برطانیہ نے British Steel کو قومی ملکیت میں لے لیا: صنعتی خودمختاری کے لیے ایک بڑا جوا
برطانیہ کے صنعتی ڈھانچے کو مکمل تباہی سے بچانے کے لیے، Westminster نے ریاست کی مداخلت کا سب سے بڑا قدم اٹھاتے ہوئے British Steel کو قومی ملکیت میں لے لیا ہے تاکہ روزانہ ہونے والے 13 لاکھ پاؤنڈ کے بڑے مالی نقصان کو روکا جا سکے۔
This report synthesizes official government statements and audit data while highlighting the significant discrepancy between state-reported operational costs and the claims of the former private owner. The analysis interprets the event through the lens of shifting global economic policy toward state-led industrial security.

""لیکن میں بالکل واضح کر دوں کہ یہاں ایک متبادل یہ بھی ہے کہ ہم اس کاروبار کو ڈوبنے دیں... لیکن اگر یہ کاروبار ختم ہو گیا، تو ہم اپنے ملک میں اسٹیل کی بنیادی پیداوار کی صلاحیت کھو دیں گے اور مکمل طور پر عالمی سپلائی پر منحصر ہو جائیں گے۔""
تفصیلی جائزہ
یہ قدم 'securonomics' کی طرف ایک بڑی تبدیلی ہے، جہاں ریاست ان سپلائی چینز کو بچانے کے لیے بڑے مالی خطرات مول لیتی ہے جنہیں پرائیویٹ سیکٹر نے غیر منافع بخش قرار دے دیا ہو۔ حکومت یہ داؤ لگا رہی ہے کہ روزانہ 13 لاکھ پاؤنڈ کا خرچ اس قیمت سے بہتر ہے جو G7 کا واحد ملک بننے پر چکانی پڑتی جس کے پاس اپنی اسٹیل بنانے کی صلاحیت نہ ہو۔ تاہم، 1938 اور 1954 کی پرانی بھٹیوں کی وجہ سے حکومت کو ایک ایسا اثاثہ ملا ہے جسے جدید بنانے اور ماحول دوست ٹیکنالوجی پر منتقل کرنے کے لیے اربوں پاؤنڈز کی ضرورت ہے۔
کمپنی کی مالیت پر ایک بڑا مالی تنازع بھی سامنے آ رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق چین کا Jingye Group، جو کہ سابقہ مالک ہے، اس قومی ملکیت کے بدلے معاوضے کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ National Audit Office کا خیال ہے کہ عوامی خزانے پر بوجھ اس سے کہیں زیادہ ہو سکتا ہے۔ اس آزادانہ معاوضے کے تعین کا نتیجہ ہی ٹیکس دہندگان کے لیے اس خریداری کے حتمی بل کا فیصلہ کرے گا۔
پس منظر اور تاریخ
برطانوی اسٹیل کی صنعت کی تنزلی دہائیوں پر محیط کہانی ہے جس میں نجکاری اور غیر ملکی کمپنیوں کی خریداری شامل ہے۔ British Steel کو 1988 میں مارگریٹ تھیچر کی حکومت نے پرائیویٹ کیا تھا، جو بعد میں بھارت کی Tata Steel کا حصہ بنی۔ Scunthorpe پلانٹ مسلسل مالکان بدلتا رہا، جس میں Greybull Capital اور چین کا Jingye Group شامل ہیں، کیونکہ عالمی مارکیٹ میں کوئلے سے چلنے والے پلانٹس چلانا معاشی طور پر ناممکن ہوتا جا رہا تھا۔
تاریخی طور پر برطانیہ کی اسٹیل پیداوار دفاعی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں کے لیے ریڑھ کی ہڈی رہی ہے۔ اسے قومی ملکیت میں لینے کا فیصلہ برطانوی معاشی پالیسی میں ایک تاریخی یو ٹرن ہے، جو 1970 کی دہائی کی یاد دلاتا ہے۔ یہ اس عالمی رجحان کو ظاہر کرتا ہے جہاں اب جیو پولیٹیکل استحکام اور صنعتی خود انحصاری کو مارکیٹ کے روایتی اصولوں پر ترجیح دی جا رہی ہے۔
عوامی ردعمل
مجموعی طور پر ایک ایسی راحت محسوس کی جا رہی ہے جس میں معاشی خدشات بھی شامل ہیں۔ جہاں مقامی مزدور اور یونینز اسے 2,700 نوکریوں اور لنکن شائر کی معیشت کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں، وہیں ماہرین اس طویل المدتی مالی بوجھ پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کو ملکی اسٹیل کی صنعت کے مکمل خاتمے کے ڈر سے اس فیصلے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔
اہم حقائق
- •برطانوی حکومت نے ہنگامی قانون سازی کی منظوری کے بعد British Steel کے Scunthorpe آپریشنز کا مکمل سرکاری کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
- •Scunthorpe کی یہ سہولت متحدہ سلطنت میں خام لوہے سے اسٹیل تیار کرنے والا آخری بچا ہوا مرکز ہے۔
- •National Audit Office کے ڈیٹا کے مطابق، Scunthorpe کی ان پرانی بھٹیوں کو چلانے پر برطانوی ٹیکس دہندگان کا روزانہ تقریباً 13 لاکھ پاؤنڈ خرچ ہو رہا ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔