امریکی قانون سازوں کا غزہ میں کینسر کے مریضوں کے لیے طبی ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ
غزہ کا طبی انفراسٹرکچر تباہ ہونے کے بعد، 62 امریکی قانون سازوں کے ایک گروپ نے White House سے اسرائیلی انخلاء کی پابندیوں کے مہلک نتائج پر جواب طلبی کی ہے جن کی وجہ سے کینسر کی تشخیص سزائے موت بن چکی ہے۔
The brief accurately reports on the specific legislative action and UN data, though it adopts the strong humanitarian framing and critical terminology regarding Israeli military policy present in the source material.

"ایسی کوئی معقول وجہ نہیں کہ کینسر میں مبتلا بچوں کو زندگی بچانے والے علاج کے لیے 40 منٹ کا سفر کرنے کی اجازت دینا متنازع بن جائے۔"
تفصیلی جائزہ
یہ قانون سازی کا دباؤ امریکی سیاسی نظام کے اندر انسانی بحران کی قیمت کے حوالے سے بڑھتے ہوئے اختلافات کی نشاندہی کرتا ہے۔ جہاں انتظامیہ اسرائیلی سیکیورٹی پروٹوکولز کی مکمل حمایت کر رہی ہے، وہیں یہ خط غزہ میں کینسر کے شعبے کی مکمل تباہی کو نمایاں کرتا ہے۔ قانون سازوں کا 'واپسی کی ضمانت' کا مطالبہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس طبی بحران کو صرف صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ مستقل نقل مکانی کے ایک ممکنہ آلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
Al Jazeera کے مطابق، اس ناکہ بندی کو برقرار رکھنے میں امریکی 'سیاسی تحفظ' کا بڑا ہاتھ ہے، جس کی وجہ سے نظامِ صحت کی تباہی فوجی پالیسی کا نتیجہ لگتی ہے۔ انسانی ضرورت اور فوجی پابندیوں کے درمیان شدید ٹکراؤ ہے: جہاں 62 قانون ساز ان پابندیوں کو 'ظلم' قرار دے رہے ہیں، وہیں WHO کے مطابق تقریباً 11,000 کینسر کے مریض اب بھی ریڈیو تھراپی یا کیموتھراپی تک رسائی سے محروم ہیں۔
پس منظر اور تاریخ
غزہ میں صحت کا بحران گزشتہ دو دہائیوں سے جاری ناکہ بندی کا نتیجہ ہے جس نے ریڈیو تھراپی مشینوں جیسی جدید طبی ٹیکنالوجی کی آمد کو روکا۔ 2023 سے پہلے بھی، مریضوں کو مشرقی یروشلم کے ہسپتالوں تک پہنچنے کے لیے ایک پیچیدہ پرمٹ سسٹم پر انحصار کرنا پڑتا تھا، جسے WHO نے اکثر مسترد کیے جانے کی شرح زیادہ ہونے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔
2025 میں Turkish-Palestinian Friendship Hospital کی تباہی نے مقامی سطح پر کینسر کی دیکھ بھال کے تمام راستے بند کر دیے۔ یہ اس وسیع تر تباہی کا حصہ ہے جہاں 1990 کی دہائی کے Oslo Accords کے تحت قائم کردہ طبی ہم آہنگی کا ڈھانچہ مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے، اور اب غزہ مکمل طور پر بین الاقوامی مداخلت کا محتاج ہے۔
عوامی ردعمل
قانون سازوں کے اس اقدام میں شدید اخلاقی غصہ اور مذمت پائی جاتی ہے۔ امریکی State Department کی خاموشی پر بے چینی واضح ہے، اور 'سزائے موت' جیسے الفاظ کا استعمال ظاہر کرتا ہے کہ انسانی نقصان اب سیاسی طور پر ناقابلِ برداشت حد تک پہنچ چکا ہے۔
اہم حقائق
- •ایوانِ نمائندگان کے 51 ارکان اور 11 سینیٹرز نے سیکریٹری آف سٹیٹ Marco Rubio کو ایک باضابطہ خط لکھ کر غزہ کے کینسر کے مریضوں کے طبی انخلاء میں سہولت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
- •غزہ میں کینسر کے علاج کی واحد مخصوص سہولت، Turkish-Palestinian Friendship Hospital، کو مارچ 2025 میں اسرائیلی افواج نے تباہ کر دیا تھا۔
- •اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق، موجودہ تنازعے کے آغاز سے اب تک کم از کم 1,200 افراد طبی انخلاء کی منظوری کے انتظار میں جاں بحق ہو چکے ہیں۔
📍 مقامات
ذرائع
یہ ایک خودمختار مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کردہ خبر ہے۔