برطانیہ کے گریجویٹس نے اسٹوڈنٹ لون کو 'Tax on Ambition' قرار دے دیا؛ Parliamentary inquiry میں نظام کے شدید دباؤ کا انکشاف
تصور کریں کہ آپ اپنے خوابوں کی منزل کی طرف سفر شروع کرتے ہیں، لیکن آگے کا راستہ قرض کے اس بڑھتے ہوئے سائے میں گم ہو جاتا ہے جو آپ کی رفتار سے بھی زیادہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
This brief reflects the highly emotional testimony submitted to a parliamentary inquiry, which inherently focuses on individual grievances and systemic failure. The source material originates from a publication known for emphasizing social inequality and critiquing UK fiscal policy, contributing to the critical tone of the report.

""مجھے بتایا گیا تھا کہ یہ فون کے بل سے بھی کم ہوگا اور بمشکل ہی محسوس ہوگا۔ اب میں ایک بالغ فرد کے طور پر ہر ماہ سینکڑوں پاؤنڈز واپس کر رہا ہوں۔ یہ ایک مکمل جھوٹ تھا۔""
تفصیلی جائزہ
گریجویٹس کی بڑھتی ہوئی مایوسی Plan 2 لون ماڈل کی بنیادی خامیوں کو ظاہر کرتی ہے، جہاں سود کی شرح اکثر ماہانہ اقساط سے بڑھ جاتی ہے۔ اس سے ایک نفسیاتی اور مالیاتی 'ٹریڈ مل' والی صورتحال پیدا ہو رہی ہے، جہاں تنخواہ سے کٹوتی کے باوجود قرض کی کل رقم بڑھتی رہتی ہے۔ انکوائری کے مطابق، اعلیٰ تعلیم کا خرچہ اب ایک سرمایہ کاری کے بجائے زندگی بھر کا مالی بوجھ بن چکا ہے، جس سے گھر خریدنے یا خاندان شروع کرنے جیسے اہم فیصلے متاثر ہو رہے ہیں۔
بحث کا مرکز اس اعتماد کی خلاف ورزی ہے جو ان قرضوں کی اصل شرائط سے متعلق تھی۔ رپورٹ کے مطابق 57 فیصد افراد دستخط کرنے سے پہلے شرائط کو پوری طرح نہیں سمجھے تھے، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ ری پیمنٹ تھریش ہولڈ کو منجمد کرنا ایک 'Tax on Ambition' کے مترادف ہے جو گریجویٹس کو مہنگائی کے دور میں زیادہ ادائیگی پر مجبور کرتا ہے۔ دوسری طرف، حکومت کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ معاشی دباؤ کے پیش نظر تعلیمی شعبے کی مالی استحکام کے لیے یہ اقدامات ضروری ہیں۔
پس منظر اور تاریخ
موجودہ بحران برطانیہ میں اعلیٰ تعلیم کی فنڈنگ کے حوالے سے گزشتہ تین دہائیوں کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ 1998 سے پہلے تعلیم بڑی حد تک مفت تھی، لیکن New Labour حکومت کے دور میں 1,000 پاؤنڈز سے فیس کا آغاز ہوا، اور پھر 2012 میں Plan 2 سسٹم کے تحت اسے بڑھا کر 9,000 پاؤنڈز سالانہ کر دیا گیا۔
یہ نظام اصل میں اس بنیاد پر بنایا گیا تھا کہ صرف سب سے زیادہ کمانے والے ہی مکمل رقم واپس کریں گے اور باقیوں کا قرض 30 سال بعد معاف کر دیا جائے گا۔ تاہم، تنخواہوں میں سست اضافے، مہنگائی اور ری پیمنٹ تھریش ہولڈ پر حکومتی پالیسیوں میں تبدیلی کی وجہ سے اب گریجویٹس کی ایک بڑی تعداد مستقل قرض کے جال میں پھنس چکی ہے، جس کی وجہ سے Parliament میں شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
عوامی ردعمل
گریجویٹس میں شدید مایوسی اور دھوکہ دہی کا احساس پایا جاتا ہے، انہیں لگتا ہے کہ تعلیم کے ذریعے ترقی کا وعدہ اب ایک شکاری مالیاتی نظام میں بدل چکا ہے۔ میڈیا کوریج میں 'شدید پریشانی' کو نمایاں کیا جا رہا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شواہد کی بڑی تعداد حکومت کو اسٹوڈنٹ لون کے ڈھانچے پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر سکتی ہے۔
اہم حقائق
- •اسٹوڈنٹ لون اور گریجویٹ ٹیکسیشن سے متعلق Commons Treasury select committee کی انکوائری میں 52,000 سے زائد افراد نے جواب جمع کرائے۔
- •قرض لینے والے تقریباً 50,000 افراد میں سے 92 فیصد کا ماننا ہے کہ سود کی شرح اور واپسی کی شرائط مناسب نہیں ہیں۔
- •UK حکومت نے Plan 2 لون کی واپسی کے لیے سیلری تھریش ہولڈ کو سال 2030 تک £29,385 پر منجمد کر دیا ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔