یوکے ملٹری ری سیٹ: Red Arrows سرد جنگ کے پرانے طیاروں کی جگہ 360 ملین پاؤنڈ کے جدید ترین جیٹس حاصل کریں گے
برطانیہ کے فضائی سفیر (aerial ambassadors) اپنے 40 سال پرانے ڈھانچوں کی بدحالی کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے میں 15 ارب پاؤنڈ کا بڑا فوجی فنڈ برطانوی فضائی وقار کو بچانے کی ایک بھرپور کوشش ہے، اس سے پہلے کہ ان کے سرخ و سفید دھوئیں کے نشانات ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔
The report accurately synthesizes official government announcements and parliamentary opposition, though it employs dramatic vocabulary to describe the budgetary trade-offs and the aging state of the fleet.

"دہائیوں تک مشہور سرخ، سفید اور نیلے رنگ کا دھواں چھوڑنے والے یہ طیارے برطانیہ کی بہترین ڈیزائننگ، مینوفیکچرنگ اور مہارت کی علامت ہونے چاہئیں۔"
تفصیلی جائزہ
یہ صرف ایک فلائٹ ڈسپلے ٹیم کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ یہ برطانیہ کی اپنی فضائی صلاحیت (sovereign aerospace capability) کو برقرار رکھنے کا ایک بڑا داؤ ہے۔ اس نئے سسٹم کے ذریعے وزارتِ دفاع قومی وقار کو صنعتی پالیسی سے جوڑنے کی کوشش کر رہی ہے، تاکہ انجینئرنگ کی اعلیٰ ملازمتیں بچائی جا سکیں اور ٹریننگ کے اس نظام کو جدید بنایا جا سکے جو اب جواب دے چکا ہے۔ گزشتہ ماہ Red Arrows کے جہازوں کی تعداد میں کمی کا فیصلہ واضح اشارہ تھا کہ یہ طیارے اب مزید اڑنے کے قابل نہیں رہے، جس نے اس سرمایہ کاری کو ایک لازمی ریسکیو مشن بنا دیا ہے۔
اس منصوبے میں مالی دباؤ بھی واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔ ڈیفنس سیکرٹری Dan Jarvis کا کہنا ہے کہ یہ 'مشکل فیصلے' ڈرون وارفیئر جیسے مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ضروری ہیں، جبکہ شیڈو ڈیفنس سیکرٹری James Cartlidge اسے 'بہت کم اور بہت دیر سے' کیا گیا فیصلہ قرار دے رہے ہیں۔ BBC کے مطابق حکومت دیگر محکموں کے بجٹ سے کٹوتی کر کے یہ رقم نکال رہی ہے، جس کا مطلب ہے کہ Red Arrows کی بقا کی قیمت ملکی انفراسٹرکچر اور سماجی منصوبوں میں کمی کی صورت میں ادا کی جا رہی ہے۔
پس منظر اور تاریخ
Red Arrows 1979 سے BAE Systems Hawk T1 اڑا رہے ہیں، جو سرد جنگ کے دوران RAF کی تربیت کا ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا تھا۔ اگرچہ Hawk ایک زمانے میں عالمی سطح پر کامیاب رہا، لیکن 2022 میں RAF نے اس کے پرانے ماڈلز کو ریٹائر کر دیا تھا۔ اس کی وجہ سے Red Arrows کے پاس اسپیئر پارٹس کی شدید کمی ہو گئی تھی اور ان کی دیکھ بھال ایک مشکل چیلنج بن چکی تھی۔
پچھلی ایک دہائی سے برطانوی حکومتیں Red Arrows کی علامتی اہمیت اور جدید فضائیہ کی ضرورتوں کے درمیان توازن قائم کرنے میں مشکلات کا شکار رہی ہیں۔ ماضی کے دفاعی جائزوں میں طیاروں کی تبدیلی کا فیصلہ ٹالا جاتا رہا، جس کی وجہ سے ان طیاروں کی مدتِ کار کو زبردستی بڑھایا گیا۔ اب یہ فیصلہ اس بات کی علامت ہے کہ برطانیہ اپنے ٹرینر طیارے خود بنائے گا، بجائے اس کے کہ وہ امریکہ یا اٹلی جیسے ممالک سے بنے بنائے حل خریدے۔
عوامی ردعمل
ایوی ایشن کے حلقوں میں ایک محتاط اطمینان پایا جاتا ہے، لیکن فنڈنگ کے طریقہ کار پر سیاسی تقسیم بھی گہری ہے۔ جہاں ماہرین اسے برطانوی انجینئرنگ کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دے رہے ہیں، وہیں اپوزیشن کا خیال ہے کہ یہ سرمایہ کاری دیرپا دفاعی خلا کو پُر کرنے کے لیے ناکافی ہے۔
اہم حقائق
- •برطانوی وزارتِ دفاع (Ministry of Defence) نے Red Arrows کے پرانے BAE Systems Hawk T1 طیاروں کی جگہ 'British Jet Trainer System' تیار کرنے کے لیے 360 ملین پاؤنڈ مختص کر دیے ہیں۔
- •حکومت 15 ارب پاؤنڈ کے مجموعی دفاعی اخراجات کو پورا کرنے کے لیے دیگر تمام محکموں کے کیپیٹل بجٹ میں 1 فیصد کٹوتی کر رہی ہے۔
- •اس سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ، RAF کیننگزبی (RAF Coningsby) میں موجود Typhoon لڑاکا طیاروں کی اپ گریڈیشن پر 1.1 ارب پاؤنڈ خرچ کیے جائیں گے، جبکہ Shadow R1 جاسوس طیاروں کو وقت سے پہلے ریٹائر کیا جا رہا ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔