اقوام متحدہ نے آبنائے ہرمز سے بڑے پیمانے پر انخلاء روک دیا، مال بردار بحری جہاز پر حملہ
آبنائے ہرمز میں سمندری جنگ بندی ٹوٹ گئی ہے، جہاں سنگاپور کے ایک بحری جہاز پر حملے کے بعد اقوام متحدہ کو 11,000 ملاحوں کا انخلاء روکنے پر مجبور ہونا پڑا ہے جو علاقائی طاقتوں کی جنگ میں پھنسے ہوئے ہیں۔

""میں نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ ملاحوں کی حفاظت سب سے مقدم ہے۔ لہٰذا، مربوط حکمت عملی اور جہاز رانی کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے، انخلاء کے منصوبے کو اس وقت تک روکا جائے گا جب تک مزید وضاحت حاصل نہیں ہو جاتی۔""
تفصیلی جائزہ
یہ واقعہ امریکہ-ایران معاہدے کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے، جہاں تہران کی جانب سے 'سروس فیس' کے مطالبے نے 'محفوظ راستے' کے تصور کو متنازع بنا دیا ہے۔ اقوام متحدہ ملاحوں کی زندگیوں پر فکرمند ہے، جبکہ امریکہ بین الاقوامی پانیوں میں کسی بھی قسم کے 'ٹول ٹیکس' کو قطعی طور پر مسترد کرتا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ Marco Rubio اور ایرانی حکام کے درمیان 'سروس فیس' اور 'ٹول ٹیکس' کے الفاظ پر ہونے والی تکرار دراصل دنیا کی سب سے اہم انرجی گزرگاہ پر خود مختاری کی ایک بڑی جنگ ہے۔ ایران ان فیسوں کے بہانے عالمی برادری پر دباؤ ڈال رہا ہے تاکہ اقوام متحدہ کے مشن کو براہ راست نشانہ بنائے بغیر مداخلت کر سکے۔
پس منظر اور تاریخ
آبنائے ہرمز طویل عرصے سے عالمی توانائی کی منڈی کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے، جہاں سے دنیا کی تیل کی مجموعی کھپت کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔ ماضی میں 1980 کی دہائی کی 'ٹینکر وارز' کے دوران بھی اسے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔
موجودہ بحران کی جڑیں فروری 2026 میں شروع ہونے والی کشیدگی میں ہیں، جب امریکہ اور اسرائیل نے ایرانی اثاثوں پر حملے کیے تھے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے انخلاء کی یہ تازہ کوشش نئے امن معاہدے کی پہلی بڑی انسانی کامیابی ہونی تھی، لیکن اب یہ ناکامی کے خطرے سے دوچار ہے۔
عوامی ردعمل
صورتحال انتہائی غیر یقینی اور پریشان کن ہے۔ بین الاقوامی بحری ادارے رفتار کے بجائے ملاحوں کی زندگی کو ترجیح دے رہے ہیں، جبکہ امریکہ کا سفارتی لہجہ سخت ہے اور شپنگ انڈسٹری بڑے سیاسی تنازعات اور میزائل حملوں کے درمیان پھنسی ہوئی ہے۔
اہم حقائق
- •انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (IMO) نے عمان کے قریب سنگاپور کے جھنڈے والے مال بردار جہاز Ever Lovely پر نامعلوم حملے کے بعد 11,000 سے زائد ملاحوں کے انخلاء کا منصوبہ روک دیا ہے۔
- •امریکہ اور ایران نے حال ہی میں کشیدگی ختم کرنے کے لیے 14 نکات پر اتفاق کیا تھا، جس میں آبنائے ہرمز سے 60 دن کے لیے محفوظ تجارتی گزرگاہ کی اجازت دی گئی تھی۔
- •ایران کے زیر انتظام Persian Gulf Strait Authority (PGSA) نے وارننگ دی ہے کہ مقررہ راستوں سے ہٹ کر چلنے والے جہازوں کی حفاظت کی کوئی ضمانت نہیں دی جائے گی اور اس کی ذمہ داری ان کے مالکان پر ہوگی۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔