ح
واپس خبروں پر جائیں
🔥 Trending
✨ AI BRIEF
Education1 جون، 2026Fact Confidence: 95%

برطانیہ کا 125 ارب پاؤنڈ کا چیلنج: 'کھوئی ہوئی نسل' کے ابھرتے ہوئے مسئلے کا حل

تصور کریں کہ برمنگھم جتنا بڑا شہر جہاں ہر نوجوان ساکن کھڑا ہو؛ یہ برطانیہ کی دس لاکھ افراد پر مشتمل اس 'کھوئی ہوئی نسل' کی حقیقت ہے جو فی الحال ملازمت اور تعلیم کے نظام سے باہر بھٹک رہی ہے۔

AI Editor's Analysis
Fact-BasedSensationalized

While the core data is supported by official figures and a landmark report, the narrative employs high-stakes framing such as 'Lost Generation' typical of advocacy-driven policy reviews, which the brief balances by attributing political counter-arguments.

برطانیہ کا 125 ارب پاؤنڈ کا چیلنج: 'کھوئی ہوئی نسل' کے ابھرتے ہوئے مسئلے کا حل
"برطانیہ کو نوجوانوں کے روزگار کے بحران کی وجہ سے سالانہ 125 ارب پاؤنڈ کے نقصانات کا سامنا ہے، جو یورپ کے تقریباً کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔"
Alan Milburn (From the landmark report on the UK's youth jobs crisis)

تفصیلی جائزہ

یہ محض اعداد و شمار کا اتار چڑھاؤ نہیں ہے بلکہ ایک ساختی زلزلہ ہے جو جدید معیشت اور اگلی نسل کی مہارتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ حکومت کی جانب سے تجویز کردہ 'یوتھ گارنٹی' کا مقصد پیشہ ورانہ عزائم کو دوبارہ بیدار کرنا ہے، لیکن اسے معاشی گراوٹ اور وبائی برسوں کے دیرپا نفسیاتی اثرات جیسی بڑی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ چیلنج ان دس لاکھ افراد کو معاشی بوجھ کے بجائے اس پیداواری انجن میں تبدیل کرنے میں ہے جس کی ملک کو اپنے مستقبل کے لیے ضرورت ہے۔

اس جمود کی وجہ پر ایک بڑا اختلاف پایا جاتا ہے۔ کاروباری گروپس اور اپوزیشن لیڈروں کا دعویٰ ہے کہ ٹیکسوں میں اضافے اور کم از کم اجرت بڑھنے سے ابتدائی سطح پر بھرتیوں کا عمل متاثر ہوا ہے، جبکہ Milburn رپورٹ کا موقف ہے کہ یہ بحران ویلفیئر اور تعلیمی نظام میں طویل مدتی ناکامیوں کا نتیجہ ہے جس نے نوجوانوں کو الگ تھلگ کر دیا ہے۔

پس منظر اور تاریخ

اصطلاح NEET (تعلیم، روزگار یا ٹریننگ سے باہر) کا استعمال سب سے پہلے برطانیہ میں 1990 کی دہائی کے آخر میں ان نوجوانوں کی شناخت کے لیے کیا گیا تھا جو سماجی تحفظ کے نظام سے محروم ہو رہے تھے۔ اگرچہ برطانیہ کو ماضی میں بھی نوجوانوں کی بے روزگاری کا سامنا رہا ہے، بالخصوص 2008 کے مالیاتی بحران کے بعد، لیکن موجودہ صورتحال Covid-19 لاک ڈاؤنز کی وجہ سے زیادہ سنگین ہے جس نے پیشہ ورانہ ترقی کے اہم سالوں کو ضائع کر دیا۔

گزشتہ ایک دہائی کے دوران برطانیہ نے فنی تربیت کو تیزی سے ڈیجیٹل ہوتی ہوئی ورک فورس کے مطابق ڈھالنے میں مشکلات کا سامنا کیا ہے۔ موجودہ صورتحال ایک ایسا موڑ ہے جہاں نوجوانوں کے لیے سہولیات میں ماضی کی کم سرمایہ کاری اور عالمی عدم استحکام کے معاشی دباؤ کا ٹکراؤ ہو رہا ہے، جس سے اس عارضی مندی کے ایک مستقل نسلی نقصان میں بدلنے کا خطرہ ہے۔

عوامی ردعمل

مجموعی فضا ایک سنجیدہ تشویش کی ہے، جہاں 'کھوئی ہوئی نسل' کی اصطلاح برطانوی ورک فورس کے مستقبل کے بارے میں گہرے اضطراب کی عکاسی کرتی ہے۔ اگرچہ بحران کی سنگینی پر سب کا اتفاق ہے، لیکن عوامی اور ادارتی ردعمل ان لوگوں کے درمیان منقسم ہے جو بھرتیوں میں کمی کا ذمہ دار حکومتی مالیاتی پالیسیوں کو ٹھہراتے ہیں اور وہ جو ویلفیئر اور تعلیمی اصلاحات کو ناگزیر سمجھتے ہیں۔

اہم حقائق

  • برطانیہ میں 16 سے 24 سال کی عمر کے 10 لاکھ سے زائد نوجوان اس وقت نہ تو تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور نہ ہی وہ کسی ملازمت یا ٹریننگ (NEET) کا حصہ ہیں۔
  • سابق کابینہ وزیر Alan Milburn کی ایک اہم رپورٹ کے مطابق نوجوانوں کی بے روزگاری کی سالانہ معاشی قیمت کا تخمینہ 125 ارب پاؤنڈ لگایا گیا ہے۔
  • برطانیہ میں بے روزگاری کی شرح Covid-19 کی وبا کے آغاز کے بعد سے اب اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

📍 مقامات

© OpenStreetMap
📍 London

ذرائع

یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔

UK’s £125 Billion Challenge: Addressing the Rise of the 'Lost Generation' - Haroof News | حروف