ح
واپس خبروں پر جائیں
🔥 Trending
✨ AI BRIEF
Europe & UK17 جون، 2026Fact Confidence: 100%

برطانیہ میں افراطِ زر دو فیصد پر برقرار، سروسز کی قیمتوں میں اضافے نے شرحِ سود میں کمی کے امکانات کو محدود کر دیا

برطانیہ کے مرکزی بینک Bank of England کی جانب سے مانیٹری پالیسی میں نرمی کی توقعات اب شکوک و شبہات کا شکار ہیں کیونکہ ہیڈ لائن افراطِ زر دو فیصد پر منجمد ہے، جس کی بڑی وجہ سروس سیکٹر کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہے۔

AI Editor's Analysis
Fact-BasedNeutral

The report utilizes official economic data from the Office for National Statistics (ONS) via the BBC, focusing on statistical indicators and market expectations rather than political or ideological commentary.

برطانیہ میں افراطِ زر دو فیصد پر برقرار، سروسز کی قیمتوں میں اضافے نے شرحِ سود میں کمی کے امکانات کو محدود کر دیا

تفصیلی جائزہ

افراطِ زر کی شرح کا 2 فیصد کی سطح سے نیچے آنے سے انکار کرنا، ماہرین کی پیشگوئیوں کے برعکس، برطانیہ کی مقامی معیشت میں ایک سنگین رکاوٹ کو ظاہر کرتا ہے۔ اگرچہ عالمی سطح پر خوراک اور توانائی کی قیمتیں کم ہوئی ہیں، لیکن سروسز انفلیشن کا 5.7 فیصد پر برقرار رہنا اس بات کا اشارہ ہے کہ تنخواہوں میں اضافہ اور ہاسپیٹلٹی سیکٹر میں مضبوط مانگ اب بھی قیمتوں پر دباؤ ڈال رہی ہے۔ یہ ڈیٹا Bank of England کو اگست کے اجلاس سے پہلے ایک مشکل پوزیشن میں لے آیا ہے۔

ذرائع کے مطابق، افراطِ زر کی مستحکم شرح فوری طور پر شرحِ سود میں کمی کے جواز کو کمزور کرتی ہے، کیونکہ قبل از وقت نرمی مہنگائی کی آگ کو دوبارہ بھڑکا سکتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ مارگیج ہولڈرز اور نجی شعبہ اب بھی 16 سال کی بلند ترین سطح پر موجود قرضوں کی لاگت کا سامنا کرتے رہیں گے۔ مارکیٹ نے اب قلیل مدت میں شرحِ سود میں کمی کے امکانات کو کافی حد تک کم کر دیا ہے۔

پس منظر اور تاریخ

COVID-19 کی وبا اور 2022 میں یوکرین پر حملے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے توانائی کے بحران کے دوہرے جھٹکوں کے بعد، برطانیہ کو دہائیوں کی بدترین مہنگائی کا سامنا کرنا پڑا، جو اکتوبر 2022 میں 11.1 فیصد تک جا پہنچی تھی۔ اس کے جواب میں Bank of England نے مانیٹری ٹائٹننگ کا سخت سلسلہ شروع کیا اور بنیادی شرحِ سود کو 0.1 فیصد سے بڑھا کر 5.25 فیصد کر دیا۔

اگرچہ مئی 2024 میں ہیڈ لائن افراطِ زر بینک کے 2 فیصد ہدف پر واپس آ گئی تھی، لیکن تاریخی مثالیں بتاتی ہیں کہ مہنگائی پر قابو پانے کا آخری مرحلہ اکثر سب سے مشکل ہوتا ہے۔ موجودہ تعطل برطانیہ کی لیبر مارکیٹ کی ساختی مشکلات اور سروسز پر مبنی معیشت کی عکاسی کرتا ہے، جس نے کور انفلیشن کو شرحِ سود میں اضافے کے خلاف مزاحم بنا دیا ہے۔

عوامی ردعمل

ماہرینِ معاشیات اور مارکیٹ ٹریڈرز کے درمیان محتاط مایوسی پائی جاتی ہے، کیونکہ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ آگے کا راستہ ہموار نہیں ہے اور صارفین و کاروباری حلقوں کے لیے فوری مالی ریلیف کی امیدیں مدھم پڑ گئی ہیں۔

اہم حقائق

  • جون 2024 تک برطانیہ میں کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) کے مطابق افراطِ زر کی شرح 2 فیصد پر مستحکم رہی، جبکہ ماہرین نے اسے 1.9 فیصد تک گرنے کی پیشگوئی کی تھی۔
  • سروسز انفلیشن، جو ملکی قیمتوں کے دباؤ کا ایک اہم پیمانہ ہے، اسی مدت کے دوران 5.7 فیصد کی بلند سطح پر غیر تبدیل شدہ رہی۔
  • خوراک اور غیر الکحل والے مشروبات کی قیمتوں میں اضافے کی رفتار سست رہی، جو مئی میں 1.7 فیصد کے مقابلے میں جون میں کم ہو کر 1.5 فیصد رہ گئی۔

📍 مقامات

© OpenStreetMap
📍 London

ذرائع

یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔

UK Inflation Stalls at Two Percent as Stubborn Service Costs Paralyze Rate Cut Prospects - Haroof News | حروف