امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ: دسویں رات کے حملے براہ راست جنگ کی طرف اشارہ کر رہے ہیں
جبکہ آبنائے ہرمز آگ کے گولوں میں تبدیل ہو چکا ہے، امریکہ اور ایران ایک ایسی براہ راست فوجی محاذ آرائی میں دھنس چکے ہیں جس سے خطے میں دہائیوں پر محیط روایتی ضبط و تحمل کے خاتمے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
This report synthesizes conflicting military claims from U.S. Central Command and Iranian state media regarding maritime safety; the 'Disputed Claims' tag acknowledges the contradictory accounts of the situation in the Strait of Hormuz.

"ایران اب امریکہ کے ساتھ 'باقاعدہ جنگ' لڑ رہا ہے۔"
تفصیلی جائزہ
پروکسی جنگوں سے براہ راست فوجی مقابلے تک کا سفر خطے میں جارحیت روکنے کی پالیسی کی ناکامی ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے ان حملوں کو ہلاک ہونے والے فوجیوں کے 'اعزاز' میں قرار دینا ظاہر کرتا ہے کہ اب امریکی فوجی پالیسی پر تزویراتی حکمت عملی کے بجائے اندرونی سیاسی دباؤ اور انتقام کا عنصر زیادہ غالب ہے۔ ایرانی سرزمین اور اس کے معاشی راستوں کو نشانہ بنا کر امریکہ یہ جوا کھیل رہا ہے کہ برتر فوجی طاقت ایران کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دے گی، مگر بحرین میں امریکی اثاثوں اور ٹینکرز پر تہران کے جوابی حملے بتاتے ہیں کہ وہ ایک طویل جنگ کے لیے تیار ہیں۔
آبنائے ہرمز کی سیکورٹی کے حوالے سے انٹیلیجنس رپورٹس میں بڑا تضاد پایا جاتا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کا دعویٰ ہے کہ تجارتی جہاز اب بھی محفوظ طریقے سے گزر رہے ہیں، جبکہ ایرانی سرکاری میڈیا (IRNA) اور IRGC کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے اس 'غیر محفوظ اور پرخطر' راستے پر نقل و حرکت روک دی ہے۔ UKMTO کی جانب سے ایک ٹینکر کو چھوڑنے کی رپورٹ ایرانی دعوے کو تقویت دیتی ہے کہ وہ امریکی مہم کے باوجود عالمی توانائی کی ترسیل کو متاثر کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
پس منظر اور تاریخ
امریکہ اور ایران کے تعلقات 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے ہی کشیدہ رہے ہیں، لیکن گزشتہ دہائی میں زیادہ تر 'سایہ جنگ' (Shadow War) عراق، شام اور یمن میں ایجنٹوں کے ذریعے لڑی گئی۔ اس سے واشنگٹن اور تہران دونوں کو براہ راست جنگ سے بچنے اور عالمی تیل کی منڈیوں کو مستحکم رکھنے کا موقع ملتا تھا۔ موجودہ بحران 1980 کی دہائی کی ایران عراق 'ٹینکر وار' کی یاد دلاتا ہے، جہاں بین الاقوامی دباؤ ڈالنے کے لیے غیر جانبدار تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا جاتا تھا۔
2015 کے جوہری معاہدے کے خاتمے اور سفارتی کوششوں کی ناکامی نے دونوں ممالک کے پاس فوجی طاقت کے استعمال کے علاوہ کم ہی راستے چھوڑے ہیں۔ اردن میں ایران نواز گروہوں کے حملے اور بندر ماہ شہر جیسے ایرانی ساحلی شہروں پر براہ راست امریکی جوابی کارروائی ان 'ریڈ لائنز' کی خلاف ورزی ہے جس نے اب تک اس تنازع کو تیسرے ممالک کی زمین تک محدود رکھا ہوا تھا۔
عوامی ردعمل
دونوں ممالک کے سخت لہجے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جنگ اب ناگزیر ہو چکی ہے۔ جہاں ایرانی صدر اس صورتحال کو 'باقاعدہ جنگ' قرار دے رہے ہیں، وہیں ثالثوں کے ذریعے سفارتی پیغامات کا تبادلہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ شاید ابھی بھی کسی ایسی عارضی مہلت کی امید باقی ہے جو عالمی معیشت کو کسی بڑے جھٹکے سے بچا سکے۔
اہم حقائق
- •امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے مسلسل دسویں رات ایرانی فوجی کمانڈ سینٹرز، میزائل سائٹس اور فضائی دفاعی نظاموں پر حملے کیے۔
- •محکمہ دفاع نے اردن میں Muwaffaq Salti بیس پر ایرانی حملے کے بعد Pte Isabella Gonzales اور Lt Tyler James Feehan سمیت ایک تیسرے سروس ممبر کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔
- •یونائیٹڈ کنگڈم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (UKMTO) نے تصدیق کی ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایک ٹینکر پر پراجیکٹائل لگا، جس کے بعد عملے کو جہاز چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔