برطانیہ کا ویلفیئر بحران: حکومت کا اعتراف کہ معذوری کا بینیفٹ سسٹم 'مقصد کے لیے موزوں نہیں'
برطانیہ کا ویلفیئر سیفٹی نیٹ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، کیونکہ حکومت کے ایک سخت جائزے نے اربوں پاؤنڈز کے معذوری بینیفٹ سسٹم کو مکمل طور پر ناکارہ قرار دے دیا ہے، جس سے ایک بڑے مالیاتی اور سماجی بحران کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
This brief is based on an official government-led interim review and reporting from the BBC, focusing on verified fiscal projections and public statements. The tags reflect the synthesis of objective data alongside the competing political narratives regarding welfare sustainability and social dignity.

""بینیفٹ کے لیے درخواست دینے والے افراد کا کہنا ہے کہ یہ عمل 'تذلیل آمیز' اور کام کی راہ میں ایک رکاوٹ تھا۔""
تفصیلی جائزہ
برطانوی حکومت بڑھتے ہوئے مالیاتی اخراجات اور ایک 'تذلیل آمیز' بیوروکریسی کی اخلاقی ناکامی کے درمیان پھنس گئی ہے۔ Labour حکومت کا PIP کو 'ناکارہ' قرار دینا بڑی تبدیلیوں کا اشارہ ہے، لیکن 2030 تک متوقع 41 ارب پاؤنڈز کا بوجھ ان کے عزائم کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ یہ معاملہ اس لیے اہم ہے کیونکہ اب بحث محض چھوٹی موٹی تبدیلیوں کے بجائے اس بنیادی سوال پر مڑ گئی ہے کہ ریاست معذوری کی تصدیق کیسے کرتی ہے۔
سیاسی میدان میں مالی ذمہ داری بمقابلہ سماجی وقار کی جنگ چھڑی ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق، جہاں وزیر Sir Stephen Timms کا کہنا ہے کہ موجودہ اخراجات اصل تشویش نہیں ہیں، وہیں Conservative اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ حکومت فوری بچت کی ضرورت سے 'انکار' کر رہی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خزاں میں آنے والی حتمی رپورٹ کافی متنازع ہوگی، کیونکہ حکومت معذور افراد کے لیے 'نمایاں تبدیلی' اور تیزی سے بڑھتے ہوئے ویلفیئر بجٹ کی تلخ حقیقت کے درمیان توازن پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
پس منظر اور تاریخ
Personal Independence Payment (PIP) کا آغاز 2013 میں پرانے Disability Living Allowance (DLA) کی جگہ کیا گیا تھا، جس کا مقصد ایک زیادہ 'منصفانہ' اور ٹیسٹ پر مبنی نظام بنانا تھا۔ تاہم، ایک دہائی سے زائد عرصے سے یہ نجی ٹھیکیداروں کے میڈیکل ٹیسٹس اور ایک ایسے اسکورنگ سسٹم کی وجہ سے تنازعات کا شکار رہا ہے جسے ناقدین ذہنی صحت اور بدلتی ہوئی جسمانی حالتوں کے لیے بہت سخت قرار دیتے ہیں۔
موجودہ بحران کورونا وبا کے بعد درخواستوں میں اچانک اضافے کی وجہ سے مزید سنگین ہوا ہے، خاص طور پر ذہنی صحت کے چیلنجز کے حوالے سے جن کے لیے 2013 کا فریم ورک تیار نہیں کیا گیا تھا۔ اس کی وجہ سے عدالتوں میں کیسز کا انبار لگ گیا ہے کیونکہ بڑی تعداد میں لوگ ابتدائی مسترد شدہ درخواستوں کے خلاف اپیلیں جیت رہے ہیں، جو سسٹم کی نااہلی کو ظاہر کرتا ہے۔
عوامی ردعمل
عوامی جذبات میں ایک طرف ریلیف پایا جاتا ہے کہ سسٹم کی خامیوں کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا گیا ہے، تو دوسری طرف شدید شکوک و شبہات ہیں کہ کیا ان اصلاحات سے واقعی بہتری آئے گی۔ معذوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے بار بار کے میڈیکل ٹیسٹوں کو 'تکلیف دہ' قرار دیتے ہیں، جبکہ مالیاتی ماہرین بڑھتے ہوئے ویلفیئر بل کے حوالے سے پریشان ہیں۔
اہم حقائق
- •انگلینڈ اور ویلز میں Personal Independence Payments (PIP) کے ایک عبوری جائزے نے باضابطہ طور پر اس سسٹم کو 'مقصد کے لیے ناموزوں' قرار دیا ہے۔
- •حکومتی تخمینوں کے مطابق، 2030 تک PIP کے سالانہ اخراجات بڑھ کر 41 ارب پاؤنڈز سے زیادہ ہو جائیں گے۔
- •موجودہ سسٹم کے تحت، ہیلتھ پروفیشنلز درخواست گزاروں کی دیکھ بھال اور نقل و حرکت کی امداد کی اہلیت کا تعین کرنے کے لیے انہیں صفر سے 12 کے اسکیل پر اسکور دیتے ہیں۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔