برطانیہ کی کھوئی ہوئی صلاحیت: 125 ارب پاؤنڈ اور لاپتہ 10 لاکھ نوجوانوں کا سوال
تصور کریں کہ ایک پوری نسل کے خواب اور محنت خاموشی سے ضائع ہو رہے ہیں، جو ایک ملک کے مستقبل اور معیشت کو داؤ پر لگا رہے ہیں اور ہمارے سماجی ڈھانچے کو بھی چیلنج کر رہے ہیں۔
This report is based on a specific government-commissioned review and accurately reflects the provided data, though it adopts the evocative 'lost generation' terminology used by the source to describe the youth employment crisis.

"برطانیہ کو نوجوانوں کے روزگار کے بحران کی وجہ سے سالانہ 125 ارب پاؤنڈ کے نقصان کا سامنا ہے، جو یورپ کے تقریباً کسی بھی دوسرے ملک سے کہیں زیادہ ہے۔"
تفصیلی جائزہ
یہ بحران ایک نظامی ٹوٹ پھوٹ کی عکاسی کرتا ہے جہاں کورونا کے بعد بحالی میں رکاوٹ اور عالمی تنازعات کے نئے معاشی جھٹکے ایک بڑے طوفان کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ یہ اس لیے اہم ہے کیونکہ ایک 'کھوئی ہوئی نسل' (lost generation) صرف موجودہ مالی نقصان نہیں ہے، بلکہ یہ ایک طویل مدتی 'گہرا زخم' ہے جہاں آج کے دس لاکھ فارغ ذہن مستقبل میں ملکی جدت اور کمائی میں کمی کا باعث بنیں گے، جو برطانیہ کی عالمی معاشی سمت بدل سکتا ہے۔
اس صورتحال کا ذمہ دار ٹھہرانے پر شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔ The Guardian کی رپورٹ کے مطابق Alan Milburn اور لیبر (Labour) حکومت اس بحران کو پچھلی حکومتوں کی ناکامی قرار دیتی ہے، جبکہ اپوزیشن لیڈر اور کاروباری گروپوں کا دعویٰ ہے کہ ٹیکسوں میں اضافے اور کم از کم اجرت بڑھانے جیسے حالیہ پالیسی فیصلوں نے نوجوانوں کو ملازمت پر رکھنے کے عمل کو مشکل بنا کر بحران کو مزید سنگین کر دیا ہے۔
پس منظر اور تاریخ
'NEET' (تعلیم، ملازمت یا تربیت میں شامل نہ ہونا) کی اصطلاح 1990 کی دہائی کے آخر میں برطانیہ کی پالیسیوں میں نمایاں ہوئی، لیکن اس بحران کی جڑیں کئی دہائیاں پرانی ہیں۔ جیسے جیسے برطانیہ کی معیشت مینوفیکچرنگ سے ہائی اسکل سروسز اور ٹیک مارکیٹ کی طرف منتقل ہوئی، تعلیمی نتائج اور آجروں کی ضرورت کے درمیان فرق بڑھتا گیا، جس نے مخصوص ڈگریوں کے بغیر لوگوں کو مزید کمزور کر دیا۔
2008 کے مالیاتی بحران نے ایسے گہرے زخم چھوڑے تھے جو 2020 کی وبا کے آنے تک پوری طرح نہیں بھرے تھے، جس نے خاص طور پر ریٹیل اور ہاسپیٹیلٹی جیسے شعبوں کو متاثر کیا جہاں نوجوان عام طور پر کام شروع کرتے ہیں۔ تاریخی طور پر عالمی عدم استحکام کے دوران نوجوانوں کی بے روزگاری بڑھتی ہے، لیکن موجودہ صورتحال روایتی بحالی کے طریقوں سے ہٹ کر ہے، جسے دماغی صحت کے جدید چیلنجز اور بڑھتی ہوئی مہنگائی نے مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔
عوامی ردعمل
ادارتی ردعمل انتہائی تشویشناک ہے، جس میں بڑھتی ہوئی قومی ایمرجنسی کے لیے 'کھوئی ہوئی نسل' (lost generation) کی اصطلاح بار بار استعمال کی جا رہی ہے۔ اگرچہ اعداد و شمار کی سنگینی پر اتفاق ہے، لیکن ماحول تناؤ کا شکار ہے؛ حکومت مداخلت کے لیے اخلاقی اور معاشی ضرورت پر زور دے رہی ہے، جبکہ کاروباری طبقہ مایوسی کا اظہار کر رہا ہے، انہیں خدشہ ہے کہ حکومتی فلاحی اصلاحات اور ٹیکسوں کا بوجھ ملازمتوں کے اسی بازار کو ختم کر دے گا جسے وہ ٹھیک کرنا چاہتے ہیں۔
اہم حقائق
- •برطانیہ میں 16 سے 24 سال کی عمر کے 10 لاکھ سے زیادہ نوجوان اس وقت تعلیم، ملازمت یا کسی تربیت (NEET) کا حصہ نہیں ہیں۔
- •حکومت کی حمایت یافتہ ایک رپورٹ کے مطابق نوجوانوں کی بے روزگاری کے اس بحران کی سالانہ معاشی لاگت 125 ارب پاؤنڈ ہے۔
- •برطانیہ میں بے روزگاری کے اعداد و شمار COVID-19 کی وبا کے آغاز کے بعد سے اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔