یوکے میٹرنٹی کیئر اصلاحات پر تنازع، 'نارمل برتھ' کے خطرات چھپانے پر شدید احتجاج
ہسپتال کے ان کمروں میں جہاں نئی زندگی کا آغاز ہوتا ہے، وہاں اکثر تکلیف میں مبتلا ماؤں کی پکار کو خاموشی کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اب ایک ماہر وسل بلوور نے انکشاف کیا ہے کہ 'نارمل برتھ' کے خطرناک نظریے سے جڑی حقیقت کو ریکارڈ سے غائب کیا جا رہا ہے۔
This brief covers a direct contradiction between a whistleblower's allegations of censorship and the official findings of a government inquiry. The tags reflect the conflicting nature of the primary testimonies and the slightly dramatic tone used in the narrative framing of the maternity safety crisis.

""میرے خیال میں اس معاملے کو دبانا ٹھیک نہیں ہے۔ یہ مریضوں کی حفاظت کے لیے ایک خطرہ ہے اور اسے اسی طرح منظرِ عام پر لایا جانا چاہیے۔""
تفصیلی جائزہ
یہ تنازع برطانوی مڈوائفری میں قدرتی طریقے سے بچے کی پیدائش اور طبی مداخلت کی ضرورت کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی پر مبنی ہے۔ ڈاکٹر کرک اپ کا دعویٰ ہے کہ اس نظریے کے اثرات کے ثبوت دبائے گئے، جبکہ بیرونس ایموس کا کہنا ہے کہ یہ ان کی تحقیقات کا اہم موضوع نہیں تھا۔ یہ فرق انتظامیہ اور ان ماہرین کے درمیان ایک بڑی خلیج کو ظاہر کرتا ہے جو دہائیوں سے روک تھام کے قابل اموات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
حکومت کی جانب سے نیشنل میٹرنٹی کمشنر کی تجویز نے متاثرہ خاندانوں کو تقسیم کر دیا ہے۔ وزراء اسے معیار بہتر بنانے کا ذریعہ سمجھتے ہیں، جبکہ بعض سوگوار والدین کا خیال ہے کہ اس سے طاقت ایک جگہ جمع ہو جائے گی جو خطرناک ہو سکتا ہے۔ Birth Trauma Association جیسے اداروں کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں طبی عملے کی رائے کو ان مریضوں کے تجربات پر ترجیح دی گئی ہے جنہوں نے جسمانی اور ذہنی زخم جھیلے۔
پس منظر اور تاریخ
برطانیہ میں 2007 سے 2017 کے درمیان 'نارمل برتھ' کی تحریک کو Royal College of Midwives نے بہت فروغ دیا، جس کا مقصد زچگی کے عمل کو ادویات اور سرجری سے آزاد رکھنا تھا۔ تاہم، مورکیم بے اور ایسٹ کینٹ جیسی تحقیقات نے ثابت کیا کہ 'ہر قیمت پر نارمل برتھ' کے جنون نے اکثر طبی انتباہات کو نظر انداز کیا، جس کے نتیجے میں کئی خاندانوں کو تباہ کن نتائج کا سامنا کرنا پڑا۔
گزشتہ دہائی کے دوران Ockenden Review جیسی رپورٹس نے مسلسل NHS میں نظامی ناکامیوں، ماؤں کی بات نہ سننے اور طبی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کے کلچر کی نشاندہی کی ہے۔ بیرونس ایموس کی رپورٹ کا مقصد ان مسائل کا جامع حل نکالنا تھا، لیکن ڈاکٹر کرک اپ جیسے ماہر کا استعفیٰ بتاتا ہے کہ برطانوی نظامِ صحت کے اندر نظریاتی جڑوں کو بدلنے کی جنگ اب بھی جاری ہے۔
عوامی ردعمل
عوامی اور صحافتی حلقوں میں دھوکے اور بے یقینی کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ اگرچہ میٹرنٹی سروسز کی ابتر حالت پر سب کا اتفاق ہے، لیکن سنسر شپ کے الزامات نے حکومت کے اصلاحاتی وعدوں کو دھندلا دیا ہے۔ متاثرہ خاندانوں کو شدید مایوسی ہے کہ سالہا سال کی رپورٹس کے باوجود، نظام اب بھی مریضوں کی حفاظت سے زیادہ اپنی ساکھ بچانے کو ترجیح دیتا نظر آتا ہے۔
اہم حقائق
- •بیرونس ایموس (Baroness Amos) کی رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ انگلینڈ کی میٹرنٹی سروسز خواتین اور بچوں کی دیکھ بھال میں اس حد تک ناکام ہو چکی ہیں جو معاشرے کے لیے باعثِ ندامت ہے، جس کے بعد ایک نیشنل میٹرنٹی کمشنر مقرر کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
- •ڈاکٹر بل کرک اپ (Dr. Bill Kirkup) نے انکوائری ٹیم سے استعفیٰ دے دیا، ان کا الزام ہے کہ 'نارمل برتھ' مہم (جو بغیر کسی طبی مداخلت کے نارمل ڈلیوری کو ترجیح دیتی ہے) پر کی گئی تنقید کو اشاعت سے آٹھ دن پہلے ہٹا دیا گیا تھا۔
- •برطانوی حکومت نے رپورٹ کے جواب میں مڈوائفری کی 1,000 عارضی اسامیاں پیدا کرنے اور نوزائیدہ بچوں کی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے 41 ملین پاؤنڈ کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔