Russell Group کی آنے والی چیئر نے UK میں آرٹس کے بجٹ میں کٹوتی کو 'tragic' قرار دے دیا
جہاں ایک طرف UK کا ہائر ایجوکیشن سیکٹر مالی بحران کے دہانے پر کھڑا ہے، وہیں ملک کی ایلیٹ یونیورسٹیوں کی آنے والی سربراہ نے کریٹیو آرٹس کے خلاف ہونے والے منظم اقدامات کے خلاف آواز بلند کر دی ہے۔
This brief reflects the perspective of UK academic leadership and the editorial focus of The Guardian on the socio-economic impacts of educational funding cuts.

""اس میں کوئی شک نہیں کہ فائن آرٹس، ڈرامہ یا کریٹیو پریکٹس کی ڈگری، گریجویشن کے محض 18 ماہ بعد، آپ کو کوئی بہت بڑا مالی فائدہ دیتی نظر نہیں آتی۔ تاہم، اس بارے میں میری ذاتی رائے بالکل مختلف ہے۔ میری بڑی بیٹی میرے خاندان میں وہ واحد بچہ ہے جو واقعی بہت زیادہ رقم کما رہی ہے۔""
تفصیلی جائزہ
یہ تعلیمی اشرافیہ اور حکومت کے درمیان ایک بڑا ٹکراؤ ہے، جہاں حکومت طویل مدتی ثقافتی سرمائے کے بجائے فوری مالی کفایت شعاری کو ترجیح دے رہی ہے۔ اپنی بیٹی Florence Welch کی کامیابی کی مثال دے کر Prof Evelyn Welch اس 'کم قیمت ڈگری' کے بیانیے کو چیلنج کر رہی ہیں جو پالیسی بحث پر حاوی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ آرٹس کی ڈگریاں فوری نتائج نہیں دکھاتیں، لیکن یہ عالمی سطح کی کامیابی کے لیے ضروری نظم و ضبط فراہم کرتی ہیں۔
یہ بحران ساختی نوعیت کا ہے اور اس سے پورے UK میں ایسے 'تعلیمی بنجر علاقے' پیدا ہونے کا خدشہ ہے جہاں آرٹس کی ڈگریاں صرف امیروں کا خاصہ بن کر رہ جائیں گی۔ دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق ہزاروں ملازمتوں میں کٹوتیاں جاری ہیں، جو ان طلباء کو زیادہ متاثر کر رہی ہیں جو مہنگی تعلیم کے لیے دور دراز سفر کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔ یہ برطانیہ کی اس 'soft power' کے لیے خطرہ ہے جس نے دہائیوں سے اسے دنیا میں ممتاز رکھا ہے۔
پس منظر اور تاریخ
برطانیہ میں ہائر ایجوکیشن کا نظام 2010 کے Browne Review کے بعد یکسر بدل گیا، جب فنڈنگ کا بوجھ ریاست سے طلباء پر منتقل کر دیا گیا۔ ایک دہائی سے زائد عرصے تک یونیورسٹیوں نے چین اور نائیجیریا جیسے ممالک سے آنے والے بین الاقوامی طلباء پر انحصار کیا تاکہ مقامی تعلیمی اخراجات پورے کیے جا سکیں۔ تاہم حالیہ ویزا پابندیوں نے اس ماڈل کی کمزوری کو بے نقاب کر دیا ہے کیونکہ مہنگائی کے باوجود فیس 9,250 پاؤنڈ پر برقرار ہے۔
گزشتہ چند سالوں سے 'mickey mouse degrees' جیسی اصطلاحات استعمال کر کے ہیومینیٹیز اور آرٹس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ 2021 میں آرٹس کے مضامین کی فنڈنگ آدھی کرنے کے فیصلے نے اس شعبے کے زوال کی راہ ہموار کی ہے۔ تاریخی طور پر برطانیہ اپنے کریٹیو آرٹس کو سفارتی اور برآمدی ہتھیار کے طور پر استعمال کرتا رہا ہے، لیکن اب توجہ صرف STEM (سائنس اور ٹیکنالوجی) پر مرکوز کی جا رہی ہے۔
عوامی ردعمل
تعلیمی حلقوں میں شدید تشویش اور دھوکے کا احساس پایا جاتا ہے، کیونکہ دہائیوں کی عالمی تعلیمی قیادت کو قلیل مدتی بجٹ کے دباؤ کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ اپنی ذہنی اور تخلیقی تنوع کو خود ختم کر رہا ہے۔ اگرچہ حکومت کے مالی مسائل کو تسلیم کیا جاتا ہے، لیکن Welch جیسی بڑی شخصیت کا ردعمل یونیورسٹیوں کی قیادت میں ایک بڑی بغاوت کی نشاندہی کرتا ہے۔
اہم حقائق
- •Prof Evelyn Welch، جو اس وقت Bristol University کی وائس چانسلر ہیں، اگست 2026 میں ریسرچ پر مبنی جامعات کے گروپ Russell Group کی چیئر کے طور پر چارج سنبھالیں گی۔
- •UK حکومت نے حال ہی میں 'strategic priorities grant' میں کٹوتی کا اعلان کیا ہے، جو خاص طور پر مہنگے کریٹیو اور پرفارمنگ آرٹس کورسز کو سبسڈی فراہم کرتی ہے۔
- •ہائر ایجوکیشن کے ادارے فنڈنگ کے سنگین بحران کا شکار ہیں، جس کی وجوہات مقامی ٹیوشن فیسوں کا منجمد ہونا اور ویزا پابندیوں کے باعث بین الاقوامی طلباء کے داخلوں میں تیزی سے کمی ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔