UK میں طلباء کی ہلاکتوں کے بعد Meningitis B کی بڑے پیمانے پر ویکسینیشن مہم کا آغاز
جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے والے دس لاکھ نوجوانوں کے لیے، اس موسمِ گرما میں لگنے والا ایک معمولی ٹیکا اس خاموش اور تیزی سے پھیلنے والی بیماری کے خلاف ڈھال ثابت ہوگا جس نے حال ہی میں ان کے تین ساتھیوں کی جان لے لی ہے۔
This report synthesizes official public health announcements from the UK government as documented by major national outlets. The narrative remains clinical, focusing on the logistical details and medical justification for the vaccination drive.

""کینٹ میں پھیلنے والی وبا اور حالیہ کیسز ظاہر کرتے ہیں کہ MenB لوگوں پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہے اس میں شاید کوئی تبدیلی آئی ہے۔ جب کہ ہم تازہ ترین شواہد کا جائزہ لے رہے ہیں، ہم ان نوجوانوں کے تحفظ کے لیے ابھی اقدام کر رہے ہیں جنہیں فوری طور پر سب سے زیادہ خطرہ ہے۔""
تفصیلی جائزہ
یہ ہنگامی مہم پبلک ہیلتھ کی حکمت عملی میں ایک بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے، جو خاص طور پر اس عمر کے گروپ کو نشانہ بناتی ہے جو یونیورسٹی کی زندگی میں قدم رکھتے ہی خطرے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہاسٹلز میں قریب رہائش اور زیادہ میل جول بیکٹیریا کے پھیلاؤ کے لیے مثالی حالات پیدا کرتے ہیں۔ جولائی اور اگست میں پروگرام شروع کر کے، NHS کا مقصد خزاں میں کیسز کے عروج سے پہلے قوتِ مدافعت پیدا کرنا ہے، تاکہ مستقبل میں کیمپس میں ہونے والے دکھ بھرے واقعات کو روکا جا سکے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ اگرچہ حالیہ کیسز میں مختلف اقسام شامل تھیں، لیکن Bexsero ویکسین سے ان سب کے خلاف تحفظ کی توقع ہے۔
یہ فیصلہ ہیلتھ حکام کی Meningitis B کے پھیلاؤ کے بدلتے ہوئے انداز پر بڑھتی ہوئی تشویش کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ پروگرام ایک اہم خلا کو پُر کرتا ہے، کیونکہ یہ مخصوص عمر کا گروپ 2015 میں شروع کیے گئے بچوں کے ویکسینیشن پروگرام کا حصہ نہیں تھا، جس کی وجہ سے وہ اپنی آزادی کے سفر کے آغاز پر ہی غیر محفوظ رہ گئے۔ جہاں BBC اس دس لاکھ افراد کی مہم کی وسعت کو نوٹ کرتا ہے، وہیں The Guardian اس بات پر زور دیتا ہے کہ ویکسین کا تحفظ کم از کم چھ سال تک رہنے کا امکان ہے، جو زیادہ تر انڈرگریجویٹ ڈگریوں کے دوران ایک حفاظتی نیٹ فراہم کرتا ہے۔
پس منظر اور تاریخ
برطانیہ دنیا کا پہلا ملک تھا جس نے ستمبر 2015 میں Meningitis B ویکسین کو بچوں کے معمول کے حفاظتی ٹیکوں کے شیڈول میں شامل کیا۔ اس پروگرام نے چھوٹے بچوں میں کیسز کو کامیابی سے کم کیا، لیکن بڑے نوجوان بڑی حد تک غیر محفوظ رہے جب تک کہ انہوں نے نجی علاج کا سہارا نہ لیا۔ تاریخی طور پر، 'freshers' flu' اور دیگر سانس کی بیماریوں نے اکثر گردن توڑ بخار کی ابتدائی علامات کو چھپا دیا، جس سے تشخیص میں افسوسناک تاخیر ہوئی۔
ماضی میں 1990 اور 2000 کی دہائی کے اوائل میں ہونے والے پھیلاؤ کے بعد نوجوانوں کے لیے MenACWY ویکسین کامیابی سے متعارف کرائی گئی تھی، لیکن 'B' سٹرین اپنی جینیاتی پیچیدگی کی وجہ سے ایک مستقل خطرہ رہا۔ اسکول چھوڑنے والوں کے لیے یہ نئی مداخلت طلباء کی اس 'کھوئی ہوئی نسل' کے لیے مدافعت کے خلا کو ختم کرنے کی پہلی بڑی کوشش ہے جو 2015 کے پروگرام سے محروم رہ گئی تھی۔
عوامی ردعمل
عوامی اور ادارتی ردِعمل میں اطمینان اور جلدی کا ملا جلا رجحان پایا جاتا ہے۔ ہیلتھ حکام اور Meningitis Now جیسی تنظیموں نے اس اقدام کو جان بچانے کے لیے ناگزیر قرار دیا ہے، جبکہ حالیہ وباء سے متاثرہ افراد کے والدین کا کہنا ہے کہ ایسا پروگرام بہت پہلے ہونا چاہیے تھا۔ گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران دس لاکھ طلباء تک پہنچنے کے لاجسٹک چیلنج کے حوالے سے تشویش موجود ہے، لیکن مجموعی طور پر ایک پرامید ماحول ہے کہ اس سے مزید نوجوانوں کی جان بچائی جا سکے گی۔
اہم حقائق
- •برطانوی حکومت جولائی کے آخر سے تقریباً دس لاکھ اسکول چھوڑنے والے اور یونیورسٹی کے نئے طلباء کے لیے ایک ون آف ویکسینیشن پروگرام شروع کر رہی ہے۔
- •Bexsero ویکسین کی دو خوراکیں، جو کم از کم 28 دنوں کے وقفے سے دی جاتی ہیں، یکم ستمبر 2007 سے 31 اگست 2008 کے درمیان پیدا ہونے والے نوجوانوں کو لگائی جائیں گی۔
- •اس اقدام کی وجہ کینٹ، ڈورسیٹ اور برکشائر میں Meningitis B کا حالیہ پھیلاؤ ہے جس کے نتیجے میں تین نوجوان ہلاک ہو گئے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔