برطانیہ کی پولیس کو قیادت کے منظم بحران کے باعث 'اخلاقی ری سیٹ' کا سامنا
ملک کے تقریباً پانچویں حصے کے چیف کانسٹیبلز کے خلاف تادیبی کارروائی کے دوران، برطانوی پولیس کی بنیادیں قیادت کے کلچر پر کی جانے والی سخت تنقید سے ہل کر رہ گئی ہیں۔
This report is based on a primary source interview and a cross-party review co-authored by former government officials, drawing directly from official leadership data and disciplinary records within the UK police service.

""اس وقت سروس اتنی بہتر نہیں ہے جتنی ہونی چاہیے... اس وقت سروس میں کام کرنے والے بہت سے لوگوں کے حوصلے اور جذبے کو ایک نئے آغاز (reset) کی ضرورت ہے۔""
تفصیلی جائزہ
'اخلاقی ری سیٹ' کا مطالبہ محض انفرادی بدعنوانی کے بارے میں نہیں ہے بلکہ یہ College of Policing کے کمانڈ ڈھانچے کی نظامی ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک کے تقریباً 18 فیصد اعلیٰ پولیس افسران تادیبی کارروائیوں میں گھرے ہوئے ہیں، جو جوابدہی کے فقدان کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ اس لیے اہم ہے کیونکہ یہ بحران اوپر سے نیچے تک پھیلا ہوا ہے، جہاں پیشہ ورانہ معیارات کو نافذ کرنے والے خود ان پر عمل کرنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔
جہاں رپورٹ بھرتی کے عمل میں 'جڑ سے بنیاد تک' (root and branch) جدید سازی پر زور دیتی ہے، وہاں عوامی اعتماد میں کمی کے حوالے سے ایک واضح سیاسی پس منظر بھی موجود ہے۔ انٹرویو میں پولیسنگ میں 'دو طرفہ تعصب' (two-tier bias) کے الزامات اور بیوروکریسی اور وسائل کی کمی کے درمیان تناؤ پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ یہ تقسیم آپریشنل آزادی برقرار رکھنے اور سیاسی جوابدہی کے بڑھتے ہوئے مطالبات کے درمیان جاری کشمکش کو واضح کرتی ہے۔
پس منظر اور تاریخ
برطانوی پولیسنگ کا ماڈل 'عوامی رضامندی سے پولیسنگ' (policing by consent) کے اصول پر مبنی ہے، جو 1829 کے Peelsian اصولوں سے لیا گیا ہے۔ تاریخی طور پر، 1999 کی Macpherson Report، جس نے Stephen Lawrence کے قتل کے بعد میٹروپولیٹن پولیس میں 'ادارہ جاتی نسل پرستی' کی نشاندہی کی تھی، نے دہائیوں پر محیط اصلاحات کی بنیاد رکھی۔ تاہم، موجودہ بحران ادارہ جاتی دیانت کی ایک وسیع تر ناکامی کی نمائندگی کرتا ہے۔
گزشتہ دہائی کے دوران، کفایت شعاری کے اقدامات اور بدلتے ہوئے جرائم کے منظر نامے نے روایتی پولیسنگ کو دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ College of Policing کو 2012 میں پیشہ ورانہ مہارت بڑھانے کے لیے قائم کیا گیا تھا، لیکن Blunkett-Herbert جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ کوششیں قیادت کو اسکینڈلز سے بچانے میں ناکام رہی ہیں۔ یہ ایک اہم موڑ ہے جہاں 43 علاقائی فورسز کی خود مختاری پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور مرکزی نگرانی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
عوامی ردعمل
غالب تاثر فوری خطرے کی گھنٹی اور ادارہ جاتی تھکاوٹ کا مجموعہ ہے۔ ادارتی ردعمل بتاتے ہیں کہ پولیس سروس کو 'تباہ حال' سمجھا جا رہا ہے، جہاں مسلسل جانچ پڑتال اور وسائل کی کمی کی وجہ سے حوصلے پست ہو چکے ہیں۔ سینئر سیاستدانوں میں اس بات پر مایوسی پائی جاتی ہے کہ سروس بہت زیادہ 'خطرہ مول لینے سے گریزاں' (risk-averse) ہو گئی ہے، جبکہ عوام کے ساتھ پولیس کا تعلق انصاف اور کارکردگی کے حوالے سے بڑھتے ہوئے شکوک و شبہات کا شکار ہے۔
اہم حقائق
- •سابق ہوم سیکرٹری Lord Blunkett اور Lord Herbert کی تیار کردہ ایک اہم رپورٹ سے انکشاف ہوا ہے کہ 43 میں سے 8 موجودہ یا سابق چیف کانسٹیبلز کے خلاف اس وقت تادیبی تحقیقات جاری ہیں۔
- •حالیہ انسپکشن سائیکل کے ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ انگلینڈ اور ویلز میں کسی بھی پولیس فورس کو قیادت کے معاملے میں 'outstanding' قرار نہیں دیا گیا۔
- •انگلینڈ اور ویلز کی تقریباً ایک تہائی پولیس فورسز کی درجہ بندی 'بہتری کی ضرورت' (requiring improvement) کے طور پر کی گئی، جبکہ دو کو قیادت کی کارکردگی میں 'ناقص' (inadequate) قرار دیا گیا۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔