہ
مارکیٹ کے لحاظ سے دیکھا جائے تو یہ یوکے حکومت کی حکمتِ عملی کی ناکامی تھی۔ کمزور اسٹاک کے ساتھ وبا میں داخل ہونے سے حکومت نے سودے بازی کی طاقت کھو دی اور اسے عالمی مارکیٹ میں انتہائی مہنگے داموں خریداری کرنی پڑی۔ بی بی سی (BBC) کے مطابق یہ نقصان کل اخراجات کا دو تہائی تھا، جبکہ سرکاری حکام نے اس وقت 'VIP lane' کو تیزی کے لیے ضروری قرار دیا تھا۔
'VIP lane' نے شفاف مقابلے کے عمل کو بری طرح متاثر کیا اور معیار کے بجائے تعلقات کو فوقیت دی گئی۔ اگرچہ رپورٹ میں حکام کو قانونی کرپشن سے کلیئر کر دیا گیا ہے، لیکن اس کے معاشی اثرات نے بجٹ خسارے کو بڑھا دیا ہے۔ صرف 'وینٹی لیٹر چیلنج' پر ہی 143 ملین پاؤنڈز ایسے ڈیزائنز پر خرچ کیے گئے جو کبھی پروڈکشن تک ہی نہیں پہنچ سکے۔
پس منظر اور تاریخ
اس بحران کی جڑیں برسوں سے ہنگامی منصوبہ بندی میں کی جانے والی کم سرمایہ کاری میں چھپی ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی سے یوکے کی تیاریوں کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا تھا، اور مالی بچت کی پالیسیوں کی وجہ سے ذخائر کو نظر انداز کیا گیا۔ 2009 کی H1N1 جیسی آفات نے خبردار کیا تھا، لیکن ضروری 'اسٹریس ٹیسٹ' کبھی نہیں کیے گئے۔
اس دور اندیشی کی کمی نے این ایچ ایس (NHS) کو 'جسٹ ان ٹائم' ڈلیوری ماڈل پر منحصر کر دیا جو عالمی سطح کے کسی بڑے جھٹکے کو برداشت کرنے کے لیے نہیں بنا تھا۔ جب 2020 میں پوری دنیا ایک ہی سامان کے لیے مقابلہ کر رہی تھی، تو سرکاری ذخائر کے بجائے عالمی مارکیٹ پر انحصار کرنا ایک بڑی تزویراتی غلطی ثابت ہوئی۔
عوامی ردعمل
عوامی ردعمل میں شدید غصہ اور نظام پر بے اعتمادی دکھائی دے رہی ہے۔ ناقدین اس بڑے نقصان کو حکومتی نااہلی کی علامت قرار دے رہے ہیں، جبکہ ماہرین اسے ایک سبق کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ کرپشن کے ثبوت نہ ملنے کے باوجود عوام کی مایوسی کم نہیں ہوئی، کیونکہ مالی نقصان اتنا بڑا ہے کہ اسے قومی معیشت پر ایک مستقل داغ سمجھا جا رہا ہے۔
اہم حقائق
- •یوکے کووڈ انکوائری کے مطابق پی پی ای (PPE) پر خرچ کیے گئے 14.9 ارب پاؤنڈز میں سے 9.9 ارب پاؤنڈز غیر استعمال شدہ یا ایکسپائرڈ سامان پر ضائع ہوئے۔
- •وبا کے آغاز پر انگلینڈ کے ہنگامی ذخیرے میں موجود ماسک کا صرف ایک تہائی حصہ استعمال کے قابل تھا، جس کی وجہ سے حکومت کو مہنگی خریداری کی عالمی دوڑ میں شامل ہونا پڑا۔
- •سیاسی تعلقات رکھنے والے سپلائرز کو ترجیح دینے کے لیے ایک 'VIP lane' بنائی گئی، جسے انکوائری نے 'غلط فیصلہ' قرار دیا اگرچہ اس میں قانونی کرپشن کے ثبوت نہیں ملے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔