مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی: برطانیہ میں پٹرول مہنگا، مہنگائی 3.1 فیصد تک پہنچ گئی
برطانیہ میں مقیم پاکستانیوں کے لیے پٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ گھریلو بجٹ اور بچت کو متاثر کر رہا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے برطانوی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جس سے مہنگائی پانچ ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور شرح سود میں مزید اضافے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
The draft accurately synthesizes official inflation figures from the UK Office for National Statistics as reported by the BBC. The analysis integrates perspectives from both the government and opposition, maintaining an analytical and factual tone.

"مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نہ صرف یہاں بلکہ پوری دنیا میں مہنگائی پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ یہ اثر ہمارے بلوں، ہفتہ وار خریداری اور پٹرول پمپوں پر نظر آ رہا ہے۔"
تفصیلی جائزہ
مہنگائی میں اس اضافے کی بڑی وجہ امریکہ، اسرائیل اور ایران تنازع کی وجہ سے تیل کی عالمی سپلائی میں رکاوٹ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ خوراک کی قیمتیں مستحکم ہیں، لیکن ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے سے دیگر اشیاء بھی مہنگی ہوں گی۔ خدشہ ہے کہ جنوری 2025 تک مہنگائی 4.2 فیصد تک جا سکتی ہے، جس سے Bank of England پر شرح سود بڑھانے کا دباؤ بڑھے گا۔
حکومت نے بجلی کے بلوں پر ٹیکس (VAT) ختم کر کے ریلیف دینے کی کوشش کی ہے، لیکن انرجی پرائس کیپ میں 4 فیصد اضافے نے اس کا اثر زائل کر دیا ہے۔ چھوٹے کاروباری حضرات اور پٹرول پمپ مالکان کا کہنا ہے کہ ان کا منافع کم ہو رہا ہے۔ اپوزیشن نے حکومت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ برطانوی گھرانے عالمی جھٹکوں کے سامنے بے بس ہو چکے ہیں۔
پس منظر اور تاریخ
موجودہ صورتحال 2022 کے توانائی کے بحران کی یاد دلاتی ہے جو روس کے یوکرین پر حملے کے بعد پیدا ہوا تھا۔ اس دوران برطانیہ میں پٹرول کی قیمتیں تاریخی سطح پر تھیں اور مہنگائی ڈبل ڈیجٹ تک پہنچ گئی تھی۔ برطانوی توانائی کی مارکیٹ عالمی حالات، بالخصوص مشرقِ وسطیٰ اور مشرقی یورپ کی بے یقینی سے بہت جلد متاثر ہوتی ہے۔
گزشتہ دہائی میں برطانیہ نے متبادل توانائی (Renewables) پر توجہ دی ہے، لیکن اب بھی تیل کی قیمتوں کے لیے عالمی مارکیٹ پر انحصار بہت زیادہ ہے۔ ماضی میں بھی مشرقِ وسطیٰ کی جنگوں کی وجہ سے برطانیہ میں چند ہی ہفتوں کے اندر قیمتیں بڑھ جاتی رہی ہیں کیونکہ یہاں دوسرے بڑے ممالک کی طرح تیل کے بڑے اسٹریٹجک ذخائر موجود نہیں ہیں۔
عوامی ردعمل
رپورٹ میں شدید بے چینی اور خوف کا احساس پایا جاتا ہے۔ اگرچہ حکومت معاشی ترقی کا دعویٰ کر رہی ہے، لیکن عام شہری اور چھوٹے کاروباری حضرات پٹرول کی قیمتوں سے پریشان ہیں۔ سردیوں کے آنے سے پہلے لوگوں میں یہ ڈر پایا جاتا ہے کہ انہیں خوراک اور ہیٹنگ جیسے بنیادی اخراجات پورے کرنے کے لیے دوسری نوکری کرنی پڑے گی۔
اہم حقائق
- •اگست میں برطانیہ میں سالانہ مہنگائی کی شرح 3.1 فیصد تک پہنچ گئی، جو جولائی میں 2.9 فیصد تھی۔
- •پٹرول کی قیمتوں میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 23 فیصد اضافہ ہوا، جس سے قیمت 161.3 پنس فی لیٹر ہو گئی۔
- •امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازع کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔