برطانیہ کو 'Lost Generation' کا سامنا، نوجوانوں کی بیزاری سنگین حد تک پہنچ گئی
جب ہم جدت پر مبنی مستقبل کی طرف دیکھتے ہیں، تو ہمیں یہ پوچھنا ہوگا کہ اس وقت کیا ہوتا ہے جب کل کے معمار—دس لاکھ سے زائد نوجوان—ان نظاموں سے دور ہو جاتے ہیں جو انہیں آگے بڑھانے کے لیے بنائے گئے تھے۔
The brief employs emotive framing such as 'lost generation' and 'young souls' to create urgency, reflecting the typical editorial style of The Guardian and the socio-economic focus of a former Labour minister's report.

"نوجوانوں کی بیزاری ملک کے لیے بڑھتا ہوا معاشی خطرہ ہے، اور اس نے اسکولوں، نظامِ صحت اور فلاحی ریاست سے متعلق پالیسیوں میں بنیادی تبدیلی پر زور دیا۔"
تفصیلی جائزہ
یہ بحران صرف بے روزگاری کے اعداد و شمار تک محدود نہیں ہے؛ بلکہ یہ تیزی سے بدلتی ہوئی معیشت میں بچپن اور عملی زندگی کے درمیان فرق کو ختم کرنے میں ایک نظامی ناکامی ہے۔ اس صورتحال کی وجہ سپورٹ سسٹمز کی تقسیم ہے—جہاں اسکول، نظامِ صحت اور سماجی تحفظ کے ادارے الگ الگ کام کرتے ہیں—جس سے کمزور نوجوان ان کے درمیان پھنس کر رہ جاتے ہیں۔ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو برطانیہ کو ایک ایسی ورک فورس کا سامنا ہوگا جس میں صلاحیتوں کی کمی ہوگی اور ذہنی صحت کے مسائل کی وجہ سے معیشت مستقل دباؤ کا شکار رہے گی۔
یہ بحث بے روزگاری کو ذاتی ناکامی کے بجائے ایک ڈھانچہ جاتی معاشی خطرے کے طور پر دیکھنے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اگرچہ Guardian کی رپورٹ دس لاکھ افراد کی بڑی تعداد پر زور دیتی ہے، لیکن اصل مسئلہ 'بنیادی تبدیلی' کی ضرورت میں چھپا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ معمولی تبدیلیاں اب کافی نہیں ہیں، اور موجودہ ادارہ جاتی ڈھانچہ Gen Z اور Gen Alpha کی ضروریات کے مطابق نہیں ہے، جس کے لیے شاید سماجی معاہدے کو دوبارہ لکھنے کی ضرورت ہے۔
پس منظر اور تاریخ
'کھوئی ہوئی نسل' کی اصطلاح تاریخی طور پر پہلی جنگ عظیم کے بعد کے دور کی یاد دلاتی ہے، لیکن 21 ویں صدی کے برطانیہ کے تناظر میں، اس کی جڑیں 2008 کے مالیاتی بحران اور اس کے بعد کی دہائی کی کفایت شعاری میں ملتی ہیں۔ اس دوران نوجوانوں کے لیے سروسز میں نمایاں کمی کی گئی اور تعلیم کی فیسوں میں اضافہ ہوا، جس سے کامیابی کے روایتی راستوں تک رسائی مشکل ہو گئی۔ COVID-19 کی وبا نے ان مسائل کو مزید سنگین بنا دیا، جس سے ان نوجوانوں کی تعلیم اور سماجی زندگی کے اہم سال متاثر ہوئے۔
تاریخی طور پر، برطانیہ نوجوانوں کے لیے مواقع کے حوالے سے علاقائی عدم مساوات کا شکار رہا ہے، خاص طور پر صنعتی علاقوں میں۔ یہ حالیہ رپورٹ ان طویل مدتی رجحانات کا نتیجہ ہے، جہاں ڈیجیٹل تفریق اور پیشہ ورانہ تربیت اور مارکیٹ کی طلب کے درمیان فرق شدت اختیار کر چکا ہے۔ Alan Milburn جیسے سابق نیو لیبر معمار کی جانب سے تبدیلی کا مطالبہ اس بات کا اعتراف ہے کہ 90 کی دہائی کی تعلیمی اصلاحات اب اپنی حد کو پہنچ چکی ہیں۔
عوامی ردعمل
ادارتی لہجہ فوری خطرے کی گھنٹی بجانے والا ہے، جس میں اس صورتحال کو محض ایک سماجی مسئلہ نہیں بلکہ قومی استحکام کے لیے ایک نظامی خطرے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ 'کھوئی ہوئی نسل' جیسی جذباتی اصطلاح کا استعمال موجودہ پالیسیوں کے خلاف غصے اور مایوسی کی عکاسی کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پالیسی ماہرین میں اس بات پر اتفاق بڑھ رہا ہے کہ برطانیہ ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں مسلسل بے عملی مستقل معاشی زوال کا باعث بن سکتی ہے۔
اہم حقائق
- •برطانیہ میں 16 سے 24 سال کی عمر کے 10 لاکھ سے زائد افراد اس وقت نہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، نہ ملازمت میں ہیں اور نہ ہی کسی تربیت کا حصہ (NEET) ہیں۔
- •سابق Labour وزیر Alan Milburn کی قیادت میں ایک اہم حکومتی رپورٹ میں نوجوانوں کی اس بیزاری کو ملک کے لیے سب سے بڑا معاشی خطرہ قرار دیا گیا ہے۔
- •رپورٹ میں تعلیمی نظام، نیشنل ہیلتھ سروسز اور فلاحی ریاست کے تمام شعبوں میں جامع پالیسی اصلاحات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔