ح
واپس خبروں پر جائیں
🔥 Trending
✨ AI BRIEF
Health8 جولائی، 2026Fact Confidence: 95%

عالمی ریٹیلرز کو ممنوعہ اور خطرناک بچوں کے سامان کی فروخت پر شدید تنقید کا سامنا

ان چمکتی ہوئی اسکرینوں کے پیچھے جہاں تھکے ہوئے والدین آسانی تلاش کرتے ہیں، خطرناک بچوں کی مصنوعات کا ایک چھپا ہوا ذخیرہ اب بھی گردش کر رہا ہے، جو جھولے جیسی محفوظ جگہ کو ایک انجانے خطرے میں بدل رہا ہے۔

AI Editor's Analysis
Fact-BasedAdvocacy-Driven

This report is based on an investigation by the consumer advocacy group Which?, which employs urgent language to highlight safety gaps and advocate for stricter digital commerce regulations.

عالمی ریٹیلرز کو ممنوعہ اور خطرناک بچوں کے سامان کی فروخت پر شدید تنقید کا سامنا
"بچوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں کیونکہ یہ پلیٹ فارمز خطرناک مصنوعات کو اپنے صارفین تک پہنچنے سے نہیں روک رہے - حالانکہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ مصنوعات جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں۔"
Sue Davies (Sue Davies, head of consumer protection policy at Which?, comments on the findings of their investigation into online marketplaces.)

تفصیلی جائزہ

یہ تحقیقات ڈیجیٹل صارفین کی حفاظت میں ایک بڑے خلا کی نشاندہی کرتی ہے جہاں عالمی ای کامرس کی سہولت جوابدہی کی کمی کو چھپا لیتی ہے۔ Which? کا دعویٰ ہے کہ آن لائن مارکیٹ پلیسز اس وقت صرف 'غیر فعال' میزبان کا کردار ادا کر رہے ہیں اور انہیں قانونی طور پر تھرڈ پارٹی سامان کی حفاظت کا ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہیے۔

اصل مسئلہ روایتی ریٹیل سے مارکیٹ پلیس ماڈل کی طرف منتقلی ہے، جہاں پلیٹ فارمز سامان کا جسمانی معائنہ کیے بغیر فروخت کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ 2022 اور 2025 کے الرٹس کے باوجود ان مصنوعات کی دستیابی یہ ظاہر کرتی ہے کہ ٹیک کمپنیوں کے الگورتھم بچوں کی حفاظت کے لیے ناکافی ہیں۔

پس منظر اور تاریخ

برطانیہ میں آن لائن مارکیٹ پلیسز کو ریگولیٹ کرنے کی جدوجہد گزشتہ دہائی میں اس وقت تیز ہوئی جب Amazon اور eBay جیسے بڑے اداروں کے لیے تھرڈ پارٹی سیلنگ ایک اہم ماڈل بن گیا۔

تاریخی طور پر، صارفین کے تحفظ کے قوانین جسمانی دکانوں کے لیے بنائے گئے تھے جہاں ریٹیلر ہی 'ذمہ دار شخص' ہوتا ہے۔ 'ڈراپ شپنگ' اور سرحد پار ڈیجیٹل تجارت کے تیزی سے اضافے نے قانون سازی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے، جس سے ایک ایسی 'گرے مارکیٹ' پیدا ہو گئی ہے جہاں غیر محفوظ سامان براہ راست صارفین تک پہنچ رہا ہے۔

عوامی ردعمل

رپورٹ میں شدید تشویش اور پیشہ ورانہ مایوسی کا اظہار کیا گیا ہے۔ صارفین کے حقوق کے علمبردار ٹیک پلیٹ فارمز کے اس رویے کو بچوں کی جان پر منافع کو ترجیح دینے اور صارفین کے اعتماد کے ساتھ دھوکہ دہی قرار دے رہے ہیں۔

اہم حقائق

  • Which? کی ایک تحقیقات میں Amazon، eBay، اور TikTok سمیت آٹھ بڑے آن لائن پلیٹ فارمز پر فروخت کے لیے پیش کی گئی 150 غیر محفوظ بچوں کی مصنوعات کی نشاندہی کی گئی ہے۔
  • نشاندہی کی گئی اشیاء میں خود سے دودھ پلانے والے بوتل ہولڈرز، نیند کے تکیے اور ہوڈ والے سلیپنگ بیگز شامل ہیں جو پہلے بھی سرکاری طور پر حفاظتی وارننگز کا شکار رہ چکے ہیں۔
  • ملنے والی مصنوعات میں سے ایک تہائی سے زیادہ ایسی تھیں جو بوتل سے دودھ پلانے کے لیے سہارے کے طور پر بنائی گئی تھیں، جس سے بچوں کے دم گھٹنے یا نمونیا کا شدید خطرہ ہوتا ہے۔

📍 مقامات

© OpenStreetMap
📍 London

ذرائع

یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔

Global Retailers Under Fire for Selling Prohibited and Dangerous Baby Gear - Haroof News | حروف