سوڈان میں 5 لاکھ شہریوں کی جانوں کو خطرہ، اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب
محصور شہر ال ابیض (el-Obeid) میں پانچ لاکھ جانیں داؤ پر لگی ہیں، جس کے بعد بین الاقوامی برادری نے اس خوفناک قتلِ عام کو روکنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں جس کا خدشہ مبصرین کی جانب سے ظاہر کیا جا رہا ہے۔
The reporting relies on corroborated statements from a coalition of European nations and the Sudan Doctors Network, focusing on a specific humanitarian crisis while attributing potential risk figures to official diplomatic requests.

""تقریباً 5 لاکھ شہریوں کو بڑے پیمانے پر مظالم کا نشانہ بنائے جانے کا خطرہ ہے۔""
تفصیلی جائزہ
مغربی طاقتوں کی جانب سے UNHRC میں قرارداد لانے کی کوششیں اس سفارتی حکمت عملی کی نشاندہی کرتی ہیں جو Rapid Support Forces (RSF) کے کردوفان کے علاقے پر بڑھتے ہوئے قبضے کو روکنے کے لیے اپنائی جا رہی ہے۔ ال ابیض (el-Obeid) کو نشانہ بنا کر RSF ان اہم سپلائی لائنز پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتی ہے جو دارالحکومت کو مغربی علاقوں سے جوڑتی ہیں، جس سے سوڈانی فوج (SAF) کے اثر و رسوخ کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔ یہ ہنگامی بحث دراصل بین الاقوامی قانونی دباؤ کو آخری حربے کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش ہے تاکہ دارفور جیسے نسلی قتلِ عام کو روکا جا سکے۔
یہ تنازعہ اب اپنے چوتھے سال میں داخل ہو چکا ہے اور نظام مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے جہاں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ملنے والی امداد کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ RSF اپنے حملوں کو SAF کے قبضے سے 'آزادی' کا نام دیتی ہے، لیکن الفاشر (el-Fasher) میں ڈاکٹروں کی گرفتاریوں سے ایک سنگین حقیقت سامنے آتی ہے کہ RSF کی عسکری پیش قدمی کا دارومدار شہری بقا کے ڈھانچے کو منظم طریقے سے تباہ کرنے پر ہے۔
پس منظر اور تاریخ
حالیہ بحران اس خانہ جنگی کی کڑی ہے جو 15 اپریل 2023 کو جنرل عبدالفتاح البرہان کی SAF اور محمد حمدان 'حمیدتی' دقلو کی RSF کے درمیان اقتدار کی جنگ کے نتیجے میں شروع ہوئی تھی۔ ان دونوں دھڑوں نے پہلے 2019 میں عمر البشیر کی حکومت ختم کرنے اور پھر 2021 میں جمہوری عمل کو سبوتاژ کرنے کے لیے تعاون کیا تھا، لیکن بعد میں RSF کو قومی فوج میں ضم کرنے کے معاملے پر ان کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے۔
گزشتہ چار سالوں میں اس جنگ کی وجہ سے 12 ملین سے زیادہ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں، جس سے دنیا کا سب سے بڑا غذائی بحران پیدا ہوا ہے۔ اکتوبر 2025 میں الفاشر (el-Fasher) کا گرنا ایک اہم موڑ تھا کیونکہ یہ دارفور کے علاقے میں SAF کا آخری بڑا گڑھ تھا۔ ال ابیض (el-Obeid) کا موجودہ محاصرہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے، جہاں RSF شہروں کو الگ تھلگ کر کے بنیادی سہولیات کی تباہی کے ذریعے شہریوں کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر رہی ہے—یہ وہی حکمت عملی ہے جو دو دہائیاں قبل دارفور کی نسل کشی کے دوران جنجاوید (Janjaweed) نے اپنائی تھی۔
عوامی ردعمل
اس تحریر کا لہجہ انتہائی تشویشناک ہے اور بین الاقوامی مداخلت کی سست روی پر مایوسی کا اظہار کرتا ہے۔ ال ابیض (el-Obeid) کی صورتحال پر خوف کی فضا صاف محسوس کی جا سکتی ہے، جہاں طبی عملے اور شہریوں کو نشانہ بنانے پر سوڈان ڈاکٹرز نیٹ ورک اور بین الاقوامی سفارت کاروں کی آوازیں ایک ہو چکی ہیں۔ یہ تاثر ملتا ہے کہ عالمی برادری ایک بار پھر انسانی المیے کو روکنے کے بجائے صرف اس کے رونما ہونے کا انتظار کر رہی ہے۔
اہم حقائق
- •جرمنی، آئرلینڈ، نیدر لینڈز، ناروے اور برطانیہ کی درخواست پر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے جنیوا میں ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔
- •شمالی کردوفان کے شہر ال ابیض (el-Obeid) کے محاصرے کی وجہ سے ایندھن اور پانی کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے، جبکہ شہری ڈھانچے پر ڈرون حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
- •سوڈان ڈاکٹرز نیٹ ورک نے تصدیق کی ہے کہ Rapid Support Forces (RSF) نے 2025 کے آخر میں الفاشر (el-Fasher) پر قبضے کے بعد سے 4 خواتین سمیت 20 طبی ماہرین کو حراست میں لے رکھا ہے۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔